آپ یہ الفاظ یہاں ادا نہیں کر سکتے۔۔۔!! کس پورپی ملک میں ’ اللہ اکبر‘ کہنے پربھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

  جمعہ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2019  |  12:14

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی ملک فرانس میں مسلمان خواتین پر برقعے پر پابندی کا تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا جبکہ کبھی میناروں اور کبھی لائوڈ سپیکر پر اذان پر پابندی کی بازگشت آپ نے پڑھی اور سن رکھی ہو گی تاہم اب آپ کو یہ جان کر افسوس ہو گا کہ سوئٹزرلینڈ میں پولیس نے اللہ اکبر کہنے پر 210فرانک جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 22سالہ مسلماننوجوان آرحان ای جو کہ سوئٹزر لینڈ کے ہی ایک شہر شف ہاون کا رہنے والا ہےکو ’’اللہ اکبر‘‘کہنے پر 210سوئس فرانک جو کہ پاکستانی 30ہزار

روپے بنتے ہیں کا جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ برس مئی میں پیش آیا جو کہ کچھ ایسے کہ آرحان کی اچانک ملاقات اپنے دوست سے ہوگئی جسے دیکھتے ہی حیرانگی سے انہوں نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر بلند کیا،جس پر پولیس نے دہشتگرد انہ حملے کے خوف سے ان پر جرمانہ عائد کردیا۔ یہ واقعہ گزشتہ برس مئی میں پیش آیا۔آرحان کا کہنا تھا کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوا،اسے پہلے کبھی ایسے تجربے کا سامنا نہیں ہوا۔ پولیس نے مسلح ہتھیاروں کے ساتھ ا ن کی تلاشی لی جب انہوں نے اپنے دوست کا سامنا کرنے پر حیرانگی سے ”اللہ اکبر“ کے الفاظ ادا کیے۔انہوں نے کہا کہ اچانک پولیس افسر نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ اس اصطلاح یا الفاظ کا مطلب کیاہے جس پر انہوں نے پولیس افسر کو وضاحت سے بتایا کہ اس سے مرادکسی کو نقصان دینا نہیں بلکہ جب کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو ا س وقت یہ بولتے ہیں اور تقریباً ہم ہر دوسرے جملے کے ساتھ ان الفاظ کو ادا کرتے ہیں جس پر پولیس حکام نے انہیں دھمکایا کہ اگر انہوں نے جرمانہ ادا نہ کیا تو انہیں جیل بھیج دیں گے، پولیس نے 150 سوئس فرانک کا جرمانہ کیا اور مزید ساٹھ فرانک کے ساتھ210فرانک جمع کرانے کا حکم دیا۔پولیس نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہان کے یہ الفاظ لوگوں کو خوفزدہ کرسکتے تھے، پولیس نے ویسا ہی کیا جیسا اس صورت حال میں کیا جاسکتا ہے۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل سکتا تھا، یہی وجہ تھی کہ پولیس افسر کواس صورتحال کا معائنہ کرنا پڑا کیونکہ حالیہ سالوں میں دہشت گرد حملوں میں اس اصطلاح کا استعمال کیا گیا۔ایک اورپولیس افسر کا کہنا تھا کہ اظہار کا یہ انداز ایسا تھا جو جرمانے کا سبب بنا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں