متحدہ اپوزیشن کا چیئرمین سینیٹ کی جگہ آئینی و قانونی طریقہ سے نیا چیئرمین لانے،مستعفی ہونے کا فیصلہ،25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان،مشترکہ اعلامیہ جاری

  بدھ‬‮ 26 جون‬‮ 2019  |  22:04

اسلام آباد (این این آئی) متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جگہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے نیا چیئرمین لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 25 جولائی 2019ء کو دھاندلی زدہ انتخابات کیخلاف متفقہ طور پر یوم سیاہ منایا جائیگا، بجٹ کیخلاف تمام اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی، عوام کو جعلی مینڈیٹ،دھاندلی زدہ نااہل حکومت کی پیداکردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائیگی،پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی، وزیرستان واقعات بارے پارلیمانی


کمیٹی تشکیل دی جائے اور وزیرستان کے ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف حکومتی ریفرنس عدلیہ پر حملہ ہے، حکومت فوری طور پر ریفرنس واپس لے، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قانون سازی کی جائے، سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود لوگوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، سابق قبائلی علاقہ جات میں انتخابات کیلئے فوج کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات کرنے اور سمری ٹرائل کے اختیار کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے، قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں کئی سالوں سے قائم حراستی مراکز کو عام جیلوں میں تبدیل کر کے قیدیوں کیخلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے، پارلیمانی نظام حکومت اور اٹھارویں ترمیم کیخلاف اعلانیہ اور پس پردہ کوششوں کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی، یکطرفہ اور انتقامی احتساب کو مسترد کرتے ہیں، احتساب کا نیا موثر قانون بنایا جائے جس کے تحت چند مخصوص طبقوں کا نہیں بلکہ تمام افراد کا احتساب کیاجاسکے، اداروں کو ملکی سیاست میں ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہئے، حکومت کی جانب سے قرضوں سے متعلق قائم کردہ انکوائری کمیشن پارلیمنٹ پر حملہ اور غیر قانونی ہے، تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، 2018ء میں ہونیوالی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے اپوزیشن کے تمام ارکان فوری طور پر مستعفی ہو جائیں،مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل غیر ضروری ادارہ ہے جسے مسترد کرتے ہیں، محمد نواز شریف کیساتھ ملاقا ت اور ذاتی معالج کو فوری رسائی دی جائے،سابق وزیراعظم نواز شریف اور آصف زرداری سمیت تمام اسیران کی زندگی کے بنیادی دستوری اور قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔کل جماعتی رہبر کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور اعلامئے کے نکات پر عملدرآمد یقینی بنائیگی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس بدھ کو یہاں اسلام آباد میں منعقد ہوئیجس میں مسلم لیگ (ن)کے صدر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری، پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نواز، سابق وزیر اعظم اورپیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، سینیٹر رضا ربانی، فرحت اللہ بابر، سینیٹر شیریں رحمن، پیپلز پارٹی کے پی کے کے صدر ہمایوں خان، پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما احسن اقبال،مرتضیٰ جاوید عباسی، شاہد خاقان عباسی، عبد القاد ربلوچ،سابق سپیکر سر دار ایاز صادق، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق،رانا ثناء اللہ، عباد اللہ،مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اور نگزیب،جے یو پی کے سربراہ اویس نورانی، پختونخواہ میپ کے سینیٹر شفیق ترین، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر، سینیٹر طاہر بزنجو، جے یو آئی کے سابق وزیر رحمت اللہ کاکڑ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، میاں افتخار حسین، سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی سمیت جے یو آئی کے اہم رہنما شریک ہوئے تاہم جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے دو روز قبل ہی معذرت کرلی تھی جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کو حکومت نے منالیا جس کے بعد اختر مینگل نے بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔دن کو گیارہ بجے شروع ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس تقریباً رات پونے نو بجے اختتام پذیر ہوئی۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو ز رداری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے آل پارٹیزکانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہاگیاکہ اسلام آباد میں پاکستان کی حزب اختلاف سے وابستہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی ایک کل جماعت کانفرنس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت جے یو آئی (ف) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کی۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سینئر رہنماؤں نے شرکت کی جس کی تفصیل منسلک ہے۔ اجلاس جو تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہانے متفقہ طور پر مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے بجٹ 2019ء کو عوام دشمن، تاجر دشمن، اور صنعت دشمن، صحت وتعلیم دشمن قرار دے کر یکسر مسترد کردیا اور اعلان کیا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں اس کیخلاف پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی۔ اعلامیہ کے مطابق عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نا اہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائیگی اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی تاکہ رائے عامہ کو عوام دشمن ایجنڈے کیخلاف منظم کیاجاسکے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ اجلاس نے دھاندلی زدہ حکومت کی دھاندلی سے بجٹ پاس کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کئے جائیں تاکہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کرسکیں۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے پارلیمان آئین اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے ججوں کیخلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ان ریفرنسز کو فورا واپس لیا جائے۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرثانی اور سوموٹو اختیارات کے استعمال کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیہمیں کہاگیاکہ اجلاس نے عوام کے جمہوری حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قانون سازی کی جائے وہ لوگ جو سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کئے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، تشدد (ٹارچر) کے استعمال کیخلاف قانون سازی کی جائے۔ اعلامیہ کے مطابق سابقہ قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے 20 جولائی 2019ء کو صوبائی اسمبلی کے ہونے والے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے حالیہ نوٹیفکیشن جس کے تحت فوج کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات کرنے اور سمری ٹرائل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ یہ نوٹیفیکیشن فی الفور واپس لیا جائے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سابقہ قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوامیں گزشتہ کئی سالوں سے قائم حراستی مراکز کو عام جیلوں میں تبدیل کر کے ان میں قید لوگوں کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ اجلاس نے میڈیا پر اعلانیہ پابندیوں اور سنسر شپ کی مذمت کی اور ان پابندیوں کو فورا ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس نے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس کیلئے فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس نے پارلیمانی نظام حکومت اور اٹھارویں ترمیم کیخلاف اعلانیہ اور پس پردہ کوششوں کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ ہر ایسے اقدام کی بھر پور مزاحمت کی جائیگی جس کا مقصد پارلیمانی نظام حکومت کو کمزور کرنا ہو۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے منصفانہ اور غیر جانبدرانہ احتساب پر زور دیتے ہوئے جاری یکطرفہ اورانتقامی احتساب کو مسترد کیا۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ احتساب کا ایک نیا موثر قانون بنایا جائے جس کے تحت محض چند مخصوص طبقوں کا نہیں بلکہ تمام افراد کا ایک ہی قانون اور ایک ہی ادارے کے تحت احتساب کیا جاسکے جو قومی خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اداروں کو ملکی سیاست میں ہر گز مداخلت نہیں کر نی چاہیے اجلاس نے مجوزہ قرضوں سے متعلق قائم کر دہ انکوائری کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمان پر حملہ قرار دیا اور غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانے کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی تعداد برابر ہو اور 2000سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اوراس کے استعمال کی تحقیقات کریں۔ اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی آئینی ادارہ نیشنل اکنامک کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں یہ اقدام ادارں کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس مسترد کر دیا۔اجلاس نے اپوزیشن کے تمام ممبران الیکشن 2018  میں ہونیوالی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے فی الفور مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ جان بوجھ کر اس کمیٹی کو غیر فعال بنایا گیا ہے اجلاس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ 25 جولائی 2019 کو دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف متفقہ طور پر یوم سیاہ منایا جائیگا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ ایک کل جماعتی رہبر کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور اس اعلامیہ کے نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے نیا چیئرمین لانے کا فیصلہ کیا اور رہبر کمیٹی سینیٹ کے نئے چیئرمین کیلئے متفقہ امیدوار کا نام بھی تجویز کرے گی۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں حالیہ واقعات کے بارے میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف سے ملاقات پر پابندی اور ان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق میاں نوازشریف کے ساتھ ملاقات اور ان کے ذاتی معالج کو فی الفور رسائی دی جائے اور مطالبہ کیا کہ نوازشریف،آصف علی زر داری اور دیگر اسیران کی زندگی کے بنیادی دستوری اور قانونی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے موجودہ حکومت کے آئین پاکستان کے اسلامی دفعات کے خلاف اقدامات پر گہری تشویش کااظہار کیا۔

موضوعات:

loading...