چیئرمین نیب پرالزام لگانے والی خاتون کس کی بیٹی ہے؟اس سے پہلے کیا کچھ کرتی رہی؟اس کا پی ٹی ایم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟سنسنی خیز انکشافات

  جمعہ‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2019  |  22:26

لاہور(این این آئی) سماجی رہنما سردار اعظم رشید نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف آڈیو ویڈیو ریلیز کرنے والے گینگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب پرالزام لگانے والی خاتون ایک ڈرائیور کی بیٹی ہے اور اس گروہ کاپی ٹی ایم کے ساتھ بھی رابطہ ہے،اس گینگ کے پیچھے کتنے بڑے ہاتھ ہیں انہیں بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں،ویڈیو کلپ کی خاتون جھنگ کے رہائشی فاروق نول کی بیوی ہے، خاتون افسران سے تعلق بنانے کی ماہرہے۔لاہور پریس کلب میں اس گینگ کے دیگر متاثرین کے ہمراہ


پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار اعظم رشید نے کہا کہ گزشتہ روزنجی چینل نے چیئرمین نیب کیخلاف آڈیو،ویڈیو ریلیزکی جس میں چیئرمین نیب کی کردارکشی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں بھی اسی گینگ کاشکار ہوچکا ہوں اور متاثرہ ہونے کے ناطے پریس کانفرنس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جھنگ میں فاروق نول کی پہلی ایف آئی آر جانور چوری پر درج ہوئی، فاروق نول نے اپنی سگی ماں کو 2 ایکڑ کی وجہ سے قتل کیا، فاروق نول ایک رکن اسمبلی کے ہاں سکیورٹی گارڈ تھا، اس کا ذریعہ معاش انسانوں کو لوٹنا ہی ہے، اس گروہ نے متعدد جعلی وزٹنگ کارڈ بھی بنا رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب پرالزامات لگانے والوں کے پیچھے پورا مافیا ہے، چیئرمین نیب پر الزام لگانے والی خاتون ایک ڈرائیور کی بیٹی ہے، اس گینگ کے پیچھے کتنے بڑے ہاتھ ہیں انہیں بے نقاب کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا چیئرمین نیب پر الزام لگانے والے جرائم پیشہ افراد اب ارب پتی بن چکے، لوگوں کو بلیک میل کرکے اربوں کی جائیدادوں کے مالک بن گئے، چیئرمین نیب کوبلیک میل کرنے والے سیاسی جماعتوں کو بھی فنڈنگ کرتے ہیں، اس گروہ کاپی ٹی ایم کیساتھ بھی رابطہ ہے اور اس گروہ کاذکرپی ٹی ایم والے خودبھی کرچکے ہیں، اس گروہ کے افغانستان اور بھارت میں بھی تعلقات ہیں۔سرداراعظم رشید نے کہا کہ میرے نام کی سم کے ذریعے متعددافسروں کوقتل کی دھمکیاں دی گئیں، یہ اشتہاریوں کاگروپ ہے اور مجھ سمیت کئی افرادشکار ہوچکے ہیں،اس گینگ میں سیاسی جماعتوں سمیت کچھ سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں، گینگ نے اپنے ایک ساتھی کو اثر و رسوخ کی وجہ سے ایف آئی اے سائبر ونگ میں تعینات کرایا۔یہ گروہ سائبرکرائم کا ماہر ہے، کمال کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں، گینگ کی بلیک میلنگ سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگ متاثرہیں۔یہ گینگ اس قسم کی ویڈیوزہمارے خلاف بھی بناچکاہے، اس گینگ نے ڈی جی نیب کابھی وٹس ایپ بنایاہواہے، ہماری طرح چیئرمین نیب بھی گینگ کے متاثرین میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس گروہ کے فراڈ کی بہت سی داستانیں ہیں،یہ لوگوں کو باہر بھیجنے کا فراڈ بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طیبہ گل جعلی واٹس بنانے میں ماہر ہے،ماضی میں طیبہ کسی ٹیلیفون کمپنی میں تھی،طیبہ گل نے میرے ملازم کی ڈوپلیکیٹ سم حاصل کی،جعلی سم پر میرے نام سے واٹس اکاؤنٹس بنایا گیا،طیبہ گل اور فاروق پر جعلی ویڈیوز اور واٹس ایپ بنانے پر ایف آئی آر زدرج ہیں۔اس گروپ کا کاروبار ایف آئی آرز کرانا ہے،24 لاکھ روپے میں نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نیب کا ترجمان نہیں ہوں بلکہ متاثرہ شہری کی حیثیت سے پریس کانفرنس کر رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ چیئرمین نیب ویڈیوز سے متعلق کیس رجسٹر کرائیں گے۔۔ انہوں نے کہا کہ فاروق نول کی 3 سے 4 شادیاں ہیں،طیبہ گل کا ہر شہر میں نیا نام ہے،اس کی فاروق کے ساتھ کنٹریکٹ میرج ہے،اس کو صرف فراڈ کے لئے رکھا گیا ہے،آجکل اسلام اباد میں مس کرن اور لاہور میں پنکی کے نام سے مشہور ہے،یہ کبھی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر بن جاتے ہیں اور لوگوں کو باہر بھیجنے کے لئے رقوم لیتے ہیں،ایک خاتون سے باہر بھیجنے کے لئے 60 لاکھ روپے وصول کئے۔سرکاری محکموں میں داخل ہونے کے لئے جھوٹی درخواست جمع کرا دیتے ہیں،نیب دفتر میں داخل ہونے کے لئے مسنگ پرسن میں پھوپھو کے اغوا ء کی درخواست دی۔اس کی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی پھوپھو اغوا نہیں ہوئی۔ کچھ پولیس افسران بھی ان کے ساتھ شامل ہیں،ان کے ساتھ کچھ پوشیدہ طاقتیں ہیں جو انہیں اوپر تک پہنچاتے ہیں،جیسے ہم ٹریپ ہوئے ویسے ہی چیئرمین نیب کو بھی ٹریپ کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں موجود متاثرہ خاتون صبا حامد نے کہا کہ اس گروہ نے مجھے بیرون بھجوانے کا جھانسہ دے کر پیسے بٹورے اور بعد میں میرے خلاف ہی جھوٹے مقدمات درج کرا دئیے۔ایک اور متاثرہ خاتون شمشاد نے کہا کہ میرے بچوں پر جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے، اس گروہ کو بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ طیبہ گل افسران کے پاس جا کر پلان سے ویڈیو بناتی ہے اور پھر اسی کو بھجوا دیتی ہے۔

موضوعات:

loading...