بارشوں نے تباہی مچا دی، اہم شہر میں محکمہ زراعت کا ریکارڈ سیلاب میں بہہ گیا،اربوں روپے کے زرعی آلات ،فرنیچرز ،ریسٹ ہاؤس بھی سیلاب کی نذر

  جمعہ‬‮ 22 فروری‬‮ 2019  |  22:57
اوتھل (آن لائن ) حالیہ سیلابی ریلوں سے ناریل فارم اوتھل ملیا میٹ ہوگیا ،محکمہ زراعت لسبیلہ کا ریکارڈ سیلاب میں بہہ گیا،اربوں روپے کے زرعی آلات ،کروڑوں روپے کے فصلات ،دفترز ،رہائشی کالونی ،فرنیچرز ،ریسٹ ہاؤس ،بانڈری وال ،سولر پلیٹ ،کپاس اور گندم کا بیج بھی سیلاب کی نذر ہوگیا کھانٹا ندی میں طغیانی سے حکومت بلوچستان کو اربوں روپے کا نقصان ناریل فارم تباہ ہونے سے سینکڑوں ملازمین کے سروس بلز پانی میں بہہ گئےتفصیلات کیمطابق حالیہ بارشوں کے دوران کھانٹا ندی میں آنیوالے سیلابی ریلے نے محکمہ زراعت لسبیلہ کا پورا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے ناریل فارم اوتھل مکمل طور پر ملیا میٹ ہوگیا ٹریکٹرز سمیت دیگر زرعی آلات گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئیں محکمہ زراعت توسیعی کے دفتر میں سیلابی ریلہ داخل ہوگیا 105ملازمین کے سروس بلز ریکارڈ اور تمام فرنیچرز ،کمپیوٹرز ،فوٹو اسٹیٹ مشین ،اور پرانا کپاس کا بیچ اور گندم کا بیج بھی سیلاب میں بہہ گیا جبکہ ناریل فارم اوتھل کا مین گیٹ ،مسجد بھی شہید ہوئی ہے اورسینکڑوں ایکڑ پر کاشت گندم ،مکئی سمیت دیگر فصلات ،تمام زرعی آلات جن میں ٹریکٹرز ،گاڑیاں اور ان کے جیکز ،پانے سمیت دیگر ریسٹ ہاؤس ،کوارٹرز ،رہائشی کالونی ،سولر پلیٹ ،تین عد د ٹیوب ویل بور اور بانڈری وال سمیت پورا ناریل فارم شدید متاثر ہوگیا ہے نرسری کے پلانٹ بھی سیلاب کے نذر ہوگئے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈ ایٹو ریسرچ اوتھل فارم نواز علی ساجدی ایس ایس ایم ایس کے فارم کو بھی سیلاب نے شدید متاثر کردیا ہے دو عد د ٹیوب ویل ،تین سوئپ روم ،36سولر پلیٹ ،ڈھائی ایکڑ مکئی کی فصل ،6ایکڑ گندم کی فصل اور چیکو ،بیر ،بانسے ،لیموں کے فصلات مکمل طور پر ختم ہوگئے اور ایک عدد ٹریکٹر فور ،زرعی آلات ،آفس ریکارڈ ،موٹر سمیت 65ملازمین کا ریکارڈ بھی سیلاب کی نذر ہوگیا جبکہ واٹر مینجمنٹ لسبیلہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بلال احمد بلوچ اور بجٹ اینڈ اکاؤنٹ آفیسر زراعت اعجاز علی ،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی لسبیلہ تنویر احمد چنہ ،ڈپٹی ڈائریکٹر ناریل فارم قمر الدین بلوچ ،ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈ ایٹو ریسرج نواز علی ساجدی کے آفسز میں بھی سیلابی ریلہ داخل ہوگیاجس کی وجہ سے ان کے دفترز شدید متاثر ہوگئے اور سرکاری ریکارڈ مکمل طور پر تباہ ہورہ گیا اور آفس کے فرنیچرز بھی سیلاب کے نذر ہوگئے اور ناریل فارم اوتھل کی سینکڑوں اراضی بھی سیلاب میں آکر درہم برہم ہوگئی ہے واضح رہے کہ 2003میں بھی کھانٹا ندی میں طغیانی آیا تھا جس سے ناریل فارم اوتھل شدید متاثر ہوا تھا لیکن اس مرتبہ سیلابی ریلے نے تو مکمل ناریل فارم کو ملیا میٹ کردیا گیا ہے اور فارم میں موجود تمام سرکاری ریکارڈ سیلاب کی نذر ہوگیا ہے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت لسبیلہ کو فنڈز جاری کیئے جائیں تاکہ ناریل فارم اوتھل کو دوبارہ اپنی حالت میں لایا جاسکے جبکہ محکمہ زراعت لسبیلہ کے افسران نے بتایا ہے کہ کھانٹاندی میں آنیوالے سیلابی ریلے نے نہ صرف فارم کو تباہ کردیا ہےبلکہ فارم میں موجود تمام مشینری بھی سیلاب میں بہہ گئی ہے اور کروڑوں کی لگی ہوئی فصلات بھی تباہ ہوگئی ہے ہم افسران سمیت ملازمین کا ریکارڈ بھی غائب ہوگیا ہے جبکہ ناریل فارم اوتھل کے افسران سمیت 76ملازمین کا سرکاری ریکارڈ بھی سیلاب میں بہہ گیا ہے اور اس حوالے سے رپورٹ بناکر اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی ہے جبکہ ناریل فارم اوتھل کے ملازمین نے فارم میں صفائی ستھرائی کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے لیکن اب بھی فارم میں سیلاب کا پانی موجود ہے جس کی وجہ سے انہیں بھی دشواری کاسامنا ہورہا ہے اور حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ وہ ناریل فارم کو واپس اپنی حالت میں بحال کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جبکہ ملازمین کے ریکارڈ سیلاب ڈوب جانے کے متعلق رحیم رونجھو ،کریم بلوچ ،میر مگسی نے صحافیوں کو تفصیلات بتایا کہ تمام ملازمین کا سرکاری ریکارڈ میں ڈوب کر خراب ہوچکا ہے۔

موضوعات:

loading...