دھاندلی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس ،سپیکر اسدقیصرچیئرمین کے انتخاب کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کو منانے میں کامیاب ،حیرت انگیز پیش رفت ہوگئی

  ہفتہ‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2018  |  22:42

اسلام آباد ( آن لائن) پارلیمانی پبلک اکاوئنٹس کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیوں کے قیام کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے نو منتخب حکومت کو دو ماہ گزر گئے مگر قائمہ کمیٹیاں تشکیل نہ پا سکیں، چیئرمین پی اے سی کے تنازعے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں لچک دکھانے سے انکاری ہیںجبکہ اسد قیصر مسلسل وزیراعظم پر زور دے رہے ہیں کہ پی اے سی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر کو دے دی جائے مگر وہ اپنے وزراء کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہ فیصلہ

کرنے سے گریزاں ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی دھاندلی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا جس کے چئیرمین کے انتخاب کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کو منانے میں سپیکر کامیاب ہوگئے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تعیناتی کا تنازعہ ہے جس پر دونوں اطراف سے کوئی بھی لچک دکھانے کو تیار نہیں، اپوزیشن قائد حزب اختلاف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کی خواہاں ہے جس کے لئے حکومت بالکل تیار نہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں چیئرمین پی اے سی کی نامزدگی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اپوزیشن واضح کر چکی ہے کہ اگر چیئرمین شپ انہیں نہ ملی تو اپوزیشن قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں شامل نہیں ہوگی قواعد کے مطابق قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل ایک ماہ کے اندر دینا لازمی ہے، دوسری طرف انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تیس رکنی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے ۔ذرائع کے مطابق انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق چیئرمین شپ کیلئے حکومت اور اپوزیشن میں خفیہ مفاہمت طے پا گئی ہےاور اپوزیشن حکومتی امیدوار پرویز خٹک کی مخالفت نہیں کرے گی قومی اسمبلی سے منظور تحریک میں کہیں ذکر نہیں کہ چیئرمین حکومتی رکن ہو گا تاہم حکومت نے کمیٹی میں مساوی نمائندگی کا اپوزیشن کا مطالبہ مانا جس کے بعد مفاہمت طے پائی، پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چیئرمین کے انتخاب کے علاوی کمیٹی کے ضوابط کار کی منظوری متوقع ہے، پارلیمانی کمیٹی تحقیقات کیلئے کسی بھی ادارے کی مدد اور کوئی بھی دستاویز طلب کر سکے گی، کمیٹی تحقیقات مکمل کرنے کیلئے ٹائم فریم کا بھی تعین کرے گی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں