متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کردیا،فضل الرحمان کاآرمی چیف کی توسیع پرحیرت انگیز ردعمل

  پیر‬‮ 19 اگست‬‮ 2019  |  19:34

اسلام آباد (این این آئی)متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمارے لوگ عیاشیوں کیلئے نہیں آئینگے، حکومت کے خاتمے پر ہی تحریک ختم ہوگی،26 اگست کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا،29 اگست کو دوبارہ اے پی سی ہوگی،رہبر کمیٹی ایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کریگی،29 اگست کو اے پی سی میں چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دیگی،اپوزیشن کی تمام جماعتیں احتجاجی تحریک میں شریک ہونگی۔آل پارٹیز کانفرنس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اے پی سی میں ملک کی سیاسی


صورتحال زیر غور آئی،حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر اس نتیجہ پر پہنچے کی ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے،معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی بدحالی سے روس ٹکرے ہوگیا آج ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے،ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا ہر طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے،پوری قوم میں اضطراب ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کشمیر کی صورتحال پر موجودہ حکمرانوں کو کشمیر فروش حکمران قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کو کشمیر فروخت کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں،موجودہ حکمران کشمیر فروخت ہیں،حکمرانوں نے کشمیریوں کی ہیٹ میں چھرا گھونپا ہے،پوری اپوزیشن اور قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،کچھ بھی ہو جائے کشمیریوں کے ہر قدم میں ساتھ ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ کل سوچ رہے تھے سری نگر کیسے لینا ہے اور آج فکر ہے مظفر آباد کیسے بچانا ہے؟انہوں نے کہاکہ ہم نے ریاستی طور پر کشمیر کو سنجیدہ نہیں لیا،مودی کی جیت کی خوشی منانے والوں نے یہ دن دکھائے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے حالات عالمی سازش ہے حکومت اس کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ نتائج بتا رہے ہیں ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ مودی کشمیر پر فیصلہ کررہا ہےآپ خاموش رہیں،کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دکھ سانجھے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اتفاق کیا ہے کہ سب اکٹھے اسلام آباد آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ رہبر کمیٹی ایک ہفتہ میں چارٹر آف ڈیمانڈ دے گی،جب اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو ہمارے پاس متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہوگا،26 اگست کو رہبر کمیٹی اور 29 اگست کو اے پی سی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے خلاف تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں، موجودہ حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے قوم ہمارا ساتھ دے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کی مدت میںتوسیع کو سیاسی نکتہ نظر سے نہ دیکھیں،سرکاری ملازمین کی مدت میں توسیع ہوتی رہتی ہے،آرمی چیف کے معاملہ کو نارمل لیا جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ بلال بھٹو زر داری اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے نہ آنے کو ایشو نہ بنایا جائے،ہمیں پتہ ہے وہ کیوں نہیں آئے۔انہوں نے کہاکہ جو چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد میں ہوا اس سے پتہ لگ گیا عام انتخابات میں کیا ہوا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا،میرے ہوتے ہوئے کشمیر کا سودا نہیں ہوا۔

loading...