حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کے ایک دوست نے انہیں عجیب واقعہ سنایا۔ ایک صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ اس کی آنکھ کے اوپر کا پردہ کٹ گیا۔ کہنے لگے ایک دو گھنٹے تو آنکھ پر جم جائے۔ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا کہ ہوا میں کتنے باریک باریک ذرات مٹی کی شکل میں ہتے ہیں جو جمتے رہتے ہیں۔
اکثر آپ دیکھیں گے کہ اگر کوئی چیز رکھیں دوسرے دن اس پر مٹی نظر آئے گی۔ ہماری آنکھ کے اوپر اللہ نے پردہ بنا دیا، یہ بند ہوتا ہے اور کھلتا ہے۔ بند ہوتاہے کھلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا پانی اندر سے خارج ہوتا ہے تو پانی کے ساتھ جیسے کسی چیز کو جھاڑو لگاتے ہیں یہ اللہ نے جھاڑو کا انتظام کیا ہوا ہے۔ یہ بند ہوتا ہے کھلتا ہے۔ جھاڑو چل رہا ہوتا ہے۔ جب اس کی آنکھ کے اوپر والا گوشت کا پردہ کٹ گیا تو آنکھ ہر وقت بالکل ننگی رہنے لگی۔ مصیبت یہ بنی کہ ہا میں معلق ذرات کی وجہ سے آنکھ پر مٹی کی تہہ آ جائے تو تھوڑی دیر کے بعد دھونا پڑے۔ پھر مٹی جم جائے پھر دھونا پڑے۔ دن میں کوئی پچاس دفعہ دھونا پڑے۔ اب ایک دن میں پچاس دفعہ پانی ڈالا نہیں جاتا، لوگ عیادت کرنے آئے تو کہنے لگا کہ آنکھ کا چھوٹا سے پردہ تھا کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو رات کو سوتے وقت اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ مانگتے تو ہم سب ہیں مگر اس کے دینے کا شکر ادا کرنے والے تھوڑے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انسان کے دل میں غفلت ہوتی ہے۔ جب غفلت ہو انسان کا رویہ اور ہوتا ہے اور جب دل میں استحضار ہو، معرفت ہو پھر رویہ کچھ اور ہوتا ہے۔



















































