4ہزار 833افراد کے اکاونٹس میں کروڑوں روپے کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت منجمند کردیا،کھلبلی مچ گئی،دھماکہ خیز احکامات جاری

  جمعرات‬‮ 14 مارچ‬‮ 2019  |  21:45
پشاور (آن لائن)خیبر پختونخوا میں 4ہزار 833افراد کے اکاونٹس میں کروڑوں روپے کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت منجمند کردیا ہے پشاور ،کوہاٹ ، ہنگو، بنوں ، چارسدہ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کاروائی کر کے ان کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور ان کے دفاتر کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد وزارت داخلہ نے 7218افرادکو بھی کالعدم افراد کی فہرست میں شامل کرکے ان کے اثاثے منجمد کردیے ہیں، کالعدم افراد کے 4863اکاونٹ کی نشاندہی ہوئی ہے جن کو فریز کردیا گیا ہے،جبکہ ان اکاونٹس میں 13کروڑ 15لاکھ 95ہزار روپے موجود تھے، بینکوں کو کالعدم قرار دیے گئے ان افراد کو کسی قسم کا بینک لون دینے سے بھی روک دیا گیا ہے،کالعدم افراد کی لسٹ میں سب سے زیارہ صوبہ کے پی کے کے 4833افراد شامل ہیں،کالعدم افراد کے 4863اکاونٹس میں 13کروڑ 15لاکھ 95ہزار روپے فریز کردیے گئے ہیں،کالعدم قراردئے گئے افرادکی لسٹ میں کچھ افراد کے شناختی کارڈ نمبردرج نہیں جبکہ کچھ کے نام دو دو مرتبہ بھی درج کئے گئے ہیں۔کالعدم قرار دیے گئے افراد کے اسلحہ لانسنس معطل کردیے گئے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق ان افراد کی مکمل نگرانی بھی کی جائے گی۔وزارت داخلہ کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے افراد کے مشکوک اکاؤنٹس کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان افراد اور تنظیموں کو ملنے والی فنڈنگ کا بھی مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکومت یہ قدم نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھا رہی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو بھی کالعدم تنظیموں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا کہا گیا ہے۔

موضوعات:

loading...