مبینہ ویڈیو العزیزیہ ریفرنس جج کے پاس ٹرانسفر ہونے سے پہلے کی ہے یا بعد کی؟حیرت انگیز انکشافات، ویڈیو سکینڈل نیا رُخ اختیارکرگیا

  منگل‬‮ 16 جولائی‬‮ 2019  |  21:12

اسلام آباد(آن لائن)نواز شریف کیخلاف فیلگ شپ ریفرنس کیس کا فیصلہ سخت سردیوں میں 24دسمبر کو سنایا گیا مگر مبینہ ویڈیو میں کسی بھی شخص نے سویٹر جرسی یا کمبل نہیں اوڑ رکھا۔ ٹیبل پر جوس کے ڈبے کی موجودگی نے مبینہ ویڈیو کو موسم گرما کی ثابت کر دیا۔ اعدادو شمار کے مطابق 6جولائی 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں قصور وار ٹھراتے ہوئے سنائی9جولائی 2018 کو نواز شریف کے وکیل نے درخواست کی کہ جج محمد بشیر ایون فیلڈ میں نوازشریف کو سزا سنا چکے


ہیں اس لیے باقی2ریفرنس جج محمد بشیر کی عدالت سےٹرانسفر کیے جائیں 16جولائی 2018 کو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اس حوالے سے اسلام آباد، ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی اور اس ہی دن جج محمد بشیر نے 2کیسوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا8 اگست 2018 کو فلیگ شپ ریفرنس العزیزیہ ریفرنس پر جج ارشد ملک کی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا،یوں ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ ویڈیو جج ارشد ملک کے پاس ریفرنس ٹرانسفر ہونے سے پہلے کی ہے کیونکہ اگست میں گرمیاں تھیں۔ ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک نے خود ناصر بٹ سے تعلقات سرجان ہیجان کا اعتراف کیا مگر انہوں نے کہیں بھی کیس سے متعلق بات نہ کی۔

loading...