حضرت خواجہ فضل علی قریشیؒ کی خانقاہ مسکین پور شریف میں دور دراز سے سالکین آ کر قیام کرتے اور تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کی محنت کرتے تھے، عام طور پر یہ حضرات جب فجر کے وقت قضائے حاجت کے لیے بستی سے باہر ویرانے میں جاتے تو واپسی پر کچھ خشک لکڑیاں بھی اٹھا کر لے آتے،
حضرت مولانا عبدالغفور مدنیؒ کی عادت شریفہ تھی کہ لکڑیوں کا بہت بڑا گٹھڑ سر پر اٹھا کر لاتے، مقامی لوگ اتنا بڑا گٹھڑ دیکھ کر حیران ہوتے اور آپس میں طنز و مزاح کرتے، یہ باتیں کسی ذریعہ سے حضرت قریشیؒ کو پہنچیں تو حضرتؒ نے حضرت مولانا عبدالغفور مدنی ؒ کو بلا کر فرمایا، مولانا! آپ اتنا بڑا گٹھڑ سر پر نہ لایا کریں، بس تھوڑی سی لکڑیاں بھی لے آئیں گے تو کارخیر میں شرکت ہو جائے گی، حضرت مولانا عبدالغفور مدنیؒ نے عرض کیا، حضرت! مجھے اس میں کوئی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی، میں اپنے شوق سے لے کر آتا ہوں، حضرت قریشیؒ نے فرمایا، مولانا! یہاں کے مقامی لوگ جاہل ہیں یہ لوگ آپ کی قدرنہیں جانتے، لہٰذا آپ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں حضرت مولانا مدنیؒ نے پوچھا، حضرت! آخر کیا باتیں کرتے ہیں؟ فرمایا کہ مولانا! جب آپ اتنا بڑا گٹھڑ سر پر لا رہے ہوتے ہیں تو یہ لوگ آپ کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں، دیکھو پیر قریشی نے خراسان سے گدھا منگوایا ہے، حضرت مولانا عبدالغفور مدنیؒ نے فوراً کہا، حضرت! یہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں اسی لیے گدھا کہتے ہیں، سبحان اللہ تواضع کا کیا عالم تھا۔



















































