نوازشریف اور آصف علی زرداری کے بعد خورشید شاہ اور مولانافضل الرحمان کا نمبر ۔۔۔! وزیراطلاعات فواد چودھری نے بڑا اعلان کردیا

  اتوار‬‮ 24 مارچ‬‮ 2019  |  19:20
لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواء کے معاملے کا سختی سے نوٹس لیا ہے ،لڑکیوں کو جلد بازیاب کرا کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا جائے گا ،’’ابو بچاؤ ‘‘کے بعد ’’ابو نکالو ‘‘مہم چلانے پڑے گی اس لئے ابھی ٹھہر جائیں آپ کا وقت بچ جائے گا ،فضل الرحمن 1988ء کے بعد پہلی بار اسمبلی سے باہر اور ان سے اسلام آباد کی دوری برداشت نہیں ہو رہی ، خورشید شاہ اور فضل الرحمن کونواز شریف اور آصف زرداری سے کوئی محبت نہیں بلکہ انہیں معلوم ہے کہ جس طرح احتساب کی باریاں لگی ہیں ان کی باری بھی آنے والی ہے ، اہم معاملات میں پاکستان سے رائے لی جاتی ہے اور آج پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کو مسلم امہ کی لیڈر شپ کے طو رپر دیکھا جارہا ہے ،کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر پر اتفاق رائے ہو جائے اگر ایسا نہ ہوا تو معاملہ کمیٹی کے پاس چلا جائے گا ،احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن ان کے پاس کچھ نہیں اس لئے بندے بھی ہم سے مانگ لیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی دو ہندو لڑکیوں کے معاملے کی و یڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس پر وزیر اعظم عمران خان اور ریاست نے سختی سے نوٹس لیا ہے ،وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پنجاب اور سندھ کی حکومت حقائق سامنے لائے ۔ وزیر اعظم نے مجھے سندھ او رپنجاب حکومت سے کوارڈی نیشن کی ہدایت کی ہے جس پر میری آئی جی سندھ اور آئی جی پنجاب سے بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کے خلاف سندھ حکومت نے اقدامات اٹھائے ہیں اور اس کے تدارک کیلئے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ یہ اطلاعات ہیں کہ لڑکیوں کو رحیم یار خان منتقل کیا گیا، جس شخص کی تعلق داری تھی اسے گرفتار کیا گیا ہےجس کے بعد پولیس نے مزید گرفتاریاں کی ہیں، اب یہ اطلاعات ہیں کہ شاید ان بچیوں کو گوجرانوالہ منتقل کیا گیا ہے جن کی تلاش جاری ہے اور رپولیس ملزمان کے قریب ہے ،بچیوں کو بازیاب کرایا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جھنڈے میں دو رنگ ہیں اور ان دنوں رنگوں کی بڑی حرمت ہے ، ہمیں سفید رنگ بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا کے سبز رنگ ہے اور اس رنگ کا بھی اتنا ہی احترام ہے ۔ قائد اعظم کے تصور کے مطابق پاکستان کیلئے اقلیتیںحکومت کی بنیادی ذمہ داری ہیں اور حکومت اس میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ واقعات ہو جاتے ہیں تاہم ایسے میں دیکھنا ہوتا ہے کہ ریاست کا رویہ کیا ہے ۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اس پر ٹوئٹ کیا ہے کہ انہیں اس پر بڑے تحفظات ہیں لیکن میں نے انہیں احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ ایسے واقعات کہیں بھی ہو سکتے ہیں،حالیہ دنوں میں نیوزی میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا او روہاں کی وزیر اعظم مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں۔ دیکھا جائے کہہندو لڑکیوں کے اغواء کے واقعہ پر حکومت اور ریاست کہاں کھڑی ہے اور ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے گجرات میں ایک نہیں ، درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور آج وہاں حکومت کے پاس ہے اور اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑی تھی ،مقبوضہ کشمیر میں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ مسیحیوں اور بدھ مت کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ، گائے ذبح کرنے پر مسلمان مارے جارہے ہیں ،ہولی کے موقع پر کرکٹ کھیلنے پر مسلمان خاندانوں کو تشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے ،بھارت میں اقلیتوں کا جو حال ہے اس کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ بھارت کو دوسرے ممالک میں اقلیتوں کے حقوق عزیز ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ اسے اپنے گھر سے شروع کریں ، مقبوضہ کشمیر اور دیگر مقامات پر اقلیتوں کے لئے آواز اٹھائیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کیس کو سلجھائیں گے او رلڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرائیں گے او رذمہ داران کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنا ہے کہ بلاول بھٹو ٹرین مارچ کر رہے ہیں ،انہیں مشورہ ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت کے خلاف ٹرین مارچ کریں ، ابو بچا ؤ مہم کافی عرصہ چلنے والی ہے ، نواز شریف اور آصف زرداری کے معاملات اتنی جلد حل ہونے والے نہیں ،آپ پھر تحریک چلا لیجیے گا او رآپ کو کافی موقع ملے گا۔ابھی آپ ابو بچاؤ مہم چلانے جارہے ہیں اور پھر ابو نکالو مہم چلائیں گے اس لئے تھوڑا انتظار کریں او رایک ہی وقت مہم چلا لیں اس سے آپ کا وقت بھی بچ جائے گا۔ جب ان سے 5ہزار ارب روپے کی کرپشن کا پوچھیں تو کہتے ہیں ہم مہم چلائیں گے ،یہ نیب کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ مولانا فضل الرحمن او رخورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت تباہ حال ہے ، حکومت نے اتنے قرضے لے لئے ہیں ۔ فضل الرحمن 1988ء کے بعد پہلی بار اسمبلی سے باہر ہوئے ہیں اس لئے ان کا دکھ سب سے زیادہ ہے ، ان سے ہاتھ ملائیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں،اسلام کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ ان سے اسلام آباد کی دوری برداشت نہیں ہو رہی ۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ 1988ء کے بعد پارلیمنٹ آپ کے بغیر چل رہی ہے اوراس میں بر کت ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے مالی خسارے میں 17فیصد اور تجارتی خسارے میں 11فیصد کمی ہوئی ہے۔ وزیر توانائی ڈویژن عمر ایوب خان نے بجلی چوروں سے 40ارب روپے وصول کئے ہیں اور چھ ہزار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ، ایسی ایسی جگہوں سے ریکوری کی گئی ہے جس کی توقع ہی نہیں تھی ،وزیر اعظم عمران خان کی اصلاحات جڑ پکڑ رہی ہیں او رانشا اللہ معیشت واپس اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہہم نے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں انتہائی کم قرضے لئے ہیں ، امسال حکومت نے اربوں روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے ،1700سے 1800کروڑ روپے سود ہے ۔ جب ان لوگوں نے معیشت ہمارے حوالے کی تھی بالکل بھی کچھ نہیں بچا تھا او رتباہ حال معیشت تھی ، اب ہم مکان کی بنیادوں سے کام شروع کر رہے ہیں اور معاملات آگے بڑھ رہے ہیں ۔ آٹھ ماہ میں کرپشن میں واضح کمی ہوئی ہے اور ٹاپ لیول پرکرپشن کی کوئی شکایت نہیں ،چھوٹی سطح پر کرپشن آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے ۔سٹیزن پورٹل پر آنے والی شکایات پر براہ راست نوٹس لیا جاتا ہے اور جس افسر کے خلاف زیادہ شکایات ہوں اسے فوری بلا کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور نوٹسز دئیے جاتے ہیں۔ قومی اداروں میں بہتری آرہی ہے ، ہسپتالوں میں بہتری لارہے ہیں اور غربت کے خاتمے کے لئے جامع او رموثر منصوبہ بندی کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں جس سے پاکستان کی بہتری ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سات ماہ میں متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور ملائیشیاء کی قیادت پاکستان کا دورہ کر کے گئے ہیں اوراب طیب اردگان آرہے ہیں ،گزشتہ پانچ سالوں میں اتنے دور ے نہیں ہوئے تھے جتنے چھ سات مہیوں میں ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج دیکھ لیں پاکستان دنیا میں کہاں کھڑا ہے اس کا مسلم امہ میں کیا مقام ہے ،آج عمران خان کی قیادت کو مسلم امہ کی لیڈر شپ کے طو رپر دیکھا جارہا ہے، امریکی صدر کے تعلقات کے حوالے سے بیانات سب کے سامنے ہیں، ہم افغانستان کے استحکام کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں ۔ حکومت نے مغرب ، امریکہ سمیت ہر ملک اورخطے کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کوتبدیل کیا ہے ،پاکستان ور عمران خان کو مسلم امہ کے لیڈر کے طو رپر دیکھا جارہا ہے ۔ یمن ، ایران، سعودی عرب اور متحد ہ عرب امارات کے معاملات پر ہم سے رائے لی جاتی ہے اور یہ اصل میں پاکستان کی اہمیت ہے ، پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کا مقام اوپر گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ۔ دونوں لاڈلے بچے ہیں ، بلاول اور مریم بی بی انہوں نے ابھی اپنی زندگی شروع کی ہے ، انہیں سیاست میں آنے سے پہلے دوسر ے معاملات بھی دیکھنے چاہئیں انہیں چاہیے کہ خدمت کریں ،ایک ایک نوکری کریں تاکہ انہیں لوگوں کے حالات کا پتہ چلے ،ابو کے پیسوں پر سیاست کرنا تو کوئی کام نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے ،عمران خان کی قیادت میں عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے گی ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر بلاول بھٹو خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ کو دیکھتے کہ ان کی تصویریں کن کن کے ساتھ ہیں تو کبھی بھی ایسا مطالبہ نہ کرتے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر تو ساری اسمبلی پر پابندی عائد کرنا پڑے ۔ انہوں نے کہا کہوزراء پاکستان کے ساتھ ہیں ، بلاول بھٹو کو اپنا بیانیہ تبدیل کر کے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ۔ انہوں نے کہا حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا ہے ، یہ 2014ء میں بنااور تمام حکومتوں نے اپنی تہی اس پر کام کیا ، پیپلز پارٹی نے سوات کا آپریشن کیا ، مسلم لیگ (ن) نے نارتھ اور ساؤتھ وزیرستان میں آپریشن کیا ،موجودہ حکومت اس میں جہاں جہاں کمی کوتاہیاں ہیں انہیں دور کر کے ان پر عملدرآمد کر رہی ہے ،نیشنل ایکشن پلان کے معاملے پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا جھگڑا نہیںبلک سب جماعتیں اکٹھی ہیں ، ہمارے ہاں کوئی ملائیشیا نہیں ، اگر ہم نے سیاست کرنی ہے تو یہاں امن چاہیے اور ایسا ماحول ہونا چاہیے کہ ہم سیاست کر سکیں اور نیشنل ایکشن پلان ریاست کی رٹ ہے اور یہ تمام جماعتوں کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے مطالبے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ کیوں کسی وزیر پر پابندی لگائی جائے وہ خود اپنے بیان کو سنجیدہ نہیں لیتے ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جہاد کا اعلان ریاست کر سکتی ہےکوئی شخص انفرادی طور پر فتویٰ دے سکتا ہے اور نہ جہاد کا اعلان کر سکتا ہے ،جہاد اہم فضلیت والی چیز ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلاول اور پیپلز پارٹی کا اصل مسئلہ پانچ ہزار کروڑ روپے کے جعلی اکاؤنٹس ہیں، ان سے پوچھیں یہ کہاں سے آئے تو یہ اور ذکر چھیڑ کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کرپشن کے خلاف اور احتساب کا بیانیہ تبدیل ہو سکے ، اس سے پہلے نواز شریف بھی احتساب کی سمت تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن اور خورشید کو نواز شریف یا آصف زرداری سےمحبت نہیں ہے انہیں معلوم ہے کہ اس کے بعد ان کی باری آنے والی ہے ۔ خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمن کے کارنامے کس سے چھپے ہوئے ہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ احتساب کی باریاں لگی ہوئی ہیں او ران کی باری بھی آنے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج کرنے کے لئے آزاد ہے اور یہ اس کا سیاسی حق ہے لیکن جب آپ ٹرین روکیں گے ، پتھر ماریں گے تو پھر قانون نے حرکت میں آنا ہے ۔کسی کے خلاف دہشتگردی کی دفعہ نہیں لگائی گئی جبکہ دھرنے میں بشمول عمران خان سب کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ احتجاج کریں کیونکہ ان کے پاس کچھ نہیں اس لئے بندے بھی ہم سے مانگ لیں ۔ انہوں نے جہانگیر ترین کی سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں انتخاب لڑنے سے روکا ہے لیکن جہاں تک معیشت اور زراعت کے حوالے سے ان کی رائے کا تعلق ہے تو ان کا بڑا تجربہ ہے اور انہیں سننا چاہیے بلکہ انہیں تو خوش آمدید کہنا چاہیے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف سے دور بار رابطہ کیا ہے اس کے بعد وہ چین اور ترکی گئے اس لئے پرویز خٹک کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ،کوشش ہے کہ اس پر اتفاق رائے کر لیں اور اگر ایسا نہیں ہوگا تویہ معاملہ کمیٹی کے پاس چلا جائے گا ۔ انہوں نے نواز شریف کے کیس کے حوالے سے کہا کہ ان کے خلاف نیب عدالت میں ہے ہم نے کچھ نہیں کرنا ، نواز شریف پلی بار گین کر لیں اور پیسے دیدیں ، ان کے جیل میں رہنے کا ہمیں کیا فائدہ ہے ، یہ کون سے عمران خان کے پیسے ہیں یہ میرے اورآپ عوام کے پیسے ہیں اور عوام کے پیسے معاف نہیں ہو سکتے۔

loading...