اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک آفیسر نے قلی کا دل جیت لیا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

ایک آدمی گورنمنٹ کے کسی محکمہ کا آفیسر تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی داستان میں اپنا ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ لکھا ہے، میں آپ کو وہ واقعہ سنا دیتا ہوں۔وہ ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اسے ایک مرتبہ کسی سرکاری دورے پر ایک شہر سے دوسرے شہر جانا تھا۔ اسے ریل گاڑی کے ذریعے جانا تھا۔ چنانچہ وہ اسٹیشن پر پہنچا اور اس نے ٹکٹ خریدا۔ گاڑی جس لائن پر کھڑی تھی اسے وہاں پہنچنا تھا۔ اس نے سامان اٹھانے کے

لیے قلعی کو بلایا اور اسے کہا کہ بھئی! میرا سامان فلاں پلیٹ فارم پر پہنچا دو۔ اس نے کہا، جی بہت اچھا۔ اور سامان اٹھا لیا۔ چونکہ وقت بہت کم تھا اس لیے وہ تیزی سے پلیٹ فارم کی طرف چلا۔ پیچھے سے قلی بھی سامان اٹھا کر بھاگا، وہ آدمی تیز تیز چل کر پلیٹ فارم پر بوگی کے دروازے پر جلدی پہنچ گیا لیکن بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے قلی وقت پر نہ پہنچ سکا۔ اس وقت اس کو بہت غصہ آیا۔ یہاں تک کہ گارڈ نے وسل دے دیا اور گاڑی چلنا شروع ہو گئی۔ وہ اس پر چڑھ بھی نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس کا سامان پیچھے تھا۔ بالآخر اسے گاڑی چھوڑنا پڑی۔جب وہ گاڑی سے رہ گیا تو اسے بہت افسوس ہوا کہ میرا پروگرام مس ہو گیا ہے۔ جب گاڑی چل دی اور مسافروں کو الوداع کہنے والے لوگ بھی چلے گئے تو اس وقت وہ قلی پسینے سے شرابور سامان اٹھائے ہوئے اس کے پاس آیا۔ اس کے چہرے پر بڑی ندامت اور شرمندگی تھی۔ وہ کہنے لگا، صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے یہاں پہنچنے کی بڑی کوشش کی لیکن راستے میں اتنی بھیڑ تھی کہ راستہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ اب گاڑی تو جا چکی ہے، اب اگر میں اس بے چارے پر غصہ کروں گا بھی تو مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ چنانچہ اس نے اسے پیار سے کہا کوئی بات نہیں، اللہ کو ایسا ہی منظور تھا۔ چلو میں کل چلا جاؤں گا جیسے ہی اس نے یہ کہا، اس قلی کے چہرے پر بشاشت آ گئی اور کہنے لگا، اچھا میں آپ کا

سامان آپ کی گاڑی میں پہنچا دیتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اس کا سامان گاڑی تک پہنچا دیا۔ اس نے وہ رات وہیں گزاری۔ اگلے دن وہ وقت سے کچھ زیادہ پہلے اسٹیشن پر پہنچ گیا۔ جب وہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہی قلی پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا جیسے ہی اس نے دیکھا تو اس سے ایسے گرم جوشی سے ملا جیسے کوئی بڑا ہی عزیز ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس قلی نے اس کا سامان سر پر اٹھا لیا اور کہنے لگا، صاحب! آج تو ابھی رش نہیں ہوا لہٰذا آج تو آپ کو پہنچا ہی دوں گا۔

جب قلی نے اس کا سامان پلیٹ فارم پر پہنچا دیا اور اس نے اسے پیسے دینے چاہے تو وہ کہنے لگا نہیں صاحب! میں پیسے نہیں لوں گا کیونکہ میری ہی غلطی کی وجہ سے آپ کی ٹرین مس ہوئی تھی۔ اس نے پیسے دینے کی بڑی کوشش کی لیکن قلی نے اس کی منت سماجت کرنی شروع کر دی کہ آپ مجھے پیسے نہیں دیں گے تو میں زیادہ خوش ہوں گا۔ بالآخر اس نے پیسے نہ لیے۔قلی نے اسے گاڑی پر بٹھایا اور بوگی کے باہر آ کر اس کے ساتھ والی کھڑکی کھول کر کھڑا ہو گیا

اور گاڑی کے چلنے تک وہ اسے بڑی احسان مندانہ نظروں سے دیکھتا رہا اور جب گاڑی چلنے لگی تو اس قلی نے اسے ایسی محبت سے الوداع کیا کہ اسے پوری زندگی میں کبھی کسی رشتہ دار نے اتنی گرم جوشی کے ساتھ الوداع نہیں کیا تھا۔اس نے اس واقعہ کے بعد لکھا ہے کہ لیٹ ہونے کا جو غم تھا وہ تو رات کو ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کی محبت بھری الوداعی نظر آج بیس سال گزرنے کے بعد بھی میرے دل میں ٹھنڈک پیدا کر دیتی ہے۔

اب دیکھئے کہ وہ بندہ دو گالیاں دے کر اپنے دل کا غصہ ٹھنڈا بھی کر سکتا تھا اور وہ سن کر گھر چلا جاتا لیکن اس نے معاف کر دیا۔ اور اس معاف کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے احسان مانا۔ اس دن بھی اس کا سامان پہنچایا اور اگلے دن بھی سامان پہنچایا۔ حتیٰ کہ جب تک وہ روانہ نہ ہوا وہ پلیٹ فارم پر ہی کھڑا رہا۔ اس کے لیے دعائیں بھی کرتا رہا اور اسے محبت بھری نظروں سے الوداع بھی کیا۔

جی ہاں! جب انسان دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیتا ہے تو ان کی غلطیوں کی تکلیف تو یاد نہیں ہوتی لیکن معاف کر دینے کا مزہ اسے زندگی بھر نصیب ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے جب کبھی کوئی معافی مانگنے آئے تو سب سے پہلے اپنی آخرت کے بارے میں سوچیں کہ اگر میں نے آج اس کو معاف نہ کیا تو پھر میں قیامت کے دن اللہ رب العزت سے کس منہ سے معافی مانگوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…