اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا،پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر ڈپریشن ہوتا ہے، کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی مایوس

  بدھ‬‮ 19 جون‬‮ 2019  |  19:28

اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا،ٹی وی پر پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر ڈپریشن ہوتا ہے اور معیشت کی خبریں سن کر مایوسی ہوتی ہے،کرکٹ ورلڈ کپ لگاتے ہیں تو پھر مایوس کن خبر ملتی ہے، کہیں سے کوئی اچھی خبر آرہی ہے تو وہ عدلیہ سے آرہی ہے،مقدمات جلد نہ نمٹنے کی وجہ سے کئی لوگ جیلوں میں قید ہیں، جیلوں میں قید افراد کے بچے بھیقیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں،فوری


انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور ماڈل کورٹس فوری انصاف فراہم کر رہی ہیں، جرائم کے خاتمے کے لیے نظام کو بہتر کر رہے ہیں،آئین کے تحت سستے اور فوری انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ترجیح ہے، ماڈل کورٹس نے 45 دن میں 5800 مقدمات کے فیصلے کیے، جھوٹے گواہ اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر جیسے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں، دیوانی مقدمے کا سامنے کرنے والا شخص اپنے گھر میں رہتا ہے جب کہ فوجداری مقدمے کا سامنے کرنے والا جیل میں رہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کے ججز کی تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی حیات علی شاہ اور ڈائریکٹر جنرل ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ سہیل ناصر بھی موجود تھے۔مجھے وہ میٹنگ یاد ہے جب ہم ماڈل کورٹس کی لانچ میں تھے تب میں نے کہا تھا کہ مجھے چیتے جج چاہئیں‘ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے چیتے جج موجود ہیں جو ڈلیور کرنا جانتے ہیں۔ آج جس معاشرے میں ہم جی رہے ہیں یہاں خبریں اچھی نہیں ہیں۔ کبھی سنتے ہیں معیشت آئی سی یو میں ہے۔ پارلیمان میں لیڈر آف ہاؤس اور لیڈر آف اپوزیشن کو بولنے تک نہیں دیا جاتا۔ ورلڈ کو دیکھیں تو وہاں ہمارے لئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ عالمی تناظر اور پڑوسی ملک افغانستان کو دیکھ کر بھی مایوسی ہوتی ہے ان دنوں میں اگر مجھے حقیقت میں اچھی خبر ملتی ہے تو وہ عدلیہ سے ملتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 137-D ہمیں جلد اور سستے انصاف کیفراہمی کی ذمہ داری دیتا ہے۔ بطور وکیل اور جج میرا تجربہ رہا ہے کریمنل مقدمات سول مقدمے کے مقابلے میں زیادہ تلخ حالات رکھتے ہیں۔ سول مقدمے میں برسوں عدالتیں سہتے ہیں تاہم وہ پھر بھی نارمل لائف جیتے ہیں تاہم کریمنل مقدمات میں جب تک کسی کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ ایک فریق مستقل جیل سہتا ہے۔ جو شخص بغیر فیصلے کے سزا سہہ رہا ہوتا ہے اس کا سورس آف انکم کچھ نہیں رہتا ابتدا میں تو اس کی فیملی سپورٹ کرتی ہے لیکن سال دو سال بعد اس کے خاندان کو شدید نتائج بھگتنا پڑتے ہیںاس کے بچے سکول نہیں جاسکتے ایسے حالات میں اس فیملی کا سرواول آف لائف مشکل ہوجاتی ہے۔ جس کے دور رس نتائج یہ ہوتے ہیں کہ اس کی فیملی برائی میں شامل ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے کریمنل کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا میرے مرحوم والد جو پیشے سے وکیل تھے نے مجھے نصیحت کی تھی کہ قتل کے مقدمات کا ٹرائل تین دن سے اوپر نہیں جانا چاہیے اسی نظریے کے مطابق ہم نے التواء شدہ مقدمات کو نمٹانے کی ٹھانے اور مادل کورٹس کےفرسٹ فیز میں میں اس پر تفصیل سے اظہار خیال کر چکا ہوں۔ اڑتالیس دنون میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات کا ٹرائل مکمل کرنا یقیناً ناقابل فراموش ہے اس میں ایف جے اے کے ڈائریکٹرز‘ لیگل آفیسرز‘ ماڈل کورٹ ججز اور پولیس کا یکساں کردار ہے۔ شواہد اور گواہوں کی سچائی کے حوالے سے 1951 ء میں ججز کے فیصلے میں کہا گیا کہ جھوٹے گواہوں کو یا تو عدالتوں میں داخل ہی نہیں ہونے دینا چاہیے یا پھر یہ جج پر چھوڑ دینا چاہیے کہ آیا کہ گواہ نے جو کہا وہ سچ تھا یا جھوٹ تھا۔آج 2019 ء میں ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ گواہی اور شہادت میں جھوٹ شامل کرنے والا ہمیشہ کیلئے جھوٹا اور لائق سزا ہے۔ یہی اسلام کا بھی معیار ہے ماڈل کورٹ کا آئیڈیا 2017 ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے دیا تھا۔ سات اضلاع سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ کہتے ہیں منزل پر پہنچنے کیلئے قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ اور الحمد اللہ ہم نہ صرف قدم اٹھا چکے بلکہ منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ سول ماڈل کورٹ‘ فیملی ماڈل کورٹ‘رینٹ ماڈل کورٹ اسی سلسلے کی اگلے مرحلے کی کڑی ہیں جس کی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ جینڈر بیس وائیلنس کورٹس اور چائلڈ کورٹ اس کے علاوہ ہیں۔ جینڈر بیس کورٹس دنیا بھر میں موجود ہیں رشیاء میں کانفرنس میں شمولیت کے موقع پر جہاں دنیا بھر کے ججز نے اپنے اپنے ملک کے حالات بتائے وہاں میں نے فخریہ انداز میں بتایا کہ ہم اس معاملے میں ملک بھر میں 116 چائلڈ کورٹس کا قیام عمل میں لا رہے ہیں۔ ان تمام عدالتوں کا ماحول دیگر عدالتوں سے مختلف ہوگا۔بلا شبہ چائلڈ کورٹس کے اتنے کیسز نہیں ہوتے تاہم بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہم یہ اقدامات اٹھانے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے موقع پر عدالتوں کو بھی آن لائن کردیا ہے ابتداء میں سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر 1 کو ایک ہفتے بھر کیلئے ای کورٹ ڈکلیئر قرار دیا گیا۔ اس اقدام سے وکلاء برادری کافی خوش ہے کیونکہ انہیں ہر پیشی پر مختلف شہروں سے سفر کرکے اسلام آباد آنا پڑتا تھا۔ ای کورٹ کے قیام سے تمام اضافی افراد پر بھی قابو پالیا گیا ہےجو بلآخر صارف کے گلے پڑتے تھے۔ ہم ای کورٹ سسٹم کو کوئٹہ رجسٹری سے شروع کرنا چاہتے تھے چند ناگزیر وجوہات پر ایسا نہ ہوسکا۔ تاہم جولائی کے آغاز میں کوئٹہ میں بھی ای کورٹ سسٹم فعال ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین ججز اور سات سپورٹنگ سٹاف کو امریکہ میں ریسرچ سینٹر بابت تربیت کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ ہم ان ریسرچ سینٹرز کے قیام سے مختلف مقدمات میں دنیا بھر سےایسے واقعات سے روشنی لے سکیں گے۔ آخر میں جس اچھی خبر کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ یقیناً وہ آپ سب کیلئے سرپرائزنگ ہوگی۔ ہم عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم رائج کرنے جارہے ہیں۔ یہ وہ جدید طریقہ کار ہے جس کے تحت کمپیوٹر پہلے سے دیئے گئے فیصلوں کے حوالے دے سکے گا۔ کوئی بھی عدالت ہو وہ اپنے کیس کے فیکٹ کمپیوٹر میں ڈالے گی تو کمپیوٹر اس کو اس حوالے سے قبل ازیں کے عدالتی فیصلوں کی بابت مکمل معلومات ایک کلک پر فراہم کرے گا۔میں ایک دفعہ پھر کہنا چاہتا ہوں کہ عدلیہ وہ واحد سیکٹر ہے جو اس وقت اچھی خبریں دے رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے جج پیشن سے کام کریں نہ کہ اپنے کام کو صرف نوکری سمجھ کر کیا جائے اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے آپ سوچیں اگر اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرنے والا ہے تو آپ کو کوئی مشکل کیسے آسکتی ہے۔ آپ کی صحت آپ کے گھر بار خاندان ان تمام کی ذمہ داری یقیناً اللہ تعالیٰ کی محبت کس سپرد ہوگی جب اللہ تعالیٰ محافظ بن جائے تو انسان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماڈل کورٹس کیسز کی اپیل کیلئے بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو کہا گیا ہے کہ ان کی اپیل کے کیسز بھی تین دن میں مکمل ہونے چاہئیں نہ کہ اپیلیں تین تین سال لٹکی رہیں۔ بینکنگ کورٹ کے حوالے سے بھی سپیشل بنچ بنائے جارہے ہیں اخبارات کے ذریعے آپ کو پتہ چل چکا ہو گا کہ کریمنل اپیلیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔

loading...