شریف خاندان کی رہائش گاہ رائیونڈ محل کن پیسوں سے تعمیر کی گئی؟ اس پر کتنا خرچ آیا تھا؟سنسنی خیز انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

  بدھ‬‮ 12 دسمبر‬‮ 2018  |  13:21
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رائیونڈرہائش پر17کروڑخرچ،شریف فیملی نے گوشواروں میں ظاہر نہیں کئے ، معاملے کو کیسے دبادیا گیا، اینکر سعدیہ افضال کے سنسنی خیز انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کی اینکر سعدیہ افضال نے انکشاف کیا ہے کہ شریف خاندان کی رہائش گاہ رائیونڈ فارم نواز شریف کی والدہ شمیم اختر کی زیر ملکیت زمین پر قائم ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریفنے اس پر گھر کی تعمیر کیلئے 171.13ملین روپے (17کروڑ روپے سے زائد)صرف ٹھیکیداروں کو ادا کئے ہیں اور اس رقم کو متعلقہ ٹیکس ریٹرن میں نواز شریف اور ان کی والدہ نے ظاہر نہیں کیا۔ اس ریفرنس کا قصہ 2000 سے 2014 تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے ۔ اس وقت نوازشریف اٹک قلعے میں قید تھے ۔10 دسمبر 2000 کوشریف خاندان کو جلا وطن کیا گیا ،12 اپریل 2001 کو ملزمان کی بیرون ملک روانگی کی وجہ سے پراسیکیوٹر کی استدعا پر اس ریفرنس کے معاملے کو ملتوی کردیا گیا۔پھر 25 اگست 2007 کومیاں شریف کے انتقال کی وجہ سے ان کا جو اس ریفرنس میں نام تھا اس کو خارج کردیا گیا۔ اب 21 اگست 2008 کو معاملہ پھر نیب کی جانب سے سردخانے کی نظر ہوگیا۔باوجود اس کے کہ ملزمان ملک میں واپس آچکے ہیں تو 17 جولائی 2012 کو چیئرمین نیب نے کیس کھولنے کی دوبارہ درخواست دی۔شریف فیملی نے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس کافیصلہ لاہورہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے کیا۔پھر معاملہ ریفری جج کے پاس چلا گیا اوراس کیس کو تکنیکی بنیادوں پرخارج کردیاگیا۔ نیب اس کیس کے خلاف سپریم کورٹ نہیں گیا۔ اس کے بعد اس کیس کی تحقیقات نیب نہیں بلکہ ایف بی آر نے کی اوراس نے نوازشریف کے خلاف تحقیقات کرنے کے بجائے محترمہ شمیم اختر کیخلاف تحقیقات شروع کردیں اور جان بوجھ کر موجود ممبر ٹیکسپالیسی ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کمزور ڈرافٹ بنایا اس کے مطابق نوازشریف نے جو رقم جان بوجھ کر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی اس پر 250 فیصدجرمانہ پڑناچاہئے تھا لیکن انہوں نے ان کو ٹیکس سے مبرا قراردے دیا۔ اس کے خلاف نوازشریف کی والدہ لاہورہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتی ہیں جسے مسترد کر دیا جاتا ہے اورٹیکس پینلٹی برقرار رکھی جاتی ہے ۔2005میں اپیل مسترد اور2007میں شریف فیملی کی واپسی کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ اس کیس کو آگے بڑھایاجاتا لیکن ا یسا نہیں کیا گیا اوربظاہر ساڑھے 17سال بعد یہ فائل ریکارڈ سے غائب کردی گئی۔

موضوعات:

loading...