صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں میں مصروف ہیں۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اطلاع ملی کہ دشمن کا بحری بیڑہ آ رہاہے۔ اس پر صلاح الدین ایوبیؒ کو بڑی فکر دامن گیر ہوئی کہ مسلمانوں کی تعداد پہلے ہی سے تھوڑی ہے اور اوپر سے دشمن کا بحری بیڑہ آ رہا ہے تو یہ تو مسلمانوں پر ایک مشکل وقت آ گیا۔ چنانچہ وہ بیت المقدس پہنچے اور ساری رات رکوع و سجود میں گزار دی۔
اللہ کے حضور رونے دھونے اور دعائیں مانگنے میں گزار دی۔ صبح کی نماز پڑھ کر جب باہر نکلے تو دیکھتے ہیںکہ ایک اللہ والے کھڑے ہیں، جن کا پرنور چہرہ بتا رہا تھا کہ اللہ پاک نے انہیں کوئی روحانی طاقت عطا کی ہے۔ صلاح الدین ایوبی قریب ہوئے کہ ان سے دعا کرواتا ہوں۔ چنانچہ سلام کیا۔ عرض کیا کہ حضرت دعا فرمائیے۔ دشمن کا بحری بیڑہ آ رہا ہے۔ انہوں نے صلاح الدین ایوبی کے چہرے کو دیکھا۔ وہ بھی مادے سے پار کو دیکھنا جانتے تھے۔ ان کو بھی اللہ نے کوئی بصیرت دی ہوئی تھی۔ پہچان گئے، فرمانے لگے، صلاح الدین ایوبی تیرے رات کے آنسوئوں نے دشمن کے بحری بیڑہ کو ڈبو دیا ہے اور واقعی تین دن بعد اطلاع ملی کہ دشمن کا بحری بیڑہ راستہ میں غرق ہو چکا ہے تو جو انسان راتوں کو اٹھ کر مانگتا ہے، اللہ رب العزت اس کے لیے دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے ہاتھ کیا اٹھ جاتے ہیں، اللہ رب العزت تقدیروں کے فیصلے کر دیتے ہیں۔ یہ معمولی بات نہیںہوتی، یہ بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس دل کو بنانے کی ضرورت ہے۔



















































