ذیشان کو دہشت گرد قرار دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھٹکا جارہا ہے، اہل خانہ کا تدفین سے انکار، بڑا مطالبہ کر دیا

  اتوار‬‮ 20 جنوری‬‮ 2019  |  22:51
لاہور (نیوز ڈیسک) ساہیوال واقعہ میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے ذیشان کے اہل خانہ نے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ایک بار پھر فیروز پور روڈ پر دھرنا دے دیا ہے۔ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے چاروں افراد کی نماز جنازہ پڑھا دی گئی ہے اس میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، خلیل، اس کی بیوی اور بیٹی کو کاہنہ قبرستان میں دفنایا جائے گا جبکہ ذیشان کی تدفین آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے قریب قبرستان میں کی جانی تھی لیکن ذیشان کے ورثاء نے نماز جنازہپڑھنے کے بعد دوبارہ فیروز روڈ پر دھرنا دے دیا ہے، اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ذیشان کو دہشت گرد کہہ کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے، جب تک انصاف نہیں ملتا ہم تدفین نہیں کریں گے۔ ذیشان کے اہل خانہ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذیشان دہشت گرد ہونے کا الزام واپس لیا جائے اور دہشتگردی کا الزام عائد کرنے والے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ ورثا نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

موضوعات:

loading...