حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے کہا کہ میرے ایک دوست کہنے لگے کہ میں ریل گاڑی میں سفر کر رہا تھا ایک نوے سال سے زیادہ عمر کی بوڑھی عورت مجھے کہنے لگی، کیا آپ مسلمان ہیں؟ میں نے کہا، ہاں میں مسلمان ہوں، کہنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ مسلمان وعدے کے بڑے پابند ہوتے ہیں، میں نے کہا، ہاں بڑے پابند ہوتے ہیں، کہنے لگی: کیا آپ مجھ سے ایک وعدہ کر سکتے ہو؟
جی مجھے بتائیں کہ میں کیا وعدہ کروں، کہنے لگی، بس آپ مجھے وعدہ کریں پھر میں آپ کو بتاؤں گی، میں نے کہا مجھے بتاؤ تو سہی کہ کیا وعدہ لینا ہے، کہنے لگی کہ وعدہ یہ لینا ہے کہ آپ امریکہ میں جہاں بھی کہیں ہوں روزانہ پانچ منٹ کے لیے مجھے Call Collect کر دیا کریں Collect call ایسے ٹیلی فون کو کہتے ہیں کہ آپ ٹیلی فون سے کسی آدمی کو فون کریں مگر بل آپ کی بجائے اس بندے کو آئے گا، جس کو ٹیلی فون کیا جا رہا ہے، گویا وہ کہہ رہی تھی کہ بل میں ادا کروں گی، میں نے پوچھا کیوں؟ آپ کے بچے نہیں ہیں؟ کہنے لگی کہ بچے تو ہیں مگر ان کے پاس مجھے ملنے کے لیے ٹائم نہیں ہے، میرا بہت بڑا گھر ہے، مجھے اتنی پنشن ملتی ہے، مجھے خرچ کی پرواہ نہیں، مگر میں اپنے بچوں کو یاد کرتی ہوں اور اتنے بڑے گھر میں سارا دن اکیلی رہتی ہوں، جس کی وجہ سے اب میری صحت بھی خراب ہوتی چلی جا رہی ہے، اگر آپ مجھے کال کرنے کا وعدہ کریں تو 24 گھنٹوں میں مجھے انتظار رہے گا کہ کبھی نہ کبھی میرے فون کی گھنٹی بجے گی، میں یہی سمجھوں گی کہ امریکہ میں کوئی بندہ تو میرے بارے میں سوچ رہا ہوگا، اس طرح آپ کے فون کے انتظار میں مجھے سارا دن جینے کے لیے ایک طاقت مل جائے گی۔اب بتائیے کہ جس ماں کی اسی ملک میں اولاد بھی موجود ہے۔ وہ ماں پانچ منٹ کے لیے کسی سے بات کرنے کو ترستی پھرتی ہے، یہ یورپی اور امریکی سوسائٹی کا سب سے کمزور پہلو ہے۔



















































