نواز شریف نے ضمانت پر رہائی کیلئے آخری طریقہ بھی آزمانے کا فیصلہ کر لیا، قانونی ٹیم کو ہدایات جاری

  ہفتہ‬‮ 22 جون‬‮ 2019  |  21:26

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ضمانت منسوخ ہو جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، انہوں نے قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کر دی ہیں، میاں نواز شریف کی قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے کی منتظر ہے، جیسے ہی انہیں مکمل تحریری فیصلہ ملے گا وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ یہ اپیل میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں دائر کریں گے۔نواز شریف کی قانونی ٹیم پرامید ہے کہ انہیں ضمانت مل جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز


خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے پرنیب پراسیکیوٹرنے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دے کر علاج کی سہولت دی گئی،نواز شریف6ہفتوں کے دوران اپنی مرضی سے علاج کراسکتے تھے، 6ہفتے کی ضمانت صرف ٹیسٹ کے لیے نہیں علاج کے لیے تھی، چار پانچ میڈیکل بورڈز کی رپورٹس گزشتہ سماعت پر سامنے تھیں،سپریم کورٹ میں جو نظرثانی اپیل دائر ہوئی وہی یہاں دائر ہوئی،درخواست وہی ہے جو سپریم کورٹ میں نظر ثانی دائر ہوئی صرف کٹ پیسٹ کیا گیا،صرف ایک رپورٹ الرازی ہیلتھ کئیر لاہور کی نئی سامنے لائی گئی،درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا، ریکارڈ یہ نہیں کہتا کہ نواز شریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے،نوازشریف نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی استدعا کی،سپریم کورٹ نے نواز شریف کی استدعا مسترد کردی تھی،سپریم کورٹ میں اسی طرح کی میڈیکل رپورٹس اور انہی گراونڈز پر نظرثانی اپیل کی گئی،سپریم کورٹ نے اسی نوعیت کی درخواست مسترد کی،سپریم کورٹ نے نواز شریف کو مشروط ضمانت دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ فیصلہ ابھی بھی آن فیلڈ ہے،جس پرجسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ اگر یہ یہی بات کررہے ہوں جو سپریم کورٹ کررہے تھے تو کیا ضمانت مسترد کردی جائےعدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ایک سٹینڈرڈ قائم کیا کہ مجرم کی میڈیکل رپورٹس میں حالت خراب ہو تو ضمانت ہوسکتی ہے،زندگی بچانی ہے یہ بھی ہمیں دیکھنا ہے، جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ہفتے دو تین یا چار ہفتے کیا طبی بنیادوں پر ضمانت دی جاسکتی ہے، جس پرنیب پراسیکیوٹرنے کہاکہ جیل میں نوازشریف کا علاج اچھا ہورہا ہے،اس پرجسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ تو پھر کیا جیل میں علاج اچھا ہے اور باہر ٹھیک نہیں۔یہ کہنا چاہتے ہیں،وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اورکچھ دیربعداپنے مختصر فیصلہ میں عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست مستردکردی۔

موضوعات:

loading...