فقیر نے ایک مرتبہ سویڈن کے ایک کالج میں اسلام کے عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جو آج تک اصلی حالت میںموجود ہے، ایک عیسائی لڑکی نے سوال کیا کہ ہمارے پاس اصلی کتاب نہیں ہے؟ فقیر نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ حضرت عیسیٰؑ پر انجیل کس زبان میں نازل ہوئی؟ کہنے لگی، سریانی زبان میں، میں نے پوچھا کہ آج کس زبان میں ہے؟ کہنے لگی، انگریزی زبان میں، فقیر نے کہا،
معلوم ہوا کہ جس زبان میں نازل ہوئی تھی آج اس زبان میں انجیل آپ کے پاس موجود نہیں ہے لڑکی کہنے لگی ہاں میں تسلیم کرتی ہوں کہ ہمارے پاس اس کا انگریزی ترجمہ ہے، فقیر نے کہا کہ اس کو آپ خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے، اس نے ساری کلاس کے سامنے تسلیم کیا کہ واقعی اصل انجیل اس وقت موجود نہیں ہے۔
ذلک الکتاب لاریب فیہ
جرمنی میں میونخ یونیورسٹی کا ایک مذہبی شعبہ ’’ڈیپارٹمنٹ آف تھیالوجی‘‘ کے نام سے مشہور ہے وہاں کے پروفیسر نے بہت ساری رقم مختص کروائی تاکہ وہ دنیا کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کی کتاب (قرآن مجید) کو اکٹھا کرکے دیکھیں کہ ان میں کیا کوئی فرق تو نہیں چنانچہ پوری دنیا کے مختلف علاقوں سے قرآن پاک کے چالیس ہزار نسخے اکٹھے کیے گئے اور ان سب نسخوں کے ایک ایک حرف اور ایک ایک نقطے کو جب آپس میں ملایا گیا تو کہیں بھی فرق نہ نکلا، سبحان اللہ، اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ’’اس نصیحت نامے کو ہم نے نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے) بہرحال قرآن پاک کے جمع ہونے میں کوئی آدمی شک نہیں کر سکتا، پس یہ خدا کا کلام ہے۔
پتوں پر لکھا قرآن بھی دیکھا ہم نے…
فقیر کو سمر قند جانے کا موقع نصیب ہوا تو وہاں کی لائبریری میں لوہے کی تختیوں پر لکھا ہوا قرآن پاک دیکھا، لائبریری کی انچارج عورت نے ایک دوسرا نسخہ دکھایا، کہنے لگی، یہ ایک نادر چیزہے، جب فقیر نے دیکھا تو آپ یقین کیجئے کہ اس کے پتوں کی رگیں ابھی تک اس طرح صاف نظر آتی ہیں، فقیر نے ان کو ہاتھ لگا کردیکھا، وہ درخت کے پتے تھے مگر انہیں کتابی شکل میں بند کیا گیا تھا، یہ معلوم نہیں کہ کب لکھا گیا تھاتاہم یہ یقینی طور پر کاغذ کی ایجاد سے پہلے کی بات ہو گی۔ سبحان اللہ آج تک پتوں پر لکھا ہوا قرآن محفوظ ہے۔



















































