اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

نعمت کی ناقدری پر مل کر رہتی ہے سزا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

عزیز طلباء! نعمتوں کی قدردانی ان کی موجودگی میں کرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ رب العزت کا جلال ظاہر ہو جائے۔ ایک عورت تنور پر روٹیاں پکایا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیٹا دیا۔ اس کا بیٹا چلنے پھرنے کی عمر کا ہو گیا۔ اسے اپنی ماں کے ساتھ بہت محبت تھی۔ لہٰذا وہ ماں کے ساتھ ہی ہر وقت چمٹا رہتا تھا، ماں چاہتی تھی کہ روٹیاں پکاتے وقت یہ کہیں کھیلے، آرام کرے سو جائے لیکن وہ پھر اٹھ کر آ جاتا تھا،

ایک دن وہ بڑی تنگ ہوئی، لہٰذا اس نے اسے بستر پر لٹایا اورکہا، خبردار! اگر اب تو میرے پیچھے آیا تو میں ماروں گی، آنکھیں بند کر اور سو جا۔ اس کے بعد اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بچہ اٹھا اور روتا ہوا پھر آ گیا۔ وہ ان پڑھ جاہل تھی۔ لہٰذا اس نے غصے میں کہہ دیا، مڑاٹھی کے آ گیا ایں توں تاں ستاسیں ونجیں ہا‘‘ مطلب یہ کہ تجھے تو سلایا تھا تو ہمیشہ کی نیند سو ہی جاتا تو بہتر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بددعا کو قبول فرما لیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس وقت بچے کو موت نہ دی۔ وہ بچہ بڑا ہوا۔ اسکول کے اندر تعلیم میں فرسٹ آیا۔ کالج کے اندر بھی فرسٹ آیا، حتیٰ کہ ایک کامیاب بزنس میں بنا، وہ اتنا خوب صورت تھا کہ جب وہ گلیوں میں چلتا تھا تو مرد لوگ اسے دیکھ کر رشک کرتے کہ جوان بیٹا ہو تو ایسا ہونا چاہیے۔ماں نے اس کے رشتے کے لیے اپنے پورے خاندان میں سے چن کر لڑکی ڈھونڈی۔ شادی کے لیے تیاریاں مکمل کر لیں۔ ابھی شادی میں ایک دو دن باقی تھے کہ کوئی کام کرتے ہوئے اس نوجوان کا پاؤں پھسلا وہ گردن کے بل گرا اور اس کی جان نکل گئی۔ اب جب ماں نے اس کی لاش دیکھی تو وہ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی اور پاگل ہو گئی۔ وہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہ کر سکی۔اب وہ گلیوں میں پاگلوں کی طرح پھرتی رہتی اور تنکے چنتی رہتی۔ لڑکے اسے پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے مگر وہ پاگل نہیں تھی، اس سے اللہ تعالیٰ نے جلال میں آ کر بیٹے والی نعمت

لے لی تھی۔ گویا بد دعا کے وقت اللہ تعالیٰ نے اسے فرما دیا کہ اچھا میں نے تمہیں بیٹے کی نعمت دی اور تو اس کی ناقدری کرتے ہوئے بد دعا دیتی ہے کہ تو سویا ہی رہ جاتا، ہاں میں ابھی اس کو موت نہ دوں گا، بلکہ میں اس نعمت کو پروان چڑھنے دوں گا۔ حتیٰ کہ جب یہ پھل پک کر تیار ہو جائے گا، تو میں تیار شدہ پھل کو توڑوں گا تاکہ تجھے احساس ہو کہ تو نے میری کس نعمت کی ناقدری کی ہے۔ وہ عورت اپنے بیٹے کی یاد میں یہ پڑھا کرتی تھی۔

آؤے ماہی تینوں اللہ وی لیاوے تو تیریاں نت وطنا تے لوڑاں۔۔۔کملی کرکے چھوڑ گیوں تے میں ککھ گلیاں دے رولاں۔یہ عاجز اسی لیے بار بار کہا کرتا ہے کہ نعمتوں کی قدردانی کے لیے نعمتوں کے چھن جانے کا انتظار نہ کرنا۔ جب اللہ تعالیٰ نعمت کو چھین لیتے ہیں تو پھر دوبارہ ناقدر کو نہیں دیا کرتے۔ اس لیے نعمت کی موجودگی میں اس کی قدردانی کی عادت ڈالیں۔ گھر نعمت ہے۔ اولاد نعمت ہے۔ ماں باپ نعمت ہیں، بہن بھائی نعمت ہیں۔ مسلمان بھائی نعمت ہیں، صحت نعمت ہے، سکون نعمت ہے، رزق حلال نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سب نعمتیں عطا کر دی ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی ضرور قدر دانی کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…