قبائلی اضلاع میں الیکشن کا رزلٹ، ڈائریکٹر الیکشنز نے بڑا اعلان کردیا‎

  ہفتہ‬‮ 20 جولائی‬‮ 2019  |  22:26

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائریکٹر الیکشنز چوہدری ندیم قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کا رزلٹ آنے میں ایک دن لگ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، چوہدری ندیم قاسم نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں رات کو سفر نہیں کیا جا سکتا، گنتی کا عمل مکمل ہونے اور فارم 45 ریٹرننگ افسران کے پاس پہنچنے پر رزلٹ مرتب کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ جیسے ہی نتائج مرتب ہوں گے ان کا سرکاری طو رپر اعلان کر دیا جائے گا۔الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ


میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کنٹرول روم کا دورہ کیا اور پولنگ کے دوران شکایات سے متعلق دریافت کیا۔ حکام نے بتایاکہ قبائلی اضلاع میں پولنگ کے دوران 4 شکایات موصول ہوئیں۔الیکشن کمیشن کے باہر ڈائریکٹر الیکشنز چوہدری ندیم قاسم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں پولنگ کا عمل بخیر عافیت مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جو انتخابات کو مانیٹر کر رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پورے دن میں 4 شکایات موصول ہوئی ہیں جو معمولی نوعیت کی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ قانونی طور پر نتائج کو الیکٹرانک طریقے سے بھیجنا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع اور ایک ایف آر ریجن میں صوبائی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے، ان 16 نشستوں کے لیے 282 امیدوار میدان میں اترے۔ قبائلی اضلاع میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ووٹ ڈالنے والے افراد کا جوش و خروش دیدنی تھا، پولنگ اسٹیشنز کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات تھے، مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیا گیا،ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ، مہمند، خیبر، ضلع کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ایک ایف آر ریجن میں الیکشن کے لیے 18 سو 96 پولنگ اسٹیشنز تھے۔ 554 پولنگ سٹیشنز کو حساس ترین اور 461 کو حساس قرار دیا گیا تھا جہاں پر پاک فوج نے اپنے فرائض انجام دیے۔ پولنگ سٹیشنز کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے تھے۔اس تاریخ ساز الیکشن میں ووٹرز کی تعداد28 لاکھ تھی اور 282 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا اور خواتین ارکان بھی شامل تھیں۔اس الیکشن میں تحریک انصاف 16، جے یو آئی کے 15، پیپلز پارٹی کے 13، اے این پی کے 14 اور قومی وطن پارٹی کے 3، مسلم لیگ ن کے 5، جماعت اسلامی کے 13 امیدواروں کے علاوہ 202 آزاد امیدواروں نے حصہ لیا۔

موضوعات:

loading...