اگر ہم دھرنے ختم نہ کراتے تو ہماری حکومت ختم ہو جاتی، ممبران قومی اسمبلی و سینٹ پر بڑی پابندی عائد کر دی گئی ،وزیراعظم کا انتہائی حیران کن بیان

  جمعرات‬‮ 8 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  21:26

160اسلام آباد( آن لائن )160وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ھم دھرنے ختم نہ کراتے تو ھماری حکومتیں ختم ہو جاتیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ پر ایوان میں بلا اجازت بولنے یا تقریر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ممبران کو چین سے ہونے والے مالیاتی معاہدوں کی تفصیلات پوچھنے سے منع کردیا۔ جمعرات کو پارلیمانی پارٹی کے طویل اجلاس کے دورانوزیراعظم نے بعض ممبران کی مذہبی جماعتوں سے متعلق بیان بازی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے اور مظاہروں کو مصالحتی انداز میں ہی حل

کیا جا سکتا ہے۔دھرنے میں پیسے دے کر لوگوں کو لایا گیا اور اگر دھرنا ختم نہ ہوتا تو حکومتیں ختم ہو سکتی تھیں۔ عمران خان نے اراکین کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں منظم ہو کر چلیں۔ اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجازت کے بغیر ایوان میں تقریر نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے اپنے دورہ چین کے متعلق کامیابی کی تفصیلات بتائیں تو کئی ممبران نے پوچھا کہ ہمیں چین سے سعودی طرز کی کس قدر نقد رقم ملے گی تو وزیراعظم نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ چین نے پاکستان کو نقد مالی مدد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے۔ وزیر اعظم نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی مدد کی ہے لیکن یہ کتنی ہے ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ اس سے چین کے دیگر پارٹنرز تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آ کر حیران کن گھپلوں کا انکشاف ہوا۔ میڈیا میں آنے والی کرپشن کی کہانیاں تو بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے۔ ابھی بڑی مچھلیاں باقی ہیں۔ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو بتایا کہ وہ دو ماہ تک ایوان میں نہیں آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں