حکومت کے دباؤ اور عوام کے شدید ردعمل کے بعد دوا ساز کمپنیوں نے گھٹنے ٹیک دیے، ادویات کی قیمتوں میں کمی اور بیشتر ادویات بغیر نفع یا نقصان کے فروخت کرنے کا اعلان

  بدھ‬‮ 17 اپریل‬‮ 2019  |  22:31
کراچی(آن لائن)پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررزایسو سی ایشن نے حکومت کے دباؤ ، صارفین کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے 395ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔اس کمی کا اطلاق آئیندہ 15روز کے دوران ہوگااور قیمتوں میں کمی کا اطلاق ہارڈشپ کیسز سمیت تمام ادویات پر ہوگا۔یہ بات پی پی ایم اے کے چیئرمین زاہد سعید نے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر سابق چیئرمین ڈاکڑ قیصر وحید ، فارما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکڑعائشہ شمی حق اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔زاہد سعید نے کہا کہ 45ہزار ادویات کی قیمتوں میں صرف 15فیصد جبکہ صرف 105اوویات میں 50فیصد اضافہ کیا گیا ہے مگر میڈیا میں اس اضافے کو 200فیصد بیان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے روپیہ کی قدر میں مسلسل کمی ہو ئی ہے جو کہ 104سے 143فی ڈالر پہنچ چکی ہے۔اس صورتحال سے خام مال، پیکنگ میڑیل، گیس، بجلی، سروسز اور بینک مارک اپ(جو کہ 6%سے 12%فیصد ہوچکا ہے)میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ وہ مصنوعات اور اجناس جو 100%لوکل اور ملکی پیداوار ہیں افراط زر کی زد میں آئی ہیں۔ادارہ شماریات کے مطابق صرف مارچ 2019میں 12%افراط زر ہوا ہے صرف آٹے کی قیمت 10روپے سے 40روپے پہنچ چکی ہے ان مشکل حالات میں فارما انڈسڑیز اب بھی ریجنل کی سطح پر قیمتیں رکھنے کو تیار ہے۔ہندوستان میں 1400میں سے صرف 124ادویات کی قیمتیں کنڑول ہیں جبکہ بنگلادیش میں ان کی تعداد صرف 92ہے۔اس تعداد کے علاوہ تمام ادویات کی قیمت کا تعین آزاد مارکیٹ نظام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان حقائق کے باوجود فارما انڈسڑیز سستی ادویات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے جن کی کوالٹی دنیا کے کسی بھی ملک سے کم نہیں اور مقامی فارما انڈسڑی کی پیداواری لاگت دنیا میں کم ترین ہےجس کی وجہ پیداواری اور جدید ترین ٹیکنالوجی ہے۔ اس کے علاوہ پرائس پالیسی 2018میں بھارت اور بنگلادیش کی قیمتوں کو معیار رکھاگیا ہے جو کہ برانڈ سے برانڈ کے تقابل کے نتیجہ میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔اگر جنوری 2018کے معاشی حالات کوٹا دیئے جائیں تو فارما انڈسڑی کو اضافے کے مطالبے کی ضرورت باقی نہ رہے۔میڈیا میں ادویات کی قیمتوں میں 200%اضافے کی سرخیاں لگائی گئیں جو کہ بہت محدود تعداد میں ہیںیا تو پاکستان میں بنتی نہیں یا ان کے خام مال کیبین الاقوامی قیمتوں سے کئی گناہ اضافہ ہواہے۔45000ادویات کی قیمتیں 15%کے اندر اضافے میں شامل ہیں جو کہ SRO35بمطابق 10جنوری 2019ہے۔464ادویات کو ہارڈشپ کے تحت اضافہ دیا گیا جو کہ SRO1610بمطابق 31دسمبر2018ہے اس میں صرف 105ایسی ہیں جن میں 50%سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔جن 395ادویات کی قیمتیں SRO1610میں وفاق نے کم کی ہیں ان کو فارما انڈسڑی تسلیم کرتی ہے اور فوری طور پر اس کمی کو نافذ کیا جارہا ہے یہ کثرت سے استعمال ہوتی ہیںاور نامور ادویات ہیں۔اس اقدام سے عوام کی ادویات تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔جن 464ادویات کی قیمتوں میں ہارڈشپ کے تحت اضافہ کیا گیا ہے وہ اس زمرہ میں آتی ہیں جو ناقابل پیداوار تھیں اور انتہائی ضروری ہیں۔اس کے باوجود وزیر صحت کے انتہائی اصرار و دباؤ اور عوام تک ادویات کی رسائی کو سہل بنانے کیلئے ان قمیتوں میں رضاکارانہ طور پر کمی کی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں موجود نفع ختم ہو جائے گا اور یہ قیمت لاگت پر فروخت کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے آج سے نافذ العمل ہیں اور نئے اسٹاک کی فراہمی 15دن کے عرصے میں مکمل کرلی جائے گی کیونکہ دوردراز علاقوں تک پہنچنا ایک دشوار طلب کام ہے۔

loading...