بیت اللہ شریف کی برکت کا ایک واقعہ بھی آپ کو سناتا چلوں۔ ایک نوجوان کسی فیکٹری میں ہمارے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ اتنا خوبصورت تھا کہ اسے دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا تھا۔ اس کے نقش نین اس کا قد اور اس کا ڈیل ڈول قابل دید تھا اور اس کی چھاتی ایسی باڈی بلڈرز کی طرح تھی کہ اگر اس کے سینے پر پانی کا گلاش رکھتے تو وہ بھی ٹھہر سکتا تھا۔ جب وہ چلتا تو پتہ چلتا تھا کہ ایک نوجوان چل کے آ رہا ہے۔
جہاں اس کی شخصیت خوبصورت تھی وہاں اللہ تعالیٰ نے اسے مال و متاع بھی بڑا دیا تھا۔ وہ کئی مربع زرعی زمین کا وارث تھا۔ اس کا ایک اور بھائی بھی تھا جو میجر تھا۔ وہ نوجوان یونیورسٹی کے ماحول میں جا کر دہریہ بن گیا تھا۔ جب ہمیں پتہ چلا کہ وہ دہریہ ہے تو ہمیں تشویش ہوئی۔ میں نے اپنے ساتھ والے انجینئر سے کہہ دیا کہ آپ لوگوں نے اس سے کوئی بحث نہیں کرنی۔ البتہ جب کبھی کوئی بات ہوئی تو یہ عاجز فقیر ہی اس سے بات کرے گا۔ چونکہ ہم دونوں کا ایک ہی عہدہ تھا اس لیے وہ میرے ساتھ ذرا حساب سے بات کرتا تھا۔ اس نے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں، کسی سے کہتا، یار! جس طرح تم اللہ سے ڈرتے ہو میں نہیں ڈرتا۔ کبھی کچھ کہتا اور کبھی کچھ… کوئی ملازم آ کر کہتا، جی مجھے چھٹی چاہیے، وہ پوچھتا کیوں؟ وہ بتاتا کہ مجھے جماعت کے ساتھ جانا ہے، وہ آگے سے کہتا، اچھا اچھا تم جہالت پھیلانے جا رہے ہو۔ ایک دن اس نے آ کر انجینئر سے یہ کہا، یار! میں آج جنازہ پڑھنے گیا تھا میں نے کئی قبروں کو ہاتھ لگا کر دیکھا لیکن مجھے تو ان میں سے کوئی بھی گرم محسوس نہیں ہوئی اس طرح وہ Taunt (ملامت) کرتا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر ہم اس کی ہدایت کے لیے دعا بھی کیا کرتے تھے اور اس انتظار میں بھی کسی مناسب وقت میں اس سے بات کریں گے۔ ایک دن اس نے بتایا کہ میری والدہ نے میری شادی کا پروگرام بنایا ہے، ہم نے کہا، بہت اچھا، جب اس نے یہ بات ظاہر کی تو ادھر ادھر سے تجاویز آنی شروع ہو گئیں۔
کبھی کرنل کی بیٹی کے لیے ڈیمانڈ آتی تو کبھی جنرل کی بیٹی کے لیے۔ کبھی لیڈی ڈاکٹر کے لیے ڈیمانڈ آتی تو کبھی پروفیسر کے لیے۔ ہم حیران تھے کہ اس کے پاس ایک مہینے میں ایک سو نو رشتے آئے کیونکہ جو بندہ بھی اس کو دیکھتا تو اس کا جی چاہتا کہ ہمارے قریب ہی کہیں اس کا رشتہ ہو جائے۔ اس نے مجھ سے مشورہ کیا کہ اب میں کیا کروں؟ میں نے کہا، جی آپ سب کو پڑھ لیں کہ یہ کیسے کیسے لوگ ہیں؟ پھر ان میں سے جو پانچ دس آپ کو مناسب نظر آئیں ان سے ملاقات کر لیں۔ اس کے بعد آپ کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اسی بات چیت کے دوران میں نے اسے کہا، جی آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی جرأت والی گفتگو نہ کیا کریں کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ وہ کہنے لگا، آپ کہتے ہیں تو آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گا۔ ویسے میں اتنا ڈرتا نہیں ہوں۔ جب اس نے یہ بات کہی تو میں نے اس سے کہا، اچھا! پھر میری بات بھی سن لیں کہ اب آپ ذرا تیار ہو جائیں کیونکہ جو اللہ تعالیٰ پر اتنی جرأت کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں جو باتوں سے نہیں مانتا وہ لاتوں سے مانتا ہے اور آپ تو اب باتوں کی حد کراس کر گئے ہیں۔ وہ کہنے لگا، ٹھیک ہے آپ بھی یہیں ہیں اور میں بھی یہیں ہوں میں نے بھی کہا: ترجمہ: ’’پس تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والاہوں‘‘ دوسرے تیسرے دن ہمیں اطلاع ملی کہ وہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، اس کا اچانک ایکسیڈنٹ ہوا ہے، اس کو چوٹیں تو آئی ہیں مگر اتنی سیریس نہیں،
اسی وجہ سے وہ آج چھٹی پر ہے۔ ہم اس کی طبع پرسی کے لیے اس کی رہائش گاہ پر گئے۔ ہم نے اس سے پوچھا، جی آپ کا ایکسیڈنٹ کیسے ہوا؟ وہ کہنے لگا بس اچانک ہی ایکسیڈنٹ ہوا۔ سڑک بالکل صاف تھی، میں تو آرام سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے جا رہا تھا، آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا سا آیا اور میری موٹر سائیکل نیچے گر گئی۔ دوچاردن بعد اطلاع ملی کہ وہ پیدل چل رہا تھا کہ اچانک نیچے گر گیا۔ اس نے لاہور جا کر اپنا چیک اپ کروایا تو انہوں نے اس کا علاج شروع کر دیا۔ علاج کرتے کرتے کسی نے بتایا کہ اس کے عصبی نظام میں کوئی خرابی ہے، لہٰذا اس کا آپریشن کرنا پڑے گا، اس کے بھائی نے نو بریگیڈ جنرل ڈاکٹروں کا ایک پینل بنوایا۔ وہ سب کے سب باہر سے پڑھ کر اور تجربہ کرکے آئے تھے۔ انہوں نے شہر میں ایک فوجی ہسپتال میں اس کا آپریشن کیا۔ آپریشن آٹھ گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ جب وہ واپس آیا تو کچھ دنوں کے بعد اس کی طبیعت تھوڑی سی ٹھیک ہوئی۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ اب اس کو بخار ہو گیا ہے۔ بخار کا افاقہ ہوا تو پھر اس نے دفتر آنا شروع کر دیا۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ مجھے تو چیزیں دو دو نظر آرہی ہیں یعنی وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری آنکھیں ایک چیز نہیں دیکھ رہیں بلکہ ان کا فوکس (مرکز) ختم ہو چکا ہے، اب ہر آنکھ علیحدہ علیحدہ چیز دیکھ رہی ہے، اس طرح اس کو ایک کی بجائے دو بندے نظر آنے لگے، سلام اس کو کرے یا اس کو کرے۔ ایسا بندہ کارخانے میں کس طرح کام کر سکتا تھا
لہٰذا وہ گویا بیٹھ ہی گیا۔ ابھی دو چار دن ہی گزرے تھے کہ اس کے ہاتھوں سے پسینہ بہنا شروع ہوگیا۔ اتنا پسینہ کہ اگر وہ ہاتھوں کا رخ نیچے کرتا تو پانی کے قطرے نیچے ٹپک رہے ہوتے تھے۔ وہ تین چار تولیے اپنے پاس رکھتا تھا۔حتیٰ کہ اس کے لیے کسی کاغذ پر سائن کرنا مشکل ہو گیا۔ وہ عجیب مصیبت میں مبتلا تھا۔ ہم نے اسے کہا کہ یہ خدا کا ایک غیبی نظام ہے جو حرکت میں آ گیا ہے اس کا ایک ہی حل ہے کہ اپنے رب کو تسلیم کرو اور معافی مانگو۔ وہ ہنس کے ٹال دیتا اور کہتا کہ زندگی میں صحت بیماری تو ہوتی ہی رہتی ہے۔
… کیا مسلمان بیمار نہیں ہوتے؟
… کیا کفر کی صحت نہیں ہوتی؟
ہم نے کہا ٹھیک ہے اور دیکھ لو۔
اس کے بعد اسے بخار ہو گیا اور وہ لمبی چھٹی پر گھر چلا گیا۔ ایک مہینے کے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ وہ تو اپنی زندگی کے بالکل آخری لمحات میں ہے۔ ہم سرگودھا اس کے گھر اس کی عیادت کے لیے گئے۔ میں نے اس بندے کو جا کر دیکھا تو وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا۔ اس کا وزن چالیس کلو کے قریب رہ گیا ہو گا۔ اس کو کمزوری اتنی ہو چکی تھی کہ وہ اپنی کروٹ بھی خود نہیں بدل سکتا تھا۔ اس کی امی اس کو کروٹ بدلواتی تھیں، وہ اپنے ہاتھ سے روٹی بھی نہیں کھا سکتا تھا۔ وہ اپنے کپڑے بھی نہیں بدل سکتا تھا، ذرا سوچئے کہ وہ کیسا ہو گیا ہو گا۔ اس کی جوانی بھی ہم نے دیکھی تھی اور اس کا یہ حال بھی ہم نے دیکھا۔ اس کی حالت دیکھ کر مجھے دل میں بہت ہی دکھ ہوا۔
میں نے اس سے کہا کہ ہم آپ کے علاج کی کوئی تجویز بناتے ہیں ہم آپ کو باہر ملک بھجوائیں گے، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ صحت مند ہو جائیں گے، کیا آپ واپس آتے ہوئے عمرہ کرکے آئیں گے؟ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ انڈسٹری کے جو بڑے تھے ان کے ساتھ عاجز کی محبت کا ایک تعلق تھا۔ چنانچہ میں نے واپس آ کر انہیں کہا ، جی دیکھیں کہ وہ جوان آدمی ہے دنیا میں جہاں کہیں بھی اس بیمار کا علاج ہو سکتا ہے آپ اس کو وہاں بھیجیں اور اس کا خرچہ ادا کریں ، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، میں آپ کے ذمہ کر دیتا ہوں، آپ ٹکٹیں بنوائیں اور ان کو بھیجیں، میں ساری ادائیگی کر دوں گا۔ ہم نے فوراً عالمی ادارہ صحت کو خط لکھا کہ یہ بیمار ہے، پوری دنیا میں اگر کہیں اس بیماری کا علاج ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس بیماری کا علاج کینیڈا میں فقط ایک ڈاکٹر کے پاس ہے اور اس کے پاس اب تک صرف نو مریض ٹھیک ہوئے ہیں۔ ہم نے ان سے رابطہ کیا۔ اس ڈاکٹر نے بتایا کہ میری بیوی بھی اس مرض میں مبتلا تھی میں نے دن رات محنت کی اور وہ صحت مند ہو گئی اس وقت تک میرے پاس نو مریض ٹھیک ہو چکے ہیں، اگر آپ بھی آنا چاہتے ہیں تو آ جائیں اتنا اتنا خرچہ ہو گا۔ ہم نے جہاں اس کی کینیڈا کے لیے ٹکٹیں بنوائیں، وہاں ساتھ اس کے بھائی کی بھی بنوا لیں کیونکہ وہ خود تو جا نہیں سکتا تھا، اللہ کی شان کہ جب اس عاجز نے ان کی ٹکٹیں بنوائیں تو واپسی سعودی عرب کے ذریعہ بنوائیں۔ ہم نے اس کے بھائی سے کہہ دیا کہ دیکھو،
اس نے عمرہ کرنے کے لیے ہاں کی ہوئی ہے، لہٰذا آپ واپسی پر خود بھی عمرہ کرنا اور اس کو بھی عمرہ کروانا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ جب وہ واپس آیا تو جیسے ہم توقع کر رہے تھے۔ وہ وہاں علاج کروا کے صحت مند ہو جائے گا۔ اسی طرح وہ کافی صحت مند واپس آیا اور ملا۔ وہ تھوڑی دیر بیٹھا تو کہنے لگا۔ ’’نماز کا وقت ہو گیا ہے‘‘میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور کہا خیر تو ہے وہ کہنے لگا نماز کے لیے تیاری کر لیں۔ میں نے کہا نماز کے لیے تو ابھی آدھا گھنٹہ باقی ہے۔ اس وقت میں آپ ہمیں اپنے سفر کی روئیداد سنا دیں۔ اس کے بعد انشاء اللہ نماز بھی پڑھیں گے۔ اب اس نے اپنی روئیداد خود سنائی۔ وہ کہنے لگا کہ جب میں یہاںسے کینیڈا گیا تو ڈاکٹر نے مجھے مشین پر لٹا دیا۔ میرے ساتھ کمپیوٹر مشینیں جوڑ دیں اور لیبارٹری میں پتہ نہیں کہ کیا کچھ تھا۔ میری ہر چیز مانیٹر ہو رہی تھی۔ Misthenea Gravous بیماری نکلی۔ اس نے میرا پورا خون سینٹری فیوجل مشین کے ذریعہ نکال کر اس کو صاف کیا اور بیماری کا پلازما نکال کر باقی واپس کر دیا۔ اس نے ایک دفعہ بھی ایسا کیا اور پھر کئی دن بعد دوسری مرتبہ کیا اور پھر کئی دن بعد تیسری مرتبہ کیا۔ جب وہ تین دفعہ اس طرح کر چکا تو اس نے میرے بھائی کو بلایا اور کہا بھئی! آپ کے بھائی کی زندگی کے چند دن ہی ہیں، بچنے کی امید نہیں ہے۔ بھائی نے پوچھا وہ کیسے؟ اس نے کہا! ’’میں نے جتنے مریضوں کا علاج کیا،
ان کے لیے میں نے صرف ایک ایک مرتبہ یہ طریقہ اپنایا اور وہ سب ٹھیک ہو گئے جب کہ یہاں تین دفعہ یہ طریقہ استعمال کر چکا ہوں لیکن ٹھیک نہیں ہوا۔‘‘ میرے بھائی نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! جب آپ کی طرف سے جواب ہے تو بجائے اس کے کہ میں بھائی کی لاش لے کر واپس جائوں، اسے زندہ ہی لے جاتا ہوں تاکہ یہ امی کو ایک نظر دیکھ لے‘‘اس نے کہاں ہاں لے جائو… اس طرح ہم وہاں سے بغیر علاج کے واپس آ گئے، جب جدہ پہنچے تو وہاں سے اگلی فلائیٹ نہیںملتی تھی۔ میرے بھائی نے کہا، جی میرے ساتھ مریض ہے انہوں نے کہا جو مرضی ہے اس وقت فلائیٹس بک ہیں اور آپ لوگوں کو یہاں دو دن انتظار کرنا پڑے گا۔ میرے بھائی نے کہا، میرے ساتھ بہت ہی سیریس مریض ہے، انہوں نے کہا مریض ہے تو ہم کیا کریں، ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کو پرائیویٹ سواری دے سکتے ہیں تاکہ آپ ائیرپورٹ سے شہر چلے جائیں اور وہاں دو دن ٹھہر کر واپس چلے آئیں، وہ کہنے لگے کہ اس طرح ہم جدہ شہر میں آ گئے۔ شہر میں پہنچ کر بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں آپ کو وہاں لے جائوں جہاں کا آپ نے ان سے وعدہ کیا تھا، میں نے کہا ٹھیک ہے، لے جائو، چنانچہ بھائی مجھے مکہ مکرمہ لے کر چلے گئے اور میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ بیت اللہ شریف کو دیکھا۔ وہ کہنے لگا کہ بیت اللہ شریف کو دیکھ کر میرے دل پر عجیب سا اثر ہوا۔ اب دیکھئے کہ وہ مسلمان نہیں تھا بلکہ دہریہ تھا اورخدا کے وجود کو نہیں مانتا تھا اس بندے کی یہ حالت تھی،
اس نے کہا کہ میرے دل میں کچھ عجیب سی کیفیت بنی اور میں نے بیٹھے بیٹھے دعا مانگی۔ ذرا توجہ فرمائیے گا۔ ’’اللہ! اگر تو ہے تو مجھے صحت عطا فرما تاکہ میں کل چل کے تیرے گھر کا طواف کرسکوں۔‘‘ اس کے بعد میرے دل میں ایک عجیب خوشی کی کیفیت آ گئی ۔ میں نے دوائی لینا بند کر دی، اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ جب میں اگلے دن سو کر اٹھا تو صبح تر و تازہ تھا، میں بھائی کے ساتھ بیت اللہ شریف کے پاس آیا، کلمہ پڑھا اور میں نے چل کر بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ میرے دوستو! اگر اللہ رب العزت اس گھر میں جانے والے دہریوں کی دعائیں بھی قبول کر لیتا ہے اور ان کو ہدایت بھی دے دیتا ہے اور ان کی مرادیں بھی پوری کرتا ہے تو جو مومن یہاں سے اللہ کے گھر کے دیدار کے لیے جاتے ہوں گے وہ وہاں جا کر اللہ کی رحمتوں سے کتنا حصہ پاتے ہوں گے۔



















































