پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی ہوگیاعدم استحکام کی وجہ سے تجارتی خسارہ انتہائی تشویشناک سطح پر،امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے انتباہ کردیا

  منگل‬‮ 12 فروری‬‮ 2019  |  20:22

اسلام آباد(آن لائن)مرکزی بینک نے منی مارکیٹ سسٹم سے 260 ارب روپے کا اضافی سرمایہ ایک اور چار دن کے مارکیٹ آپریشن کے ذریعے نکالا ہے. ایک دن کے مارکیٹ آپریشن میں 247ارب روپے دس اعشاریہ ایک سا ت فیصد سود پر نکالے گئے ہیں. چار دن کے مارکیٹ آپریشن میں 13ارب روپے دس اعشاریہ ایک آٹھ فیصد سالانہ شرح سود پر نکالے گئے ہیں.دوسری جانب بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا آٹ لک مستحکم سے منفی کردیا ہے.پاکستانی بینکوں نے حکومتی بانڈز میں بہت رقم لگا رکھی ہے، اگلے ڈیڑھ سال تک بینکوں کو نچلی پروفائل

کے سرکاری بانڈز کے چیلنج سے نمٹنا ہوگا.امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق بینکوں کو سست معیشت میں کام کرنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا تاہم کھاتے داروں کی جانب سے رقم جمع کروانے سے بینکوں کو فائدہ ہوتا رہے گا.روپے کی قدر میں اتار چڑھا اور بنکوں کے معاملات غیرمستحکم ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں درآمدات میں کمی اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے . وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق درآمدات میں کمی سے تجارتی خسارے میں ساڑھے9 فیصد سے زائدکمی آئی ہے. ادارہ شماریات کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 19۔2018 کے پہلے 7 ماہ میں تجارتی خسارہ 19 ارب 26 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے.ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا جنوری تجارتی خسارہ 9 اعشاریہ 66 فیصد کم ہوا جب کہ 7 ماہ میں برآمدات 13 ارب 23 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 2 اعشاریہ 24 فیصد اضافہ ہوا. اعلامیے کے مطابق پہلے 7 ماہ میں درآمدات کا حجم 32 ارب 49 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں درآمدات میں 5 اعشاریہ 17 فیصد کمی ہوئی.ادارہ شماریات نے بتایا کہ جنوری 2019 میں تجارتی خسارہ 2 ارب 46 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا اور جنوری 2018 کے مقابلے میں گزشتہ ماہ میں تجارتی خسارہ 31 اعشاریہ 74 فیصد کم ہوا. ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جنوری میں برآمدات 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں جب کہ گزشتہ ایک ماہ میں درآمدات 4 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں جس میں جنوری 2018 کے مقابلے میں 19 فیصد کمی ہوئی ہے.

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں