پشاور،خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر الیکشن کے حیرت انگیزنتائج سامنے آگئے

  اتوار‬‮ 21 جولائی‬‮ 2019  |  0:06

پشاور(آن لائن)خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن کے نتائج، آزاد امیدواروں کو 7 نشستوں پر برتری،، تحریک انصاف کو 4، جماعت اسلامی 2، جے یوآئی (ف) کو 2 نشستوں اور اے این پی نے ایک نشست حاصل کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد قبائلی اضلاع کی 16 صوبائی نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہوگیاجس کے بعد غیرسرکاری  اور غیرحتمی نتائج کے مطابق   پی کے 100 باجوڑ 104  ون میں سے 77 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے انور زیب خان 10916 ووٹ


لے کر پہلے نمبر پرجماعت اسلامی کے وحید گل 8529 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 101 باجوڑ 103 میں سے 60 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون الرشید 7005 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرتحریک انصاف کے اجمل خان 5734 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 102 باجوڑ 3 میں 131 پولنگ اسٹیشنز میں سے 56 کے نتائججماعت اسلامی کے سراج الدین 11101 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرآزاد امیدوار خالد خان 6931 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،پی کے 103 مہند 86 میں سے 82 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق اے این پی کے نثار احمد 10314 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر پی ٹی آئی کے رحیم شاہ 10092 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ پی کے 104 مہمند میں  108 میں سے 24 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار عباس الرحمان 4958 ووٹ لے کر پہلے نمبر پرپی ٹی آئی کے سجاد خان 3432 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 105 خیبر  110 میں سے 93 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار شفیق آفریدی 18100 ووٹ لے کر پہلے نمبر پرآزاد امیدوار شیرمت خان 6603 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 106 خیبر 89 پولنگ اسٹیشنز میں سے 47 کے نتائج آزاد امیدوار بلاول آفریدی 8745 ووٹ لے کر پہلے نمبر پرپی ٹی آئی کے عامر محمد خان آفریدی 4514 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرپی کے 107 خیبر 146 پولنگ اسٹیشنز میں سے 100 کے نتائج  کے مطابق آزاد امیدوار محمد شفیق 10139 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرآزاد امیدوار حمید اللہ جان آفریدی 8250 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،پی کے 108 کرم 135 میں سے 29 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق جے یو آئی ف کے محمد ریاض 2291 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر،آزاد امیدوار جمیل خان 1596 ووٹکے ساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 109 کرم 130 میں سے 52 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج  لے مطابق پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں 12589 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرآزاد امیدوار عنایت حسین 7816 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پرپی کے 110 اورکزئی کے 175 میں سے 103 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار سید غازی غازن 11651 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرتحریک انصاف کے شعیب حسن 7294 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،پی کے 111 شمالی وزیرستانمیں 76 میں سے 12 پولنگ اسٹیشن کا نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمد اقبال خان 2870 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرجے یو آئی ف کے سمیع الدین 1386 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،پی کے 112 شمالی وزیرستان  میں 102 میں سے 55 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار میر کلام خان 5559 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرجبکہ جے یو آئی (ف) کے صدیق اللہ 4033 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،پی کے 113 جنوبی وزیرستان 139 میں سے 23 پولنگ اسٹیشنزکے نتائج  کے مطابق آزاد امیدوار وحید خان 3114 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرجے یو آئی (ف) کے حافظ اسلام الدین 2014 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،پی کے 114 جنوبی وزیرستان  میں 98 پولنگ اسٹیشنز میں سے 56 کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے نصیر اللہ خان 6278 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرآزاد امیدوار محمد عارف 4952 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،پی کے 115 سابقہ فرنٹیئر ریجنز میں 163 میں سے 38 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق جے یو آئی (ف) کے محمد شعیب 5408 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پرپی ٹی آئی کے عابد الرحمان 4738 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر   ہیں،دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن چوہدری ندیم قاسم کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں ووٹ ڈالنے کا عمل پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا اور اس دوران الیکشن کمیشن کو 4 شکایات موصول ہوئیں جو معمولی نوعیت کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر واٹس ایپ کے ذریعے نتائج ریٹرننگ افسر کو بھیجے گا، دور دراز علاقوں سے پریزائیڈنگ افسر خود جا کر آر او کو نتائج دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں رات کو نقل وحرکت نہیں ہوتی وہاں نتائج صبح موصول ہونا شروع ہوں گے جب کہ دیگر علاقوں سے نتائج آج رات موصول ہونا شروع ہوجائیں گے۔قبائلی اضلاع میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی۔عوام میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے خاصہ جوش و خروش دیکھا گیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔گذشتہ روز ہونے والے ان انتخابات میں 28 لاکھ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔

موضوعات:

loading...