حضرت مولانا بدرعالمؒ ترجمان السنتہ میں ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی تھے۔ ان میں سے ایک برص کا مریض تھا۔ اس کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا کہ بھئی! کیا آپ کی کوئی پریشانی ہے؟ اس نے کہا۔ میں کون سی پریشانی آپ کو بتاؤں؟ ایک تو میں برص کا مریض ہوں جس کی وجہ سے لوگ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے، دوسرا رزق کی بڑی تنگی ہے۔ اس آدمی نے کہا، اچھا اللہ تعالیٰ آپ کی
بیماری بھی دور کر دے اور آپ کے رزق میں برکت بھی عطا فرما دے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری بھی دورکردی اور اللہ تعالیٰ نے اسے ایک اونٹنی عطا فرمائی۔ اس اونٹنی کی نسل اتنی بڑھی کہ وہ ہزاروں اونٹوں اور اونٹنیوں کے ریوڑ کا مالک بن گیا۔ جس کی وجہ سے وہ بڑا امیر آدمی بن گیا اور رہائش کے لیے محلات بنا لیے۔دوسرا آدمی گنجا تھا۔ وہ آدمی اس گنجے کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی پریشانی ہے؟ اس نے کہا، جناب میرے سر پر تو بال ہی نہیں ہیں۔ جس کے پاس بیٹھوں وہی مذاق کرتا ہے۔ جو کاروبار کرتا ہوں، ٹھیک نہیں چلتا۔ اس نے کہا اچھا اللہ تعالیٰ تجھے سر پر خوب صورت بال بھی عطا کرے اور تجھے اللہ تعالیٰ رزق بھی دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک گائے عطا کی۔ اس گائے کی نسل اتنی بڑھی کہ وہ ہزاروں گائیوں کے ریوڑ کا مالک بن گیا۔ وہ بھی عالیشان محل میں بڑی ٹھاٹھ کی زندگی گزارنے لگ گیا۔تیسرا آدمی آنکھوں سے اندھا تھا وہ آدمی اس اندھے کے پاس گیا اور اس سے پوچھا بھئی! آپ کو کوئی پریشانی تو نہیں؟ اس نے کہا، جی میں تو دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہوں، لوگوں کے گھروں سے جا کر مانگتا ہوں، ہاتھ پھیلاتا ہوں، میری بھی کوئی زندگی ہے۔ ٹکڑے مانگ مانگ کر کھاتاپھرتا ہوں۔ میں نہ اپنی ماں کو دیکھ سکتا ہوں اور نہ باپ کو۔ اس کے علاوہ رزق کی تنگی بھی ہے۔ اس آدمی نے اس کی بینائی کے لیے اور رزق کی
فراخی کے لیے دعا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بینائی بھی دے دی اور اس کو ایک بکری دی۔ اس بکری کا ریوڑ اتنا بڑھا کہ وہ ہزاروں بکریوں کا مالک بن گیا۔ اس طرح وہ بھی عالیشان محل میں عزت کی زندگی گزارنے لگ گیا۔ کئی سالوں کے بعد وہ تینوں اپنے وقت کے سیٹھ کہلانے لگے۔کافی عرصہ گزرنے کے بعد وہی آدمی پہلے کے پاس آیا۔ اس نے اسے کہا کہ میں محتاج ہوں۔ اللہ کے نام پر مانگنے کے لیے آیا ہوں۔ اسی اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے۔ آپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آج اتنا کچھ آپ کے پاس ہے،
آپ اس میں سے اسی اللہ کے نام پر مجھے بھی کچھ دے دیں۔ جب اس نے سنا کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تھا تو اس کا پارہ چڑھ گیا اور کہنے لگا۔ ذلیل قسم کے لوگ مانگنے کے لیے آ جاتے ہیں۔ خبردار ایسی بات آئندہ نہ کرنا۔ میں امیر، میرا باپ امیر اور میرا دادا بھی امیر تھا۔ ہم تو جدی پشتی امیر ہیں تم کون ہو بات کرنے والے کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ چلے جاؤ یہاں سے ورنہ میں جوتے لگواؤں گا۔ چنانچہ اس نے کہا، اچھا میاں ناراض نہ ہونا تم جیسے تھے اللہ تمہیں ویسا ہی کر دے۔
وہ جب یہ کہہ کر چلا گیا تو اس کے جانوروں میں ایک بیماری پڑ گئی اور اس کے سب اونٹ وغیرہ مر گئے اور برص کی بیماری بھی دوبارہ لگ گئی۔ گویا وہ جس پوزیشن میں تھا اسی پوزیشن میں دوبارہ لوٹ آیا۔اس کے بعد دوسرے شخص کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میں محتاج ہوں میں اسی اللہ کے نام پر مانگنے آیا ہوں جس نے آپ کو سب کچھ دیا ہے۔ آپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آج اتنا کچھ ہے۔ جب اس نے یہ بات کی تو وہ بڑا غصے میں آ گیا اور کہنے لگا۔ تم مفت خورے ہو، ہم نے کما کر اتنا کچھ بنایا ہے۔
میں نے فلاں سودا کیا تو اتنی بچت ہوئی اور فلاں سودا کیاتو اتنے کمائے۔ لوگ مجھے بڑا بزنس مائنڈیڈ کہتے ہیں۔ میری تو یہ خون پسینے کی کمائی ہے۔ ایسے ہی درختوں سے توڑ کر نہیں لائے اور نہ یہ چوری کا مال ہے۔ اب چلا جا یہاں سے ورنہ دو تھپڑ لگاؤں گا۔ جب اس امیر آدمی نے خوب ڈانٹ ڈپٹ کی تو اس نے کہا۔ بھئی ناراض نہ ہونا تم جیسے پہلے تھے اللہ تمہیں دوبارہ ویسے ہی کر دے۔ چنانچہ اس کے سر کے بال بھی غائب ہوگئے اور اللہ رب العزت نے اس کی گائیوں میں ایک ایسی بیماری پیدا کر دی
جس سے سب گائیں مر گئیں اس طرح جیسا وہ پہلے تھا ویسا ہی بن گیا۔اس کے بعد وہ تیسرے کے پاس گیا اور اسے کہا، بھئی! میں اللہ کے نام پر مانگنے آیا ہوں جس نے آپ کو سب کچھ دیا ہے۔ آپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آج اتنا کچھ ہے۔ اب اسی اللہ کے نام پر مجھے کچھ دے دو۔ جب اس نے یہ بات کی تو اس کی آنکھوں میں سے آنسو آ گئے۔ وہ کہنے لگا بھئی! تم نے بالکل سچ کہا۔ میں تو اندھا تھا، لوگوں کے لیے تو رات کو اندھیرا ہوتا ہے اور میرے لیے تو دن میں بھی اندھیرا ہوا کرتا تھا۔
میں تو در در کی ٹھوکریں کھاتا تھا۔ لوگوں سے مانگ مانگ کر زندگی گزارتا تھا۔ میری بھی کوئی حالت تھی؟ کوئی خدا کا بندہ آیا، اس نے مجھے دعا دی۔ اللہ نے مجھے بینائی بھی دے دی اور اتنا رزق بھی دے دیا۔ آج آپ اس اللہ کے نام پر مانگنے کے لیے آئے تو میاں! ان دو پہاڑوں کے درمیان ہزاروں بکریاں پھر رہی ہیں۔ جتنی چاہو تم اللہ کے نام پر لے جاؤ۔ جب اس امیر آدمی نے یہ بات کی تو مخاطب کہنے لگا۔ مبارک ہو،
میں تو اللہ کا فرشتہ ہوں۔ اللہ نے مجھے تین بندوں کی طرف آزمائش بنا کر بھیجا تھا۔ وہ تو اپنی اوقات کو بھول گئے ہیں مگر تم نے اپنی اوقات کو یاد رکھاہے۔ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں اور زیادہ برکت عطا فرمائے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ وہ آدمی بنی اسرائیل کا سب سے بڑا امیر کبیر آدمی تھا، ثابت ہوا کہ بندہ اگر اپنی اوقات اور بنیاد کو یاد رکھے تو اللہ تعالیٰ برکت دے دیتے ہیں۔



















































