افغانستان کے مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ پاکستان نے ایسی تجویز دیدی جس پر سب ہی اتفاق کریں گے

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  20:30

ماسکو (این این آئی) پاکستان نے روسی دارالحکومت ماسکو میں افغانستان بارے منعقدہ مشاورتی اجلاس کو بتایا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے یہ مسئلہ صرف سیاسی طریقے سے حل ہونا چاہئے سخت گیر سماجی ثقافتی سیاسی اور معاشی حقائق کو مد نظر رکھ کر حل نکالنے سے افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے،تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریںتاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ تین رکنی پاکستانی وفد کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ محمد اعجاز نے جمعہ کواجلاس

سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ معاملہ ایک مشکل ہدف ہے کیونکہ یہ تمام فریقین کی جانب سے لچک بالخصوص اپنے سخت موقف کو چھوڑ کر بات چیت کیلئے آمدگی کا تقاضا کرتا ہے جس کیلئے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئے تاکہ نئے تصورات اور امن کی کوششوں کو موقع میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل ہدف کے حصول کیلئے اعتماد اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھنے سے راستہ آسان ہو جائیگا جو بامقصد اور باہم فائدہ مند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ذہن میں ان مقاصد کے ساتھ آج کا اجلاس ہمیں مستقبل کی راہ متعین کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا تاکہ تنازع کو ختم کرتے ہوئے طویل مدتی امن قائم کیا جا سکے اور افغانستان اور خطے کے لوگوں کیلئے خوشحالی ممکن ہو سکے ۔محمد اعجاز نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ دیگر امور زیر غور لانے کے ساتھ ساتھ اس بنیادی سوال پر پر بھی توجہ مرکوز کریں کہافغانستان میں امن کا حصول کس طرح کیا جا رہا ہے،تنازع کے حل کیلئے ایک بین الافغان معاہدہ اور ایک بامقصد مفاہمتی امن عمل کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے تاکہ امن عمل حقیقی شکل میں ڈھل سکے اور جس کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی ضمانتیں اور حمایت ایک طویل مدتی اور پائیدار حل فراہم کرسکتی ہیں۔ پاکستانی وفد کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کے حل کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے اوراس حوالے سے تمام کوششوں میں شامل رہا ہے تاکہ مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ماسکو مشاورتی عمل چار فریقی رابطہ گروپ ہارٹ آف ایشیاء ۔استبول عمل ، ایس سی او رابطہ گروپ ، کابل عمل اور پاکستان افغانستان چین اور پاکستان افغانستان ترکی جیسے متعدد سہ فریقی اقدامات قابل ذکر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں