حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہو گیا، یہ اتفاق کیا رنگ لائے گا؟

  جمعرات‬‮ 8 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  22:01

اسلام آباد(آئی این پی )حکومت اور اپوزیشن میں قومی اسمبلی کا اجلاس افہام و تفہیم سے چلانے کیلئے ''اخلاقیات کمیٹی بنانے کا اتفاق ہوا ہے۔اخلاقیات کمیٹی قومی اسمبلی میں پارلیمانی زبان کے استعمال کیساتھ ساتھ ایوان کی کارروائی کو معانی خیز بنانے سمیت حکومت اور اپوزیشن ارکان میں ممکنہ تنازعات کو حل کریگی۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کا ماحول مثبت رکھنا چاہتے ہیں،پارلیمنٹ میں عوام کے مسائل کے حل کیساتھ ہمیں کم ازکمایک دوسرے کیلئے اچھی زبان استعمال کرنی چاہیے ، اپوزیشن کی جانب سے آنے والی تمام تجاویز کا نہ صرف خیر

مقدم کریں گے بلکہ قابل عمل تجاویز پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت کو پروان چڑھانے یہاں آئے ہیں ۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیر دفاع کی بات کی تائید کرتا ہوں ، بدقسمتی سے آج کوئی شریف آدمی پارلیمان کی کارروائی نہیں دیکھنا چاہتا ، حکومت اپنا رویہ درست کرے تو ہم اس کا ساتھ دینے کو تیار ہیں ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ہدایت کی ہے کہ ہم نے پارلیمنٹ کا ماحول درست رکھنا ہے ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ، میں درخواست کرتا ہوں کہ ہم مل کر ایک اخلاقیات کمیٹی بناتے ہیں جس میں طے کیا جائے گا کہ اس ایوان میں کس طرح کی زبان استعمال کی جانی چاہیے ، ہم میں غلطیاں ضرور ہوں گی ، ہم ان کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں ، پورا ملک ہمیں دیکھ رہا ہے ، کم ازکم ہم ایک دوسرے کیلئے اچھی زبان استعمال کریں ، ہم اپوزیشن کی جانب سے آنے والی تمام تجاویز کا نہ صرف خیر مقدم کریں گے بلکہ ان پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں گے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ وزیردفاع کی تجویز کی تائید کرتا ہوں ، ہم یہاں الیکشن لڑ کر جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے یہاں آئے ہیں ،ہمیں مل کر سنجیدگی کے ساتھ ملکی معاملات چلانے اور ملک کو آگے بڑھانا چاہیے ، حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔ شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس ایوان میں جو مچھلی بازار لگایا گیا اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی وہ نامناسب ہے ، میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اس کا آغاز پہلے کس طرف ہوا ،ایک دوسرے کی تذلیل کرنے کیلئے نت نئے جملے گھڑے جاتے ہیں ، ہمیں اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو تعمیری سوچ کیساتھ بات کرنا ہوگی ،گالم گلوچ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ،و زراء بغیر کسی ثبوت کے بیانات دیں گے تو وہ جمہوریت کی خدمت نہیں کر رہے ، بے بنیاد الزامات سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے ، اس ایوان کی قدر تب ہی بڑھ سکتی ہے کہ ہم الزامات کی سیاست نہ کریں ،ہمیں وقت ضائع کئے بغیر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہاپوزیشن لیڈر اور وزیر دفاع کی بات کی تائید کرتا ہوں ، 22کروڑ عوام نے ہمیں ان کے مسائل حل کیلئے یہاں بھیجا ہے ، کئی روز سے ایجنڈے پر ملک کی معاشی صورتحال پر بحث چلتی آرہی ہے مگر ہم نے ملکی معاشی صورتحال پر بحث کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں جاری رکھیں ، بدقسمتی سے آج کوئی شریف آدمی پارلیمان کی کارروائی نہیں دیکھنا چاہتا ،حکومت اپنا رویہ درست کرے تو ہم اس کا ساتھ دینے کو تیار ہیں ۔ وزیردفاع پرویز خٹک نے کہا کہ جس خوشدلی سے اپوزیشن نے میری تجاویز کا خیرمقدم کیا اسی جذبے سے میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومتی بینچوں کی جانب سے ایسی کوئی بات نہیں کی جائے گی جس سے ایوان کا ماحول خراب ہو ، اخلاقیات کمیٹی میں دونوں جانب سے سینئر پارلیمنٹرینز کو شامل کیا جائے تا کہ وہ اس ایوان میں کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں