’’اس جرم سے بڑا جرم کوئی نہیں ہو سکتا‘‘پرویز مشرف کیخلاف سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

  جمعرات‬‮ 4 اپریل‬‮ 2019  |  21:00
اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچانے کے معاملہ پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ سنگین غداری کے جرم سے بڑا جرم کوئی نہیں ہو سکتا، 2014 سے اب تک ملزم کی غیر موجودگی کے باعث مقدمے کو طوالت دی گئی جس پر تشویش ہے ، پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے ٹرائل میں تاخیر سے متعلق رجسٹرار خصوصی عدالت کا جواب افسوسناک ہے،پاکستان کے ہر شہری پر آئین پاکستان پر عمل کرنا لازم ہے،کسی ملزم کی بیماری یا غیر حاضری کے باعث ٹرائل روکا نہیں جا سکتا،خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف غیر حاضری کی صورت ٹرائل کو شق 9 کے تحت آگے بڑھائے۔ جمعرات کو حکم نامہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔حکم میں کہاگیاکہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کی شکایت بارہ دسمبر دو ہزار تیرہ کو دائر کی گئی، حکمنامہ کے مطابق 31 مارچ 2014 کو پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی گئی،استغاثہ کے شواہد 18 ستمبر 2014 کو ریکارڈ کیے گئے۔حکمنامہ کے مطابق ملزم پرویز مشرف کو 12 جولائی 2016 کے دن اشتہاری قرار دیا گیا۔حکمنامہ کے مطابق سپریم کورٹ نے 24 فروری 2016 کو پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا تھا۔ حکمنامہ کے مطابق ہمیں تشویش ہے کہ 2014 سے اب تک ملزم کی غیر موجودگی کے باعث مقدمے کو طوالت دی گئی۔حکمنامے میں کہاگیاکہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے ٹرائل میں تاخیر سے متعلق رجسٹرار خصوصی عدالت کا جواب افسوسناک ہے،سنگین غداری کے جرم سے بڑا جرم کوئی نہیں ہو سکتا، سنگین غداری ایک آئینی جرم ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ آرٹیکل چھ کے مطابق آئین شکنی یا آئین معطل کرنا سنگین غداری ہے، آئین وہ بنیادی قانون ہے جو عوامی منتخب کردہ نمائندوں نے بنایا ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ پاکستان کے ہر شہری پر آئین پاکستان پر عمل کرنا لازم ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ آئین شکنی کے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کی غیر حاضری پر ٹرائل میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ قانون پر ہونے والی پارلیمانی بحث کے مطابق ملزم کے خلاف قومی سلامتی کے حوالے سنگین الزام عائد ہوتا ہے۔ حکمنامہ میں کہاگیاکہ الزام ثابت نا ہونے پر فوری بری کرنا بھی لازم ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ قانون کی شق 9 کے تحت ٹرائل غیر ضروری التوا کے بغیر جاری رہنا چاہیے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ کسی ملزم کی بیماری یا غیر حاضری کے باعث ٹرائل روکا نہیں جا سکتا۔ حکمنامہ میں کہاگیاکہ اگر ملزم خود حاضر نا ہو تو اس کے وکیل کی موجودگی میں کاروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ شق 9 کے مطابق سپیشل کورٹ ٹرائل کو آگے بڑھانے کے لیے ملزم کا وکیل خود مقرر کر سکتی ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ ملزم رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق ٹرائل میں حاضر نا ہو تو وہ شفاف ٹرائل کے حق سے محروم رہتا ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ ایسی صورت میں ملزم کے خلاف ٹرائل کو مزید طول دینا ملزم کو فائدہ دینے کے مترادف ہے۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ اشتہاری ملزم پرویز مشرف دفاع کا حق کھو چکے ہیں۔حکمنامہ میں کہاگیاکہ اگر پرویز مشرف آئندہ سماعت پر پیش ہو گئے تو وہ 342 کا بیان ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔حکمنامہ میں کہاگیا کہ خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف غیر حاضری کی صورت ٹرائل کو شق 9 کے تحت آگے بڑھائے۔ حکمنامہ کے مطابق سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی ۔

موضوعات:

loading...