تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان کی نظر بندیوں کے خلاف درخواستیں،عدالت نے بڑا حکومت جاری کردیا

  پیر‬‮ 14 جنوری‬‮ 2019  |  23:43

لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان کی نظر بندیوں کے خلاف درخواستوں پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیا ہے کہ تین یوم میں نظربندی کے خلاف درخواستوں کا قانون کے مطابق فیصلہ کریں عدالت نے ریمارکس دئیے کہ لوگوں کی آزادی کا معاملہ ہے اگر کسی نے گڑ بڑ کی تو اسے قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ فصیل اصغر عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ توڑ پھوڑ اشتعال

انگیز تقریروں کے الزام میں 682 لوگ نظر بند ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ لوگوں کی آزادی کا معاملہ ہے اگر کسی نے گڑ بڑ کی ہے تو اسے قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مزید کہا کہ ہم نے معاشرے کو جواب دینا ہے نظر بندی کے بعد کسی کے گھر روٹی نہیں ہو گی تو مشکل زیادہ ہو جائے گی سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نظربندی کے خلاف درخواست گزار ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کر سکتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں تو نظربندی کے خلاف درخواست ہی نہیں دی درخواست گزاران کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان کی نظر بندی خلاف قانون ہے عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیں اور حکم دیا کہ نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر قانون کے مطابق تین روز میں فیصلہ کیا جائے۔  لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان کی نظر بندیوں کے خلاف درخواستوں پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیا ہے کہ تین یوم میں نظربندی کے خلاف درخواستوں کا قانون کے مطابق فیصلہ کریں

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں