نواز شریف نے کن صحافیوں کو اہم عہدے دئیے، مجھے کس عہدے کی آفر کرتے رہے؟ سینئر صحافی عارف نظامی نے تہلکہ خیز انکشافات کر دئیے

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  16:35

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نواز شریف جب بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئے تو میرے اس وقت ان کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے ، انہوں نے مجھے بلوایا ، میں جب ان سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ عارف صاب! اے کیی صحافت لگے او(کیا صحافت میں لگے ہوئے ہیں)بی او آئی دے چیئرمین لگ جائو (بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین لگ جائیں)۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ یہ عہدہ وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ بعد میں پھر

اس عہدے پر ہمایوں اخترکو لگایا گیا۔ میں نے پھر نواز شریف کو کہا کہ میاں صاحب!آپ مجھے معاف ہی کریں، مجھے یہ کام نہیں آتا۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے چاہت تو بہت ہوتی ہے کہ جھنڈا لگا ہوا ہو، نگران حکومت میں صرف اس لئے گیا کہ اس کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے ، اس پر بھی کسی نے اعتراض کیا۔ لیکن جب ایک صحافی جا کر کہیں سفیر بن جاتا ہے، کہیں وزیر بن جاتا ہے، کہیں مشیر بن جاتا ہے، کہیں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بن جاتا ہے، کہیں چیئرمین پیمرا بن جاتا ہے، تو پھر اس کی کیا کریڈیبلٹی رہ جاتی ہے، پھر ڈھٹائی سے آکر واپس مضمون بھی لکھنے لگ جاتے ہیں، ادارئیے بھی لکھتے ہیں، یا تو آپ کہیں کہ میں نے صحافت چھوڑ دی ہے، اور ملکوں میں بھی صحافی مشیر وغیرہ بنتے ہیں تاہم وہ پھر یہ کام چھوڑ دیتے ہیں اور یہ ہماری سیاست کا ایک تاریک پہلو ہے۔واضح رہے کہ سابقہ ن لیگ کے دور میں چیئرمین پیمرا کے طور پر صحافی ابصار عالم کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ نواز شریف کے معاون خصوصی کے طور پر صحافی عرفان صدیقی بھی کام کرتے رہے اور معروف صحافی نجم سیٹھی نہ صرف چیئرمین پی سی ایل کے طور پر تعینات ہوئے بلکہ بعد میں چیئرمین کرکٹ بورڈ کے طور پر بھی انہوں نے ذمہ داریاں نبھائیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں