برگیڈیئر (ر) اسد منیر نے کیوں خود کشی کی؟ اس میں نیب کا کیا ہاتھ تھا؟ پیپلزپارٹی نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

  جمعہ‬‮ 15 مارچ‬‮ 2019  |  19:32

لاہور (ا ین این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب ،رنگ نسل نہیں اس کیخلاف مذہب، مسلک، علاقائیت سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا ،برگیڈیئر (ر) اسد منیر نے بظاہر نیب کے ہاتھوں تذلیل سے بچنے کیلئے خودکشی کی ہے ،اب تو نیب میں اصلاحات پر سنجیدہ اقدامات اٹھانا چاہئے ،عمران خان اگر منہ سے کلمہ خیر نہیں کہہ سکتے ہو تو کم سے کم خاموش رہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ کرائسٹ


چرچ میں مساجد میں گھس کر نمازیوں کو شہید کیا گیا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،دہشتگردی ایک عفریت ہے جس کے خلاف پی پی نے جب بھی بات کی بہت لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔دہشتگردی کا کوئی مذہب رنگ نسل نہیں سب مذاہب کو ملکر اس کا خاتمہ کرنا ہوگا ،تمام دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ دہشتگردی کیوں ہوتی ہے اور کیسے ختم ہو سکتی ہے ،دہشتگردی کے خلاف مذہب، مسلک، علاقائیت سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ برگیڈیئر (ر) اسد منیر پاک فوج کے بہادر افسر اور ایک قابل انٹیلی جنس افسر تھے ، بظاہر انہوں نے نیب کے ہاتھوں تذلیل سے بچنے کیلئے خودکشی کی ہے ،سیاستدانوں کی تو نیب بدنامی کرتا ہے مگر یہ پڑھے لکھے لوگ برداشت نہیں کرسکتے ،اب تو نیب میں اصلاحات پر سنجیدہ اقدامات اٹھانا چاہئے ۔ہمارے مقدمات آج ہی کراچی سے روالپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ آیا ہے ،یہی وہ تذلیل ہے جس کا اسد منیر ذکر کر کے خودکشی کی۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں پڑھنے کا رواج ہی نہیں ،بناء پڑھے سی او ڈی پر وزیراعظم باتیں کرتا پھرتا ہے ،3 دستاویز ہیں ،قرارداد پاکستان، 73کا آئین اور میثاق جمہوریت جن پر سب کا اتفاق تھا ،ایسی اہم دستاویز پر عمران خان اور ان کے لوگ بنا سوچے سمجھے بات کرتے ہیں ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ 2006 ء میں میثاق جمہوریت ہوا جب پاکستان میں آمریت تھی ،پیٹریاٹ بنا کر جمالی اور شوکت عزیز جیسے وزیراعظم بنایا گیا ،ان حالات میں محترمہ شہید نے سی او ڈی کا تصور دیا اور اہداف مقرر کئے ،عمران خان جس بات کو اچھالتے رہتے ہیں وہ سی او ڈی کے دستاویز میں نہیں دیباچہ میں ہے ،وہ بات بھی یہ تھی کہ ہم ایک دوسرے کی حکومتیں کسی کے کہنے پر نہیں گرائیں گے ،اسی اصول کے تحت ہم اس حکومت کو جعلی مینڈیٹ کے باوجود نہیں گرا رہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے این ایف سی کیا سات ہو گئے آٹھواں ہونا ہے اور یہ این ایف سی کو رویو کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا انڈیا کے ساتھ پر امن تعلقات کی خواہش مک مکا ہے ؟،خان صاحب خود انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں ہمیں کہا کہ مک مکا ہے ،فوجی عملداروں اور ججوں کے اثاثے ظاہر کرنے کا قانون بھی کیا مک مکا ہے ،فوجی مقاصد کی زمین کی الاٹمنٹ کا قانون تبدیل کرنا بھی مک مکا ہے ؟،اس میثاق جمہوریت میں 38 نقاط پر عملدرآمد ہونا تھا ،کچھ آئینی ترامیم، ادارے بنانا اور کچھ انتظامی حکم کے ذریعے نافذ ہونے والے معاملات تھے ،38 میں سے 31 نقاط پر ہم نے عمل کر لیا جسے عمران خان مک مکا کہتا ہے ،مک مکا نہیں ہم نے مفاہمت کی جس پر عمل کیا تھا ،ہم نے آئین میں ترمیم کی، کنکرنٹ لسٹ ختم کی ،سروسز چیف کا تقرر وزیراعظم کے ذریعے کرنے کی آئینی ترمیم کی ،سینیٹ ریفارمز کی ، فوجی آمروں کے آئین میں ڈالی گئی خرابیاں دور کیں ،فاتا ریفارمز کا آغاز بھی ہم نے کر دیا تھا جس کے انضمام پر آج عمران خان کر رہا ہے ،جسے عمران خان مک مکا کہہ رہے ہیں اسی پر خود عمل کر رہے ہیں ،آئینی عدالت کے قیام پر عمل نہیں ہوا ،نواز شریف افتخار چودھری کی محبت میں آئینی عدالت پر آمادہ نہیں ہوئے ،ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن، کرگل کمیشں، احتساب اصلاحات پر نواز شریف نہیں مانے،فانا کو خودمختار کرنے کو بھی یہ حکمران مک مکا کہہ رہے ہیں ،تیسری بار وزیراعظم بنانے پر پابندی کے مشرف کے قانون کو یہ مک مکا کہہ رہے ہیں،نیوکلیئر کمانڈ کنٹرول اتھارٹی کابینہ کے ماتحت ہونا مک مکا ہے ،آئی ایس آئی اور دیگر ادارے وزیراعظم کے ماتحت کام کریں گی اس پر آئینی ترمیم ہو چکی ،گیارہ میں سے دس پر ترمیم کر کے عمل کر دیا ،آغاز حقوق بلوچستان ، گلگت بلتستان کو خودمختاری دینا بھی مک مکا تھا ؟ ،خان صاحب اگر یہ مک مکا ہے تو ہم ایسے مک مکا کرتے رہیں گے، بتائیں ان نقاط میں سے کس سے پی پی یا نون لیگ کو فائدہ ہوا ؟ ،صاف شفاف انتخابات کی بات کی سی او ڈی میں وہ بھی مک مکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان آپ کو جعلی مینڈیٹ دیا گیا لیکن ہم سی او ڈی کی وجہ سے آپ کو چلنے دے رہے ہیں ،عمران خان بتا دے کہ اس میں کون کی خراب چیز ہے جس کی بنیاد پر وہ اس تاریخی دستاویز کے خلاف بات کرتے ہیں ،چیئرمن بلاول نے آج پھر نواز شریف سے سی او ڈی پر بات کی ،یہ میثاق معیشت میثاق معاشرت کی جو بات ہو رہی ہے وہ کیا ہے ،وہ سب بھی یہی ہے جو میثاق جمہوریت میں ہے ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آج ملک نازک حالات سے گذر رہا ہے جس پر سب اتفاق رائے کی بات کر رہے ہیں ،ہم یہ بات کرتے ہیں تو عمران خان تم کہتے ہو کہ مک مکا ہے ،اگر منہ سے کلمہ خیر نہیں کہہ سکتے ہو تو کم سے کم عمران خان خاموش رہیں۔

موضوعات:

loading...