حکومت اور تحریک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ،کیا کچھ طے پایا؟تفصیلات سامنے آگئیں

  اتوار‬‮ 24 اکتوبر‬‮ 2021  |  11:00

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بدھ تک تحریک  کے کیسز واپس لے لیں گے، شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے،فرانس کے سفیر والا معاملہ قومی اسمبلی میں لے کر جائیں گے، مرید کے میں بیٹھے لوگ دو روز تک واپس چلے جائیں گے، اسلام آباد آئی جی کو کہتا ہوں کنٹینرز ہٹا دو، البتہ جی ٹی روڈ پر کنٹینرز موجود رہیں گے،تحریک  کا پنجاب میں تیسرا بڑا ووٹ بینک ہے، تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے تیار ہوں،مذہبی لوگوں سے ٹکرائو نہیں ہونا چاہیے، احتجاج ان کا حق ہے، حکومت کا


کام ہے کہ لچک رکھے،حکومت کو جوڈو کراٹے نہیں کرنا چاہیے ،پاکستان مسلمان دنیا کی واحد نیو کلیئر اسٹیٹ ہے، افغانستان کے بعد پاکستان پابندیوں سے محفوظ رہا البتہ ملک کے معاشی حالات بہت سخت ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کے فیصلے کا وزیرِاعظم عمران خان یا ان کے ترجمان کو پتہ ہوگا، لوگ ابھی سے الیکشن مہم پر نکل پڑے ہیںاگلا بجٹ الیکشن بجٹ ہو گا۔ اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہاکہ تحریک  سے 8 گھنٹے بات چیت ہوئی ہے ،منگل اور بدھ تک تحریک  کے کیسیز واپس لیکر فورتھ شیڈول دیکھیں گے۔ شیخ رشید نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ امن و امان کے مسلے کو بہتر کیا جاناچاہیے ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ تحریک  کا اعتراض درست ہے کہ 6 ماہ تک ان کو سنا نہیں گیا۔ شیخ رشید احمد نے بتایاکہسعد رضوی سے بھی بات چیت تفصیلی ہوئی ہے ،تحریک  سے فرانس کے سفیر کے حوالے سے بات کی گئی،میں نے کہا پاکستان واحد مسلم ایٹمی پاور ملک ہے،فرانس کا سفیر ابھی موجود نہیں ہے، معاملہ اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف پر بھی ہماری کارکردگی بہتر رہی ،پیر کی صبح وزارت داخلہ تحریک  کے لوگ آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ مذاکرات میں تاخیر ہوئی یہ مشکل سوال ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کا میچ آج تک مس نہیں کیا،اس بار پاک بھارت میچ ٹی وی پر دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پہلی بار میچ نہیں دیکھ رہا جاوید میاں داد نے چھکا مارا تھا تب بھی میں وزیر تھا،کیا میں میچ کیلئے پاکستان کا اتنا بڑا مسئلہ چھوڑ دیتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید صاحب ہیں۔ انہوںنے کہاکہ راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ کو کہتا ہوں کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹا دے،روکاوٹیں صرف جی ٹی روڈ پر رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ میں سیاسی ورکر ہوں تمام جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جمعہ جمعہ کھیل رہی ہے ابالیکشن کمپین شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سے زیادہ کسی نے ختم نبوت کے معاملے پر جیلیں کاٹی ہیں،وزیر داخلہ شیخ رشید ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ختم نبوت پر آنچ آئے۔ انہوں نے کہاکہ تصادم کے حق میں نہیں ہیں،صوبائی وزیر داخلہ نہیں ہوں، ،میں اس کمیٹی کی صدارت نہیں کرنا چاہتا تھا مگر سعد رضوی صاحب سمیت دیگر کی خواہش پر کمیٹیکی صدارت کی۔ انہوں نے کہاکہ تحریک  کو بین نہیں کیا وہ الیکشن لڑ رہیے ہیں نا ہم سپریم کورٹ گئے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں ہے، امن چاہتے ہیں تصادم نہیں۔ انہوں نے کہاکہ مائیں فون کرتی ہیں کہ بچوں نے اسکول جانا ہے،پنڈی اسلام آباد کی جوائنٹ کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دو لوگ ہمارے شہید ہوئے ہیں،ہم جھگڑا آگےنہیں بڑھانا چاہتے ہیں،سیاست دان کا کام ہے درمیانی راستہ نکالنا،کوشش کریں گے مرید کے میں بیٹھے لوگ گھروں کو واپس جائیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ عمران خان کے ساتھ آیا ہوں عمران خان کے ساتھ ہی واپس جائوں گا،اللہ سے امید ہے عمران خان پانچ سال پورے کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کیا فائد لے لے گی، نومبر دسمبر میں یہ تھوڑی ورزش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست جھکی نہیں، ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں،ہمارے پاس دو آپشن ہیں جھگڑا بڑھائیں یا معاملہ سلجھائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گوبر کے کیڑے

گوبر دیہات میں انرجی کا بہت بڑا سورس ہے‘ خواتین گائے اور بھینس کا گوبر جمع کرتی ہیں‘ اوپلے بناتی ہیں‘ دیواروں اور چھتوں پر چپکاتی ہیں‘ یہ دھوپ اور ہوا سے سوکھ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ چولہے میں جلانے کے کام آتے ہیں‘ میرا بچپن اوپلوں کے دھوئیں میں گزرا‘ گائوں میں دودھ کو اوپلوں کی ....مزید پڑھئے‎

گوبر دیہات میں انرجی کا بہت بڑا سورس ہے‘ خواتین گائے اور بھینس کا گوبر جمع کرتی ہیں‘ اوپلے بناتی ہیں‘ دیواروں اور چھتوں پر چپکاتی ہیں‘ یہ دھوپ اور ہوا سے سوکھ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ چولہے میں جلانے کے کام آتے ہیں‘ میرا بچپن اوپلوں کے دھوئیں میں گزرا‘ گائوں میں دودھ کو اوپلوں کی ....مزید پڑھئے‎