’’امریکہ قابل بھروسہ نہیں کیونکہ۔۔‘‘

  جمعہ‬‮ 9 جون‬‮ 2017  |  12:22

مشرق وسطیٰ کے حالات روز بروز کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ امت مسلمہ اس وقت نہ صرف فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم بلکہ ایک غیر اعلانیہ فرقہ وارانہ جنگ میں گھری نظر آرہی ہے جس کا میدان مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک ہیں۔ حال میں امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرتے ہوئے اسےمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تشدد کی وجہ قرار دیا ہے، آنیوالے دن کیا خبر دیتے ہیں یہ تو آنے والا وقت بہتر بتا سکتا ہے تاہم یہاں پر ہم اس پاکستانی سربراہ

مملکت کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جس نے کئی دہائیاں قبل مسلم ممالک کو امریکی بلاک سے نکالنے کی سعی ناکام کی ۔ ان کی اس کوشش کو کسی اور نے نہیں بلکہ اہم مسلم ممالک کے سربراہان نے ہی ناکام بنا دیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں اپنے اقتدار کی قربانی بھی دینا پڑی۔ ہم شہری آن لائن نے 18نومبر 2013کو جماعت اسلامی کے بانی اور برصغیر پاک و ہند کے معروف مذہبی و سیاسی رہنما مولانا مودودی کے صاحبزادے حیدر فاروق مودودی کا ایک انٹرویو شائع کیا۔ حیدر فاروق مودودی جماعت اسلامی کے ایک بہت بڑے نقاد ہیں اور اس کی پالیسیوں سے برملا اختلاف رکھتے ہیں۔ آپ پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی شمولیت کے بھی خلاف ہیں۔ انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حیدر فاروق مودودی نے بتایا کہ سی آئی اے کی مالی امداد سے ایوب خان کے خلاف مہم چلی۔ہوا یہ کہ1965 ء کی جنگ کے بعد ایوب خان بھانپ گیا کہ امریکہ قابل بھروسہ ساتھی نہیں ، چنانچہ ایوب خان نے ترکی کا دورہ کیا اور ترک حکومت سے کہا کہ ہم چین سے تعلقات بنانے جارہے ہیں آپ بھی بنائیں ، اس کے بعد ایوب خان نے شاہ ایران سے ملاقات کی اور شاہ ایران سےبھی وہی بات کی، مگر شاہ نے فوراً امریکی ایجنسیوں کو ایوب خان کے ان ارادوں سے مطلع کر دیا۔ سعودی شاہ فیصل نے بھی امریکہ کو بتا دیا کہ ایوب کہہ رہا تھا امریکہ قابل بھروسہ نہیں ہم چین سے وسیع تعلقات قائم کرنے والے ہیں۔اورایوب خان ابھی اس دورے سے واپس بھی نہیں آیا تھا کہ یہاں مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو پیسے بانٹ دئیے گئے اور ایوب کے خلاف وسیع مہم چل نکلی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں