اب ملک بھر میں ریلوے مسافروں کو انٹرنیٹ سمیت یہ سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی، 60 فیصد کام مکمل ،بڑا اعلان کردیاگیا

  اتوار‬‮ 21 اکتوبر‬‮ 2018  |  18:24

اسلام آباد(این این آئی)حکومت کے 100 روزہ وژن کے تحت ملک بھر میں ریلوے مسافروں کو وائی فائی اور ٹریکنگ کی سہولیات کی فراہمی کا 60 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر مسافر گاڑیوں میں وائی فائی اور ٹریکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی بعد ازاں مال بردار گاڑیوں میں بھی یہ سہولت دستیاب ہو گی۔ وزارت ریلویز حکام کے مطابق وائی فائی اور ٹریکنگ کی سہولیات کا زیادہ تر کام مکمل کر لیا گیا ہےجبکہ بقیہ کام بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد سہولیات کی فراہمی میں

گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی سافٹ ویئر کی خدمات بلا معاوضہ فراہم کر رہے ہیں۔ حکام نے مزید کہا کہ ریلوے کے مسافروں کو بہت جلد وائی فائی کی سہولت دستیاب ہو گی اور دوران سفر مفت انٹرنیٹ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مسافروں کو محفوظ اور خوشگوار سفر کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز دیگر کئی منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے جس میں نئی مسافر اور مال بردار گاڑیوں کو چلانے سمیت ٹریک کی اپ گریڈیشن کے منصوبے شامل ہیں۔ حکومت پاکستان ریلویز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے پرعزم ہے اور خود انحصاری کی پالیسی کے تحت عالمی معیار کی خدمات کی فراہمی کے لئے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق ریلویز کے خسارہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت ریلویز کے مالی خسارہ کو کم کرنے اور مال بردار گاڑیوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔پاکستان ریلویز کی تمام رہائشی کالونیوں میں بجلی کی فراہمی کے نظام کی بہتری سے سالانہ ایک ارب روپے کے نقصان پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس حوالے سے بجلی کی نئی ترسیلی لائنوں اور میٹروں کی تبدیلی کی جائے گی۔ پاکستان ریلویز کے حکام نے بتایا ہے کہ وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے اس سلسلہ میں متعلقہ حکام کو جلد از جلد رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وزارت پانی و بجلی سے رابطہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریلویز میں بجلی کی تقسیم کے نئے نظام کی تنصیب سے رہائشی کالونیوں میں ریلویز ملازمین کے کم وولٹیج کے مسئلہ پر بھی قابو پایا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں