گیس کا بحران کیوں پیدا ہوا؟وزیراعظم نے سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ایم ڈیزکیخلاف بڑا حکم جاری کر دیا

  بدھ‬‮ 12 دسمبر‬‮ 2018  |  22:22
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری گیس بحران اور ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کی جانب سے نااہلی کا مظاہر ہ کرنے اورکمپریسرز کے حوالے سے معلومات پوشیدہ رکھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پر سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا اور اس کی تحقیقات کے لئے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے وزیرِ پٹرولیم کو ہدایت کی ہے کہ یہ کاروائی آئندہ 72گھنٹوں میں مکمل کر کےرپورٹ پیش کی جائے، گیس کی طلب و رسد اورصارفین کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے منصوبہ بندی کو مزید مربوط کیا جائے تاکہ اس حوالے سے مستقبل میں کسی ایسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بدھ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گیس کی فراہمی کے سلسلے میں پیدا ہونے والے بحران کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، چیئرمین ٹاسک فورس برائے انرجی ندیم بابر، وفاقی سیکریٹریز اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔ وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان کی جانب سے وزیرِ اعظم کو گیس کی صورتحال اور پیدا ہونے والے حالیہ بحران پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی عائد ہوتی ہے جنہوں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالے سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نا اہلی کا مظاہرہ کیا۔ملک میں گیس کی ڈومیسٹک پروڈکشن کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈ ز کی کل پروڈوکشن 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جوکہپچھلے سال کے مقابلے میں 80ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے۔ اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی اور گیمبٹ فیلڈ میں بھی گیس پروڈکشن میں50ایم ایم سی ایف ڈی کی کم واقع ہوئی ہے۔ جنوب میں گیس پروڈوکشن کی کمی کے باعث کراچی کے صارفین کو گیس کی فراہمی میں دشواری کا سامنا پیش آیا جبکہ نواب شاہ اور سارن کے مقام پر گیس کمپریسر ز کی خرابی کے باعث ملک کے شمال میں گیس کی کمی کی شکایت سامنے آئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نہ تو ایس این جی پی ایل کی جانب سے دسمبر میں گیسکی طلب کے متعلق حقائق سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کمپریسرز کی خرابی کے حوالے سے بروقت حکومت کو اطلاع دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کی جانب سے نااہلی کا مظاہر ہ کرنے اورکمپریسرز کے حوالے سے معلومات پوشیدہ رکھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں اداروں کے مینیجنگ ڈائریکٹرز کے خلاف فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کے لئے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کی سربراہی میںچار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی اور وزیرِ پٹرولیم کو ہدایت کی یہ کاروائی آئندہ 72گھنٹوں میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ گیس کی صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ شیڈول کیے گئے آر ایل این جی کے آٹھ کارگو بروقت پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک گیس کی پروڈوکشن کی بحالی کے لئے بھی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ڈومیسٹک پروڈوکشن کی کمی اور گیس کمپریسرز کی خرابی کے باوجود بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ گھریلو صارفین متاثرنہ ہوں تاہم سی این جی اور بعض جنرل صنعتوں کے کیپٹیو پلانٹس کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وزیرِ اعظم نے تاکید کی کہ گیس کی طلب و رسد اورصارفین کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے منصوبہ بندی کو مزید مربوط کیا جائے تاکہ اس حوالے سے مستقبل میں کسی ایسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

loading...