حضرت مدنیؒ ایک مرتبہ سفر کر رہے تھے۔ ایک انگریز اپنی میم صاحبہ کو لے کر آیا اور سامنے بیٹھ گیا۔ اب میم تو بے پردہ تھی ۔ جب اس کو پتہ چلا کہ یہ حضرت مدنیؒ ہیں تو اس نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ کہنے لگا کہ دیکھو اسلام اپنی عورتوں کو گھروں میں جیل کی طرح قید رکھتا ہے۔
ہم تو اپنی عورتوں کو آزادی دیتے ہیں۔ دیکھئے، یہ میرے ساتھ گھوم گھام رہی ہے۔ زندگی کے عیش و آرام کے دن گزار رہی ہے۔ حضرت مدنیؒ پہلے تو سنتے رہے۔ پھر آپ نے سوچا کہ یہ سیدھی طرح تو ماننے والا نہیں۔ ٹیڑھی انگلی سے کھیر نکالنی پڑے گی۔ چنانچہ گرمی کا موسم تھا۔ آپ کا شاگرد بھی آپ کے ساتھ تھا اور قدرتاً شکن جبین بنانے کے لیے کچھ لیموں وغیرہ اور چینی اپنے ساتھ رکھوائی تھی۔ آپ نے اشارہ کیا کہ ذرا شکنجبین کے ایک دو گلاس بناؤ۔ بہت گرمی ہے۔ اس نے تھرمس سے ٹھنڈا پانی نکالا، چینی ملائی اور لیموں کاٹا۔ اب جب انگریز کے سامنے لیموں کٹا تو اس کے منہ میں بھی پانی آ گیا۔ وہ بھی بڑی شوق کی نظروں سے شکن جبین کو دیکھ رہا ہے۔ اب اس سے حضرت مدنیؒ نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ آپ بڑی محبت بھری نظروں سے اس شکنجبین کو دیکھ رہے ہیں؟ اس نے کہا، جی آپ کو پتہ ہے کہ گرمی ہے۔ پیاس ہے اور لیموں تو چیز ہی ایسی ہے کہ اس کو دیکھ کر منہ میں پانی آتا ہے۔ اب حضرت نے اس پر چوٹ لگائی کہ جس طرح گرمی کے موسم میں پیاسا لیموں دیکھے تو اس کے منہ میں پانی آتا ہے تو یہ جو تمہاری میم صاحبہ بیٹھی ہیں اس کو دیکھ دیکھ کر جتنے بھی ریل میں مرد ہیں سب کے منہ میں پانی آ رہا ہے۔ اب تو ایسا شرمندہ ہوا کہ اس کی نظریں نیچی لگ گئیں۔



















































