حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی فرانس گئے تو ایک دوست کہنے لگے کہ رمضان المبارک آیا، مجھے روزے رکھنے تھے تراویح پڑھنی تھی، میں نے اپنے پروفیسر سے کہا کہ مجھے چھٹی دے دو، اس نے کہا کیوں؟ میں نے کہا مجھے روزے رکھنے ہیں اور تراویح پڑھنی ہے، اس نے کہا کہ تمہیں چھٹی کی کیوں ضرورت ہے؟ میں نے کہا مجھے فلاں جگہ جانا ہے اور وہاں سے میں روز آ نہیں سکتا،
اس نے کہا کہ میں تمہیں یہیں جگہ دیتا ہوں، میں نے کہا کہ بہت اچھا، وہ مجھے یونیورسٹی میں ایک جگہ لے گئے جہاں پر گورے چٹے نوجوان لڑکے کالی داڑھیاں ، عمامے باندھے ہوئے، جبے پہنے ہوئے، مسواک سے وضو کر رہے ہیں، نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اذانیں دے رہے ہیں، قرآن پاک ایک آگے پڑھ رہا ہے، دوسرے پیچھے سن رہے ہیں، روزے رکھ رہے ہیں، پورا مہینہ، پھر اعتکاف میں بھی بیٹھے ، پھر صبح شام جیسے روزی کی سحری و افطاری ہوتی ہے، اس کے مطابق کر رہے ہیں، کہنے لگے کہ میں عید پڑھ کر واپس آیا تو میں نے ٹیچر سے کہا کہ آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے مجھے ایسے نیک لوگوں سے ملا دیا، میرا رمضان شریف تو بڑا اچھا گزرا، وہ مسکرا کے کہنے لگا کہ آپ کو پتہ ہے یہ سب یہودی تھے؟ میں نے کہا مجھے تو پتہ نہیں ہے، کہنے لگا کہ انہوں نے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے کہ اسلام میں مسلمانوں کو جیسے روزے رکھنے کے لیے کہا گیا ہے تم ہوبہو ایک مہینہ اس طرح دیکھو کہ اس میں کیا اچھائیاں ہیں، کیا برائیاں ہیں، اچھائیاں ہوں گی ہم بن کہے قبول کر لیں گے اور جو خامیاں ہوں گی اس کے خلاف پروپیگنڈہ کریں گے۔اب بتائیے! آج دنیا میں یہ کام ہو رہاہے، ہمارے نوجوان بیرون ملک جن یونیورسٹیوں سے اسلامیات کی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیتے ہیں وہاں پر اسلامیات کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ یہودی ہوتے ہیں، اب بتائیے دنیا میں اس وقت اسلام کے خلاف کیا کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ اللہ اکبر اس وقت ہمارے سب سے بڑے دشمن دنیا کے اندر یہودی ہیں جو بالواسطہ اسلام کو ہر وقت نقصان پہنچانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔



















































