16

یہ دیکھو میں نے پوری جہنم خرید لی ہے

  جمعرات‬‮ 20 اپریل‬‮ 2017  |  22:43
کسی جگہ ایک نوسرباز رہا کرتا تھا۔ لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنا اُس کا بائیں ہاتھ کا کھیل اور انہیں عجیب و غریب سودا بیچنا اُس کا کمال تھا۔ ایک بارنوسرباز لوگوں کو جنت میں زمین کا ٹکڑا بیچتا اور ملکیت کے کاغذات بنا کر دیتا ہے تو اُس کے سودے نے ایسا رواج پکڑا کہ اُس کے وارے نیارے ہو گئے۔  کسی دانا کا اس کے شہر سے گزر ہوا، شہر میں چل رہے اس نوسرباز کے کاروبار سے مچے شور شرابے سے اسے بھی بڑی حیرت ہوئی۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ نوسرباز لوگوں کو جنت

(خصوصی فیچر جاری ہے)

زمین کا ٹکڑا بیچتا اور ملکیت کے کاغذات بنا کر دیتا ہے۔ جس کسی نے اس سے جنت میں یہ زمین خرید رکھی ہو، مرنے پر ملکیتی کاغذات ساتھ دفنا دیئے جائیں تو مرنے والا سیدھا جنت میں جا کر اپنی زمین میں رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ شہر میں جاری اس چلتن سے سب خوش اور کوئی بھی اس کے خلاف ایک حرف سننے کیلئے تیار نا تھا، یہ شخص سمجھاتا تو کسے سمجھاتا کہ جو اس سے جنت میں ٹکڑا خریدتا ہے دراصل اپنی بربادی خریدتا اور اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔ کچھ کرنے کی لگن میں اس

(خصوصی فیچر جاری ہے)

آدمی نے ایک حل سوچ کر اس نوسرباز کے پاس جا پہنچا اور پوچھا؛ جنت کا ایک ٹکڑا کتنے کا ہے؟ دجال نے کہا؛ بہت ہی سستا، بس ایک سو دینار کا۔ دانا نے پھر پوچھا؛ اور اگر میں نے دوزخ میں زمین خریدنی ہو تو کیا بھاؤ ہے؟ نوسرباز اس انوکھے سوال پر بہت حیران ہوا اور کہا؛ کوئی مول نہیں، مفت میں لے لو۔ دانا نے کہا؛ نہیں، میں اسے پیسوں سے خریدنا چاہتا ہوں اور اس کے ملکیتی کاغذ بھی چاہتا ہوں۔ نوسرباز نے کہا؛ اچھا تو میں تمہیں ایک چوتھائی دوزخ 100 دینار کی دیتا ہوں جو کہ جنت میں فقط ایک ٹکڑے کی قیمت ہے۔ دانا نے پوچھا؛ اور اگر میں پوری جہنم خریدنا چاہوں تو کتنے کی دو گے؟ نوسرباز نے کہا؛ لائیے 400 دینار اور پوری جہنم لے لیجیئے اور میں اس کے ملکیتی کاغذ بھی بنا دیتا ہوں آپ کو۔ دانا نے نوسرباز کو 400 دینار دیکر پوری جہنم خریدی،ملکیتی کاغذات بنوائے اور گواہوں کے طور پر نوسرباز کے گرد لگے مجمع میں سے ڈھیر سارے لوگوں کے دستخط کرا لیئے۔ رسید لیئے دانا نے باہر جا کر لوگوں کو آواز دیکر بلایا اور کہا؛ اے لوگو؛ یہ دیکھو میں نے پوری جہنم خرید لی ہے، اب میں کسی کو بھی اس جہنم میں سے حصہ نہیں دونگا اور نا ہی کسی کو جہنم میں بسنے کی اجازت دونگا۔ تمہارے پاس اب مرنے کے بعد کوئی چارہ نہیں کہ بس سیدھا جنت میں جا کر رہو،چاہے تم نے ادھر کیلئے کوئی ٹکڑا خریدا ہے یا نہیں خریدا۔ نوسرباز کے گرد لگے جمگھٹے نے جب یہ ماجرا دیکھا کہ انہیں تو دوزخ سے مفت میں ہی نجات مل گئی ہے تو اُسے چھوڑ کر جانے لگے کہ اب جنت خریدنے کا کیا فائدہ جب دوزخ کا ہی سد باب ہو چکا۔ نوسرباز جو اپنے آپ کو دوزخ بیچنے پر دانا سمجھ رہا تھا کو اب خبر لگی کہ اس کے ساتھ ہاتھ ہو چکا ہے اور اس کا جنت بیچنے کا کاروبار بند ہو چکا ہے۔

کسی جگہ ایک نوسرباز رہا کرتا تھا۔ لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنا اُس کا بائیں ہاتھ کا کھیل اور انہیں عجیب و غریب سودا بیچنا اُس کا کمال تھا۔ ایک بارنوسرباز لوگوں کو جنت میں زمین کا ٹکڑا بیچتا اور ملکیت کے کاغذات بنا کر دیتا ہے تو اُس کے سودے نے ایسا رواج پکڑا کہ اُس کے وارے نیارے ہو گئے۔  کسی دانا کا اس کے شہر سے گزر ہوا،

شہر میں چل رہے اس نوسرباز کے کاروبار سے مچے شور شرابے سے اسے بھی بڑی حیرت ہوئی۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ نوسرباز لوگوں کو جنت میں زمین کا ٹکڑا بیچتا اور ملکیت کے کاغذات بنا کر دیتا ہے۔ جس کسی نے اس سے جنت میں یہ زمین خرید رکھی ہو، مرنے پر ملکیتی کاغذات ساتھ دفنا دیئے جائیں تو مرنے والا سیدھا جنت میں جا کر اپنی زمین میں رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ شہر میں جاری اس چلتن سے سب خوش اور کوئی بھی اس کے خلاف ایک حرف سننے کیلئے تیار نا تھا، یہ شخص سمجھاتا تو کسے سمجھاتا کہ جو اس سے جنت میں ٹکڑا خریدتا ہے دراصل اپنی بربادی خریدتا اور اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔ کچھ کرنے کی لگن میں اس آدمی نے ایک حل سوچ کر اس نوسرباز کے پاس جا پہنچا اور پوچھا؛ جنت کا ایک ٹکڑا کتنے کا ہے؟ دجال نے کہا؛ بہت ہی سستا، بس ایک سو دینار کا۔ دانا نے پھر پوچھا؛ اور اگر میں نے دوزخ میں زمین خریدنی ہو تو کیا بھاؤ ہے؟ نوسرباز اس انوکھے سوال پر بہت حیران ہوا اور کہا؛ کوئی مول نہیں، مفت میں لے لو۔ دانا نے کہا؛ نہیں، میں اسے پیسوں سے خریدنا چاہتا ہوں اور اس کے ملکیتی کاغذ بھی چاہتا ہوں۔ نوسرباز نے کہا؛ اچھا تو میں تمہیں ایک چوتھائی دوزخ 100 دینار کی دیتا ہوں جو کہ جنت میں فقط ایک ٹکڑے کی قیمت ہے۔ دانا نے پوچھا؛ اور اگر میں پوری جہنم خریدنا چاہوں تو کتنے کی دو گے؟ نوسرباز نے کہا؛ لائیے 400 دینار اور پوری جہنم لے لیجیئے اور میں اس کے ملکیتی کاغذ بھی بنا دیتا ہوں آپ کو۔ دانا نے نوسرباز کو 400 دینار دیکر پوری جہنم خریدی،

ملکیتی کاغذات بنوائے اور گواہوں کے طور پر نوسرباز کے گرد لگے مجمع میں سے ڈھیر سارے لوگوں کے دستخط کرا لیئے۔ رسید لیئے دانا نے باہر جا کر لوگوں کو آواز دیکر بلایا اور کہا؛ اے لوگو؛ یہ دیکھو میں نے پوری جہنم خرید لی ہے، اب میں کسی کو بھی اس جہنم میں سے حصہ نہیں دونگا اور نا ہی کسی کو جہنم میں بسنے کی اجازت دونگا۔ تمہارے پاس اب مرنے کے بعد کوئی چارہ نہیں کہ بس سیدھا جنت میں جا کر رہو،

چاہے تم نے ادھر کیلئے کوئی ٹکڑا خریدا ہے یا نہیں خریدا۔ نوسرباز کے گرد لگے جمگھٹے نے جب یہ ماجرا دیکھا کہ انہیں تو دوزخ سے مفت میں ہی نجات مل گئی ہے تو اُسے چھوڑ کر جانے لگے کہ اب جنت خریدنے کا کیا فائدہ جب دوزخ کا ہی سد باب ہو چکا۔ نوسرباز جو اپنے آپ کو دوزخ بیچنے پر دانا سمجھ رہا تھا کو اب خبر لگی کہ اس کے ساتھ ہاتھ ہو چکا ہے اور اس کا جنت بیچنے کا کاروبار بند ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔