”پلان اے“ کے بعد”پلان بی“ کا بھی ڈراپ سین، اب سڑکیں او ر شاہراہیں بند نہیں ہونگی بلکہ کیا ہوگا؟متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حیرت انگیز اعلان کردیا

  منگل‬‮ 19 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:28

اسلام آباد (این این آئی) متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے تمام سڑکیں کھولنے کااعلان اور فوری آل پارٹیز کانفر نس بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اب سڑکیں او ر شاہراہیں بند نہیں ہونگی، ضلعی پر جلسے ہونگے،ایک دو روز میں جلسوں کا پلان سامنے آ جائیگا،نوازشریف کے بارے عدلیہ کے فیصلے پر عمران خان بوکھلا گئے، عمران خان قوم پر رحم کریں اور گھر جائیں،حکومت پر دباؤ جاری رہے گا،(آج) بدھ کو الیکشن کمیشن کے سامنے پی ٹی آئی غیر فنڈنگ کیس کو سننے کے لئے رہبر کمیٹی احتجاج کرے گی، اپوزیشن کے مشترکہ جلسے کئے


جائیں گے۔ منگل کو متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کااجلاس کنوینر اکرم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں موجودہ صورتحال سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ کارکن رہبر کمیٹی کے کہنے پر تمام سڑکیں کھول دیں،سڑکیں اور شاہراہیں بند نہ کی جائیں بلکہ ضلعی سطح پر جلسے ہوں گے اور ایک دوروز میں جلسوں کا پلان سامنے آ جائیگا۔اکرم درانی نے کہاکہ رہبر کمیٹی کے تجویز ہے فوری اے پی سی بلائی جائے۔اکرم درانی نے کہاکہ رہبر کمیٹی نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو درست قرار دیا،نوازشریف کے بارے عدلیہ کے فیصلے پر عمران خان بوکھلا گئے،عمران خان قوم پر رحم کریں اور گھر جائیں۔اکرم درانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے ممبران کو مشترکہ نامزدگی کی جائے گی،(آج) بدھ کو الیکشن کمیشن کے سامنے پی ٹی آئی غیر فنڈنگ کیس کو سننے کے لئے رہبر کمیٹی احتجاج کرے گی۔انہوں نے بتایاکہ رہبر کمیٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہویے حکومت پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کی مثال عمران خان کی تقریر ہے،ضلعی سطح پر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائیگا، اپوزیشن کے مشترکہ جلسے کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ جو بھی فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی وہ ہمارا حتمی فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اے پی سی بلانے کا بھی فیصلہ رہبر کمیٹی نے کیا ہے،تاریخ کا اعلان مولانا فضل الرحمان کریں۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن سے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کو روازنہ کی بنیاد پر چلایا جائے۔انہوں نے کہاکہ نئے الیکشن فوج کی نگرانی کے بغیر کرائے جائیں، اکرم درانی نے کہاکہ اس وقت حکومت کی اتحادی بھی کہتے ہیں کہ اگلے چار ماہ میں کوئی وزیراعظم بننے کے لئے تیار نہیں ہوگا،واضح ہوگیا ہے کہ حکومت معاشی سمیت ہر شعبے میں ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ رہبر کمیٹیکا ایک طویل اجلاس ہوا جس میں تمام سوالات و جوابات بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ باتوں میں فرق گھروں میں بھی آتا ہے البتہ ہم نو سیاسی جماعتیں ہیں بعض معاملات پر اختلاف ہوسکتا ہے،رہبر کمیٹی کے ممبران کنٹینرز پر مسلسل آتے رہے ہیں،اس وقت حکومت دیوار سے لگ چکی ہے، پلان بی کے بعد کسی اور پلان کی ضرورت نہیں رہے گی۔فرحت اللہ بابر نے کہاکہ ہم اکرم درانی سے مکمل اتفاق کرتے ہیں،چوہدری برادران سے مذاکرات کے حوالے سے بات کی جس پر درانی کی وضاحت پر مطمئن ہیں۔

loading...