ہم پاکستان میں حرام کو حلال کرنے کی اسکیم نہیں لاسکتے،نئی ٹیکس ایمسنٹی اسکیم میں کیا ہوگا؟چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے بڑا اعلان کردیا

  ہفتہ‬‮ 18 مئی‬‮‬‮ 2019  |  21:11

کراچی(این این آئی)چیئرمین فیڈرل بورد آف ریونیو(ایف بی آر)محمد شبر زیدی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں حرام کو حلال کرنے کی اسکیم نہیں لاسکتے،نئی ٹیکس ایمسنٹی اسکیم میں کسی قسم کی کوئی ابہام نہیں ہے،اسکیم کے لیے فنانس بل میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی،اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو جلد قوانین جاری کی جارہے ہیں، کراچی چیمبر ٹیکس کم کرنے کا حل بتادے میں بجٹ سے پہلے آپکا مسئلہ حل کردونگا،چند خام مال پر تو ریلیف دیا جاسکتا ہے سب پر ٹیکس چھوٹ نہیں ملے گی،ہماری انڈسٹری کو فراڈ کیلئے استعمال کیا گیا،غلطیاں ہمارے لوگوں


کی بھی ہے،ویلیو ایشن کمیٹی کی رپورٹس سے میں مطمئین نہیں ہوں اورویلیو ایشن کمیٹی کا میکنیزم آئندہ ہفتے ریویو کیا جائے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجربرادری سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پربزنس کمیونٹی کے لیڈرسراج قاسم تیلی،کراچی چیمبر کے صدر جنیدماکڈا،زبیرموتی والا،طاہر خالق،انجم نثار،ہارون فاروقی،زکریا عثمان،اے کیوخلیل اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ جاوید بلوانی،سلیم پاریکھ،عارف لاکھانی،شوکت احمد اور دیگر تاجررہنما بھی موجود تھے۔  چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی نے کہا کہ  افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سیاسی ایشو ہے، افغان ٹرانزٹ کے علاوہ بھی پاکستان میں اسمگلنگ کی جارہی ہے،اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے علاوہ بھی اسمگلنگ ہورہی ہے،بندر گاہوں پر انسداد اسمگلنگ پر کام جاری ہے، تاجربرادری بھی اس ضمن میں اپناکردار اداکرے،دکانوں پر اسمگل اشیا فروخت کرنے والوں کے  خلاف بزنس کمیونٹی خود بھی اپنا کردار ادا کرے اور تاجربرادری ماہ رمضان کے احترام میں اسمگل شدہ اشیاء کی فروخت ازخود بند کریں کیونکہ اسمگل اشیاء بیچنا بھی شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کراچی چیمبر کی قیادت سے سوال کیا کہ کیا اسمگل اشیا کی فروخت درست اقدام ہے،اسمگل چیزیں بیچنا جرم ہے ناں تو پھر ہم آج سے ہی بازاروں میں اسمگل اشیا پر ریڈ مارتے ہیں پھر آپ لوگ ہڑتال اور احتجاج پر نہیں کرینگے،  دکانوں اور انڈسٹریل کا ڈیٹا سامنے آنے کے بعد عوام کو بھی پتہ چل جائے گا،کون ٹیکس دیتا ہے اور کون ٹیکس نہیں دیتا اس کا ڈیٹا عوام کے سامنے لاؤں گا اور میں پاکستان میں کتنی دکانیں اور انڈسٹریز ہیں اس کا مکمل ڈیٹابھی جلد سامنے لاؤں گا۔میں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا تھانیب،ایف آئی اے تاجروں کے اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں،سیاستدانوں کے جھگڑے کی وجہ سے کاروبارکاماحول خراب نہیں ہوناچاہیے،ہم  خوف و ہراس کا ماحول روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایف آئی اے سے کہا کوئی کارروائی کرنی ہے تو پہلے ایف بی آرسے بات کریں،ڈالر کے حوالے سے گورنراسٹیٹ بینک سے کہوں گاوہ اپنی پوزیشن واضح کریں کہ انکے ذہن میں کیاہے۔چیئر مین ایف بی آر  نے کہا کہ کراچی چیمبر میرا ہوم گراونڈ ہے، صنعتکار کی عزت کرتاہوں یہ روزگار دیتے ہیں،۔شبر زیدی نے کہا کہ  نیب اور ایف آئی اے کے نوٹس خوف پھیلا رہے ہیں،خوف و ہراس کے ماحول کو کم کرنے جارہے ہیں، ڈالرکارونا رورہے ہیں وہ سال 2018 کے 36 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کاگناہ ہے۔شبر زیدی  نے کہا کہ کراچی چیمبر کہتا ہے درآمد کے وقت خام مال پر تین اور چھ فیصد وود ہولنڈنگ نہیں ہونا چایئے، درآمد خام مال پر وود ہولڈنگ ٹیکس نہیں ہونا چایئے یہ درست ہے،اب کراچی چیمبر فہرست دے کہ کون سی اشیا درآمد خام مال ہے، وہ درآمدی اشیا بتادیں جو خام مال میں آتا ہے اس پر  فوری اقدامات کئے جائیں گے، درآمد خام مال پر کس طرح سے ڈیوٹی وصول کی جائے اس کے لیے تمام فارمولے ہر کام کیا گیا،ایف بی آر کوخام مال کی درآمدپر وصول کردہ ودہولڈنگ ٹیکس بالآخر ریفنڈ کرناہوگا،177 کا آڈٹ سال میں ایک مرتبہ اور وہ بھی چند لوگوں کا ہوگا۔ شبر زیدی نے کہا کہ آج فیصلہ کرلیتے ہیں کہ غلط کام میں ملوث ایف بی آر کے دو آفیسر میں بند کراتا ہو ں اور بزنس مین بھی غلط کام کرنے والے افراد کو گرفتار کرائیں،ایک شخص نے سوئزرلینڈ سے اپنے اثاثے سنگاپور ٹرانسفر کئے اور سنگاپور سے تفصیلات ہم تک پہنچی ہیں،بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے تین اکاؤنٹس ظاہر کئے ایک اکاؤنٹ چھپا لیا،ادارے کے علاوہ جوشخص آپ کے کھاتوں کی تفصیلات دے گا میں اعلان کرتا ہوں اس شخص کو گرفتار کرادوں گا۔انکا کہنا تھا کہ چندخام مال پر تو ٹیکس میں ریلیف دی جاسکتی ہے لیکن سب خام مال پر ٹیکس چھوٹ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ آج کے ماھول میں آڈٹ کرنا گناہ بے لذت ہے اور آدمی گناہ وہ کرے جس میں ثواب ہو۔۔انکا مزید کہنا تھا کہ کرنسی اسمگلنگ کو روکنے کی ضرورت ہے،دنیا میں کہیں ایکس چینج کمپنیاں نہین ہین لیکن پاکستان میں بے کوف کام کررہی ہیں،ہم حوالہ ہنڈی کو سیٹل کرنے کی کوشش کرینگے۔ صدر کراچی چیمبر جنیدماکڈا نے کہا کہمعاشی ترقی کے لیے کیا کیا اہم فیصلے کرنا ہونگے، بزنس کمیونٹی کو پہلے بجٹ پھر منی بجٹ  میں گھمایا جاتا رہا ہے،نئے چیئرمین ایف بی آر نے حالیہ اقدامات کئے ہیں اس سے تاجرون کا اعتماد بحال ہوا ہے،ٹیکس دہندگان کو اب بلا وجہ ہراساں نہیں کیا جائے گا،ملک کی 65 سے 70 فیصد آمد کراچی شہر سے ہوتی ہے،  آنے والے بجٹ میں کیا ہوگا اس پر بہت سے خدشات ہیں،آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو پریشانی کا سامنا ہے، ایمنسٹی اسکیم کے لئے وقت بہت کم دیا گیا ہے اس اسکیم کی تاریخ میں توسیع کی جائے کیونکہرمضان کی وجہ سے  اسکیم سے مستفید ہونا مشکل ہے۔چیئرمین بزنس مین گروپ  سراج قاسم تیلی  نے کہا کہ فیکٹریوں پر بیٹھ کر ڈیٹا انٹری سے کیا پتہ چلتا ہے،ایف بی آر والے فیکٹری پر بیٹھ کر صرف پریشان کرتیہیں،قانون کوئی خراب نہیں ہوتا اس کا غلط استعمال کرنے والے خراب ہوتے ہیں،ایف بی آر کا افسر اگر غلط کام میں ملوث ہو تو اس کے خالف کارروائی کی جائے۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ    600بلین آپ کے ادارے نے ٹیکس کم کیا،اب آپ مزید نئے 600ارب کے ٹیکس لگارہے ہیں،کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے،اپنی چادر دیکھ کر بجٹ تیار کریں۔

موضوعات:

loading...