معاشی صورتحال تشویشناک ، حکومت کو غیر یقینی سے نکلنے کیلئے فوری طورپر یہ کام کرنا ہوگا،ماہرین معاشیات نے وارننگ دیدی

  اتوار‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2018  |  23:54

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان کی معاشی صورتحال تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کیلئے بر وقت فیصلے کرنا ہونگے دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تاحال آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج لینے کا فیصلہ نہیں کیا جبکہ گزشتہ ماہ پاکستان کے ا ئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیںپاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو غیر


یقینی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہونگے پاکستان کو تاحال دوست ممالک سے بھی کوئی امداد نہیں ملی اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں جاری کھاتوں میں بھی اضافہ بڑھ رہاہے جبکہ تجارتی خسارہ بھی کمی نہیں آرہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جارہی ہے ا ور سرمایہ کاروں میں بھی غیر یقینی اور تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے معاشی ٹیم معیشت کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کریافتخار علی ملک سینئیر وائس پریذڈینٹ سارک چیمبر آف کامرس نے آن سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے ہمیں ایگرو بیس انڈسٹری پہ آنا ہوگا اور ہائی بریڈ سیڈز مارکیٹ میں لانا ہونگے تاکہ زیادہ سے زیادہ پروڈکشن ہوسکے ان کا کہنا تھا کہ ایگری انڈسٹری کم وقت میں کام شروع کردیتی ہے جبکہ دوسری انڈسٹری کیلئے دس سال کا وقت درکار ہوتا ہے افتخار علی ملک نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر بھی معیشت کے چیلنجز ہیں ایکسپورٹ وئیر ہاوسز پر جانا ہوگا کیونکہ دنیا میں ایکسپورٹ وئیر ہاوس بن رہے ہیں اور ہمیں بھی ایکسپورٹ وئیر ہاوسز کی جانب جانا ہوگاڈاکٹر وقار ماہر معاشیات نے آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی زرمبادلہ کو سیف گارڈز کرنے کی ضرورت ہےمارکیٹ کے اند ر غیریقینی کو ختم کرنا ہوگا اور جاری کھاتوں میں خسارہ اور توانائی کے گردشی قرضہ کو کم کرنا ہو گا حکومت کو پاور سیکٹر کے گردشی قرضہ میں کمی اور تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے ایک لائحہ عمل بنانا ہوگا ۔سینئیر ماہر معاشیات ڈاکٹر عابد سلہری ایس ڈی پی آئی نے آن لائن سے بات کرتے ہوِے کہا کہ ملک میں معاشی ان سرٹینٹی کو ختم کرنا ہوگا اور بیلنس آف پیمنٹ اور فسکل ڈیفسٹ کو کم کرنا ہوگا حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں جانا اس کا فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ آپ کے سرمایہ کار رکے ہوئے ہیں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے کوئی بھی سرمایہ کار ماکیٹ میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ابھی تک کوئی اثر نہیں پڑھ رہا کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل ہیں اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 80 ڈالر تک ہوتی تو پھر مہنگائی کا ایک طوفان آتا لیکن ابھی بھی بچت ہے حکومت کو بروقت مثبت معاشی پالیسیاں کرنا ہونگی۔

موضوعات:

loading...