پاکستانیوں کیلئے فی الحال بیرون ملک روزگار کی کوئی پالیسی نہیں ،حکومت کا حیران کن اعتراف سامنے آ گیا

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  19:33

اسلام آباد(آئی این پی ) سینیٹ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانیوں کیلئے فی الحال بیرون ملک روزگار کی کوئی پالیسی نہیں ہے ، تاہم وزارت اوورسیز پاکستانیز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے نیشنل امیگریشن اور فلاح و بہبود کی پالیسی تشکیل دینے کے مرحلے میں ہے،قطر نے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دینے کا کہا تھا جس پر قطر کے ساتھ حکومت مذاکرات کر رہی ہے،ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے،پاکستان میں ٹی بی کنٹرول کرنے کیلئے علاج مراکز اور ہسپتالوں کی کل تعداد1340ہے، اب تک16لاکھ61ہزار961افراد کا اندراج کیا گیا جن

میں سے 11لاکھ95ہزار247افراد کا علاج کیا جا چکا ہے،2017میں ڈریپ نے جعلی ادویات فروخت کرنے پر 190مقدمات درج کرائے اور مختلف کمپنیز کو4کروڑ20لاکھ کے جرمانے کیے گئے جبکہ 2018میں اب تک 2کروڑ20لاکھ جرمانے کیا جا چکے ہیں، ان خیالات کا اظہارجمعہ کو وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید ، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان سمیت دیگر وزراء نے سینیٹ میں وقفہ سولات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔ وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انڈونیشیا میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز 2018میں 351ایتھلیٹ اور اہلکاروں پر مشتمل دستے نے شرکت کی۔ 140کھلاڑیوں کے اخراجات پاکستان سپورٹس پورڈ نے ادا کیے جبکہ باقی210کھلاڑیوں کو متعلقہ قومی سپورٹس فیڈریشنز اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جانب سے سپانسر کیا گیا۔پاکستان کے اندر کھیلوں کاشعبہتنزلی کا شکار ہے جسکی وجہ کھیلوں میں حکومت کی عدم توجہ ہے۔ موجودہ حکومت اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ وزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ حکومت کھیلوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔سینیٹر ثمینہ سعید کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہزارہ موٹروے شاہ مقصود انٹر چینج تا مسلم آباد حویلیاں انٹر چینج سیکشن کا کمتعطل کا شکار ہے۔اس منصوبے کی تکمیل دسمبر2017میں ہونا تھی لیکن اس روڈ کو چار لین سے بڑھا کرچھ لین کیا جا رہا ہے جس سے کام میں اضافہ ہوا۔اب یہ منصوبہ دسمبر2018میں مکمل ہوگا۔ ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹرویز پر کارڈ کے ذریعے کرپشن کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کو روکنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ سعید کے سوال کا جواب دیتے ہوئےوزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ ایبٹ آباد میں کوئیفائیو سٹار ہوٹل موجود نہیں ہے اور وہاں کے کرکٹ سٹیڈیم میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث ایبٹ آباد میں بین الاقوامی کرکٹ میچ نہیں کرائے جاتے۔ایبٹ آباد کرکٹ سٹیڈیم کو آئی سی سی نے منظور نہیں کیا ۔ اس کیلئے وہاں سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ وہاں پر قومی کرکٹ ٹیم کے ٹریننگ کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ امید ہے جلد ایبٹ آباد میں بھیکرکٹ میچ کرائے جا سکیں گے۔ سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ایبٹ آباد میں پی ایس ایل میچ منعقد کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔سینیٹرکلثوم پروین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت متوازی قومی سپورٹس بورڈ کے نام سے چار فیڈریشن ہیں جن میں بیڈمنٹن، چیس، ٹیبل ٹینس اور وشو فیڈریشنز ہیں جو پاکستان سپورٹس بورڈ کے ساتھ ملحق شدہ نہیں ہیں۔سینیٹر چوہدری تنویر کے سوال کے جواب کے وزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ پاکستانیوں کیلئے فی الحال بیرون ملک روزگار کی کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ تاہم یہ وزارتبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے نیشنل امیگریشن اور فلاح و بہبود کی پالیسی تشکیل دینے کے مرحلے میں ہے۔اس پالیسی کے بنانے کا مقصد بیرون ملک روزگار فراہم کرنا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور پاکستان واپس آئےافراد کو معاشرے میں ضم کرنا ہے۔پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کو حتمی شکل دینے اور مذکورہ پالیسی کی منظوری لینے کے بعد اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔اس پر ارکان نے کہا کہ حکومت ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بات کر رہی تھی لیکن اب تک سمندر پار پاکستانیوں کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکی۔وزیر مملکت مواصلات مراد سعید نے کہا کہ سعودی عرب اور یو اے ای میں پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ اقامے کا ہےجس کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔قطر نے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دینے کا کہا تھا جس پر قطر کے ساتھ حکومت مذاکرات کر رہی ہے۔ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے، حکومت جلد اس حوالے سے پالیسی وضع کرے گی۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے سوال پر وزیر مواصلات مراد سعید نے جواب دیا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر گزشتہ حکومت سے بھی سوالات کرتے رہے ہیں۔مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہے اس کو بھی مکمل کریں گے۔حکومت سی پیک کے مغربی روٹ کو مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ڈی آئی خان تا ژوب منصوبہ 50کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کی چار لین بنائی جائیں گی۔ اس حوالے سے حکومت چین کے بینک کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ اگلے ماہ جے سی سی اجلاس میں اس منصوبیمیں رقوم کی فراہمی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔تحریری جواب میں سینیٹ کو آگاہ کیا گیا کہجولائی 2016میں ادویات کی قیمت میں 2.86فیصد،2017میں4.16اور2018میں3.92فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔پاکستان میں ٹی بی کنٹرول کرنے کیلئے علاج مراکز اور ہسپتالوں کی کل تعداد1340ہے۔اب تک16لاکھ61ہزار961افراد کا اندراج کیا گیا جن میں سے 11لاکھ95ہزار247افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔2017میں ڈریپ نے جعلی ادویات فروخت کرنے پر 190مقدمات درج کرائے اور مختلف کمپنیز کو4کروڑ20لاکھ کے جرمانے کیے گئے جبکہ 2018میں اب تک2کروڑ20لاکھ جرمانے کیا جا چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں