غریب کی جھونپڑی حرام اور بنی گالہ کا محل حلال ہے،حکومت کوگھر جانا ہوگا،بلاول زرداری نے کھری کھری سنادیں، دھماکہ خیز اعلان

  پیر‬‮ 24 جون‬‮ 2019  |  20:43

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے قرضوں کی تحقیقات کیلئے بنایا گیا اعلیٰ اختیارتی کمیشن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں آمروں کے اقدامات سے اور ربڑ اسٹیمپس پارلیمانوں کے فیصلوں سے تحقیقات کرنی چاہیے،وزیر اعظم کی انا کے باعث قومی اسمبلی میں لفظ ”سلیکٹیڈ“پر پابندی لگادی گئی،نیا پاکستان سینسرڈ پاکستان ہے جو ہمیں نامنظور ہے، اپوزیشن کے ہر دوسرے لفظ کو حذف کرنا بھی سینسر شپ ہے،ہم پارلیمنٹ کا تقدس جانتے ہیں،کچھ ارکان اسمبلی کوپارلیمنٹ کے تقدس کاعلم نہیں،وزیراعظم اپوزیشن کی تنقید برداشت نہیں کرسکتے، اگر حکومت اپوزیشن


کریگی اور اپوزیشن بھی اپوزیشن کریگی تو حکمرانی کون کریگا؟ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی،آج کیسے مان لیں ہم کسی بھی کٹھ پتلی کا غلام بنیں، پی پی،ن لیگ سے زیادہ قرضہ لینے والے کس منہ سے حساب مانگ رہے ہیں ’، غریب کی جھونپڑی حرام اور بنی گالہ کا محل حلال ہے،حکومت اپنی تمام پالیسیوں پر نظر ثانی کرے، عوام دشمن بجٹ اورنیا پاکستان واپس لے اور قائد کا پاکستان ہمیں واپس دے،ہم عوام دشمن بجٹ برداشت نہیں کرسکتے، حکومت کوانصاف کرنا ہوگا ورنہ گھر جانا ہوگا۔ پیر کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس ایوان کو یر غمال بنایا ہوا ہے لیکن ہم اس ایوان کی عزت کرتے ہیں، یہ ایوان عوام کے حقوق کا ضامن ہے اور ہم اس کے ترجمان ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایوان کا احترام نہیں کریں گے تو جارج اورول کے ناول کے مطابق عکاسی کریں گے، عوام نے ہر آمر کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا جو ان کا اصل مقام تھا، پاکستان حاصل کرنے میں کردار ادا کرنے والی محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، شہید بھٹو کو جیل میں ڈال دیا گیا لیکن شہید بھٹو نے آمر کے ہاتھوں مرنے کی بجائے تاریخ میں زندہ رہنا پسند کیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ایوان پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، پاکستانی عوام نے ہمیشہ آمروں کو روک کرجمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔انہوں نے کہاکہ ہم پارلیمنٹ کا تقدس جانتے ہیں،کچھ ارکان اسمبلی کوپارلیمنٹ کے تقدس کاعلم نہیں، پارلیمنٹ میں معاشی مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کی تنقید برداشت نہیں کرسکتے، اگر حکومت اپوزیشن کریگی اور اپوزیشن بھی اپوزیشن کریگی تو حکمرانی کون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں آزادی ہی نہیں ہے، نہ عوام آزاد ہیں نہ ہی سیاست آزاد ہے، سینسرشپ اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مائیک بند کردئیے جاتے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنا بھی سینسرشپ ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سنا ہے کہ میری غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی میں ’سلیکٹڈ‘ لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، یہ انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہے منتخب کیا گیا، یہ کوئی غیر پارلیمانی لفظ نہیں لیکن آپ کی مرضی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی انا کی وجہ سے قومی اسمبلی میں میرے لفظ پر پابندی عائد کردی لیکن یہ تاریخی سینسرشپ ہے،یہ کس قسم کی آزادی ہے کہ اراکین قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کے فلور پر آزاد نہیں ہیں بول نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ آپ کا اختیار ہے کسی بھی لفظ کو حذف کرسکتے ہیں لیکن حکومت کا کوئی لفظ حذف نہیں کیا جاتا، کسی لفظ پر پابندی عائد نہیں کی جاتی، اپوزیشن کے ہر دوسرے لفظ کو حذف کرنا بھی سینسر شپ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں تک سلیکٹڈ لفظ کی بات ہے تو پھر عمران خان نے دھاندلی کیلئے کمیشن کیوں بنایا تھا، کیوں بار بار کہتے ہیں کہ جو بھی حلقہ کھولنا چاہتے ہیں کھول دیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب پہلے دن میں نے اسی ایوان میں تقریر کی تو اس پر وزیراعظم نے ڈیسک بجایا اور ایک سال بعد اسی لفظ پر پابندی عائد کردی جاتی ہے یہ بہت عجیب ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ قائداعظم نے ہمیں آزاد ملک بنا کر دیا تھا تاکہ ہم کسی کے غلام نہ ہو، قائد عوام نے ہمیں جمہوریت اس لیے دی تاکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی تاکہ ہم کسی آمر کے غلام نہ بنیں تو آج ہم کیسے مان لیں کہ ہم کسی بھیکٹھ پتلی کا غلام بنیں، یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان، سینسرڈ پاکستان، جو ہمارے لیے نامنظور ہے، جو بھی سمجھتا ہے کہ سنسر شپ سے ماحول بہتر ہوگا میں انہیں سمجھانا چاہتاہوں کہ آپ صرف آگ پر مزید تیل ڈال رہے ہیں۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ فرسٹریشن سامنے آئیگی جس کے صرف منفی نتائج پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ سینسرڈ پاکستان مسائل کو حل نہیں ہے بلکہ ایک آزاد پاکستان اس کا حل ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ صرف صوبائی مختاری داؤ پر لگائی گئیبلکہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ملکی معیشت داؤپرلگادی گئی۔پی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان ہوگا لیکن ہم نے دیکھا کہ ایک نہیں دو پاکستان ہے، پی ٹی آئی، آئی ایم ایف کا بجٹ امیر کو ریلیف دیتا ہے اور غریب پر بوجھ ڈالتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ غریب کیلئے ٹیکسز کا طوفان، مہنگائی کی سونامی اور بے روزگاری جبکہ چور اور ڈاکوؤں کے لیے ایمنسٹی اسکیم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آج بھی ہم معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں توامیروں کو ایمنسٹی اسکیم دیتے ہیں اور اپنے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کا معاشی قتل کررہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سادگی کے نام پر گاڑیان نیلام کی گئی لیکن وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر کا بجٹ بڑھانا منافقت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو غریب عوام کا کوئی احساس نہیں، ایک کروڑ نوکریوں کاوعدہ کرکے بجٹ میں ایک نوکری نہیں دی گئی، 50لاکھ گھرکاوعدہ کیاگیالیکن لوگوں سیروزگارچھین لیا گیا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ کہتے تھے کہ جب وزیراعظم سچا ہوگا، ہیں ڈسم ہوگا توپھر ٹیکسز خود بخود آجائیں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوجائے گا لیکن نہ زر مبادلہ نے اپنا ہدف پورا کیا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50 فیصد کمی آئی۔انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومتوں پر عوام کا زیادہ اعتماد تھا، وہ زیادہ سچے تھے، زیادہ ایماندار اور ہینڈسم تھے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ مفت میں آپ صوبوں کے معاشی حقوق کو مارنا چاہتے ہیں،اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں،این ایف سی ایوارڈ بھی نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا کہتمام صوبوں میں سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کررہا ہے، ہمارے حقوق واپس لینے کے بجائے ہم سے سیکھیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر ان بیچاروں کا کام تڑوایا جارہا ہے جنہوں نے بہت مشکل سے خود کو غربت سے نکالا ہے،وہ چھوٹے تاجر، دکاندار، ریڑھی والا جس کا کاروبار بلانوٹس ایک رات میں تباہ کردیا جاتا ہے، ان کا اور ان کے خاندان کا اسی وقت معاشی قتل ہوتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے ملک میں ہزاروں کاروباری افراد کے ساتھ ایسا ہوگا تو معیشت کو نقصان ہوگا، غریب جائے تو کہاں جائے وہ نہ حکومت کے پاس جاسکتا ہے، نہ عدالت کے سامنے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ دوغلی پالیسی ہے، دو نہیں ایک پاکستان کی حالت دیکھیں کہ غریب کی جھونپڑی حرام اور بنی گالہ کی تجاوزات حلال ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ن لیگ کی آف شور کمپنی حرام اور عمران خان کی حلال؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ الطاف حسین کی فارن فنڈنگ حرام اور پی ٹی آئی کی حلال؟ بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی،ن لیگ سے زیادہ قرضہ لینے والے کس منہ سے حساب مانگ رہے ہیں۔

loading...