حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ مکرمہ میں چھوڑ گئے اس وقت وہ ایک ایسی وادی تھی جہاں سبزہ کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ حضرت اسماعیل جب جوان ہوئے تو ان کا نکاح قبیلہ بنو جرہم کی ایک لڑکی سے ہوا۔ حضرت اسماعیلؑ شکار کرنے جاتے تھے اور اس سے جو کچھ ملتا تھا اسی سے گزر بسر ہوتاتھا۔ شکار ایک ہوائی روزی ہوتی ہے۔ لہٰذا کبھی شکار ملتا اور کبھی نہ ملتا۔
ایک مرتبہ حضرت اسماعیلؑ شکار کو گئے ہوئے تھے کہ پیچھے حضرت ابراہیمؑ گھر آئے۔ انہوں نے اپنی بہو سے پوچھا کہ سناؤ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگی، بس زندگی گزر رہی ہے۔ کبھی شکار ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ بہت تنگی کا وقت گزر رہا ہے۔ بہرحال گزارا ہو رہا ہے۔ اس نے اس طرح ناشکری کے الفاظ کہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر فرمایا۔ اچھا مجھے واپس جانا ہے۔ جب تمہارے شوہر آئیں تو انہیں میرا سلام کہہ دینا اور ان سے کہہ دینا کہ تمہارے گھر کی چوکھٹ اچھی نہیں ہے، اسے بدل لینا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ وہ عورت حضرت ابراہیمؑ کی بات نہ سمجھ سکی۔ جب حضرت اسماعیلؑ گھر واپس آئے تو ان کی بیوی نے انہیں حضرت ابراہیمؑ کا پورا پیغام سنا دیا۔ وہ فرمانے لگے کہ وہ تو میرے والد گرامی تھے۔ میری ان سے ملاقات تو نہیں ہو سکی البتہ وہ مجھے ایک پیغام دے گئے ہیں کہ گھر کی چوکھٹ اچھی نہیں ہے، اسے بدل دینا، یعنی تمہاری بیوی ناشکری ہے، اسے بدل دینا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس بیوی کو طلاق دے کر اسے فارغ کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک اور قبیلہ کی لڑکی کے ساتھ حضرت اسماعیلؑ کی شادی ہوئی۔ اب یہ عورت بڑی صابرہ شاکرہ تھی۔ سال دو سال کے بعد حضرت ابراہیمؑ پھر تشریف لائے۔ اب کی بار بھی حضرت اسماعیلؑ گھر پر موجود نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی بہو سے پوچھا۔ سناؤ کیاحال ہے؟
وہ کہنے لگی کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے اتنا نیک خاوند عطا کر دیا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنے اچھے اخلاق والا، اچھے کردار والا، متقی اور پرہیز گار اور محبت کرنے والا خاوند دیا، میں تو اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتی۔ حضرت ابراہیمؑ نے پوچھا، کھانا پینا کیسا ہے؟ کہنے لگیں، رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جو ملتا ہے ہم کھا لیتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کر لیتے ہیں اور اگر نہیں ملتا تو صبر کر لیتے ہیں۔ جب اس نے شکر کی اچھی اچھی باتیں کیں تو حضرت ابراہیمؑ کا دل خوش ہوگیا۔
اور حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا اچھا اب میں چلتا ہوں تم اپنے خاوند کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور کہنا کہ تمہارے گھر کی چوکھٹ بڑی اچھی ہے، لہٰذا تم اس کی حفاظت کرنا۔ یہ کہہ کر حضرت ابراہیم ؑ واپس چلے گئے۔ جب حضرت اسماعیلؒ نے پیغام سنا تو وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ وہ میرے والد گرامی تھے اور وہ مجھے پیغام دے گئے ہیں کہ تم ایک اچھی بیوی ہو۔ مجھے تمہاری قدر کرنی ہے اور تجھے زندگی بھر اپنے ساتھ رکھنا ہے۔ یہ حضرت اسماعیلؑ کی وہ بیوی تھیں جو حضرت اسماعیلؑ سے حاملہ ہوئیں اور ان کی نسل اس عورت سے آگے چلی۔



















































