مشتری کے برفیلے چاند سے ’پانی کے فوارے نکلتے ہیں‘

  منگل‬‮ 14 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  11:36

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سائنسدانوں کو ایسے مزید شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیارہ مشتری کا برفیلا چاند یوروپا خلا میں پانی کے فوارے چھوڑتا رہتا ہے۔ سائنس دانوں نے 2013 میں پہلی بار ہبل خلائی دوربین استعمال کرتے ہوئے اس بارے میں بتایا تھا لیکن اب اسی امر کا ایک بار پھر مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یہ دریافت اس لیےبھی اہمیت کی حامل ہے کہ یوروپا پر کافی مقدار میں پانی مائع حالت میں موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ وہاں پر کسی قسم کی زندگی پائی جاتی ہو۔ ان پانی کے فواروں کے آس

پاس کسی خلائی گاڑی کو اڑا کر وہاں زندگي کے امکان کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس پانی کے نمونوں کی جانچ پڑتال سے مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں، یا پھر مستقبل کے کسی خلائی مشن میں اس پانی کو تفصیلی معائنے کے لیے زمین پر بھی لایا جا سکتا ہے۔ یوروپا کی سطح منجمد ہے اور کئی کلومیٹر گہری برف کی تہہ کے نیچے پانی کا سمندر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تہہ کی کھدائی کر کے نیچے سے پانی نکالنا خاصا مشکل ہے، لیکن سطح سے اچھلتے فواروں سے پانی کے نمونے حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس دوربین نے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ مشتری کی سطح سے منعکس ہونے والی روشنی کسی طریقے سے یوروپا میں جذب تو نہیں ہو رہی۔ ہبل نے دیکھا کہ بعض اوقات یوروپا کے کونوں سے’تاریک انگلیاں‘ باہر نکل جاتی ہیں۔ ماہرِ فلکیات ولیم سپارکس کہتے ہیں کہ اس کی ایک ہی وضاحت ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ یوروپا کی سطح سے پانی کے بخارات نکل کر فضا میں بلند ہو رہے ہیں۔ ’ہم محتاط ہیں کیوں کہ ہم ہبل کی مشکل ویو لینتھ کی مدد سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم ان بخارات کی موجودگی کا دعویٰ نہیں کر رہے، صرف اتنا کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمی موجود ہو سکتی ہے۔‘ تاہم اسی عشرےکی ابتدا میں ہبل نے یوروپا کی سطح پر اسی جگہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مشاہدہ کیا تھا، جن سے مل کر پانی بنتا ہے۔ ہبل کی سینیئر سائنس دان جینیفر وائزمین کہتی ہیں کہ یہ بہت دلچسپ دریافت ہے۔ ’اس سے پہلے ہبل نے سپیکٹروسکوپی کی مدد سے آکسیجن اورہائیڈروجن کی موجودگی دریافت کی تھی۔ اب سپارکس اور ان کی ٹیم نے بصری طور پر فوارے اٹھتے دیکھے ہیں۔ اس لیے دو مختلف پہلو ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ اور ان سے بظاہر یوروپا کی سطح پر پانی کے فواروں کی موجودگی کی شہادت ملتی ہے۔‘

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں