اہم سرکاری ادارے کے کرپٹ افسران کا سٹیشنری خریداری کے نام پر 3.3 ملین کا ڈاکہ،الاؤنسز کے نام پر بھی لاکھوں لوٹ لئے ،افسوسناک انکشافات

  اتوار‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2018  |  23:30

اسلام آباد (آن لائن) محکمہ پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے 33 لاکھ روپے کی سٹیشنری خرید رکھی ہے‘ جس پر اعلیٰ پیمانے کی تحقیقات شروع ہوئی ہیں جبکہ پوسٹ ڈسپنسری کے عملہ نے غیر قانونی طریقہ سے ہیلتھ الاؤنسز کے نام پر 33 لاکھ وصول کرلئے ہیں جبکہ ہاؤس رینٹ کے نام پر 39 لاکھ روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ہے ڈی جی نے قریبی دوست کو کنسلٹنٹ بھرتی کرکے لاکھوں روپے نچھاور کردیئے ہیںذرائع سے حاصل دستاویزات کے مطابق پاکستان پوسٹ کی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈی جی پوسٹ نے من پسند افراد کو ہاؤس رینٹ کے

نام پر 39 لاکھ روپے فراہم کئے۔ جنہوں نے رقوم حاصل کرکے رفوچکر ہوگئے ہیں۔ ڈی جی پوسٹ نے ایک ٹیلی فون سیٹ کی خریداری پرمبینہ ایک لاکھ 90 ہزار 8 سو روپے کا بل شعبہ فنانس سے منطور کراکے رقوم خزانہ سے نکلوا رکھی ہیں گزشتہ مالی سال کے دوران پوسٹ آفس کے ملازمین سے گروپ انشورنس کی رقوم بھی تنخواؤں سے منہا نہیں کرائی گئیں جبکہ ودھولڈنگ ٹیکس کی مد میں ایف بی آر حکام کو لاکھوں روپے زیادہ ادا کئے گئے ہیں دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈی جی پاکستان پوسٹ نے 33 لاکھ روپے کی سٹیشنری خرید رکھی ہے اور اس خریداری میں بھاری مالی بدعنوانی کے شکوک ظاہر کرکے اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں پاکستان پوسٹ کی ڈسپنسری میں کام کرنے والے طبی عملہ نے ہیلتھ الاؤنسز کے نام پر پچاس لاکھ روپے کا ڈاکہ ڈال رکھا ہے اس ڈاکہ میں انہیں ڈی جی پوسٹ کی مکمل اعانت بھی حاصل ہے سب سے زیادہ رقوم تھی 17 لاکھ روپے محمد رفیق میڈیکل سپرنٹندنت نے وصول کیں محمد عرفان 4 لاکھ 46 ہزار ‘ ڈسپنسر شاہ گل 4 لاکھ 66 ہزار ‘ رضیہ بیگم مڈوائف 5 لاکھ 18 ہزار ‘ دائی ثوبیہ اختر 4 لاکھ 85 ہزار جبکہ نادیہ حبیب دائی تین لاکھ 62 ہزار روپے وصول کر چکے ہیں پوسٹ مافیا نے سٹیٹ بینک کیاجازت کے بغیر 23 کروڑ روپے کی رقوم کی ترسیل ای ایم او کے ذریعے کر رکھی ہیںجس کو غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے ڈی جی پوسٹ نے سپلٹ اے سی کی خریداری پر چار لاکھ 93 ہزار روپے خرچ کردیئے یہ خریداری من پسند تاجروں سے کی گئی جو رجسٹرڈ بھی نہیں تھے اور اے سی مہنگے داموں خریدا گیا ہے جس میں بھاری کرپشن کا شک ہے۔ پاکستان پوسٹ کے کرپٹ مافیا نے محکمہ کے نئے منصوبوں کی فزیبلتی رپورٹ تیار کرنے اور کوریئر سروس کو بہتر بنانے کیلئے بھاری تنخواہوں پر کنسلٹنٹ بھرتی کئے تھے جبکہ کنسلٹنٹ معین عباس کو درخواست نہ دینے کے باوجود بھرتی کر رکھی ہے باقی کنلسٹنٹ میں قمر زیدی‘ نوید اعوان‘ روشن اختر‘ عبدالستار خان‘ عبدالصمد صدیقی اور خرم شہزاد چغتائی شامل ہیں۔معین عباس کے بارے مین علم ہوا ہے کہ وہ ڈی جی پوسٹ کے قریبی ساتھیوں مین سے ایک ہیں جن کو غیر قانونی طریقہ سے لاکھوں روپے ادا بھی کئے گئے ہیں۔ دی جی پوسٹ نے پلانٹ گارڈن ‘ پلانٹ مشینری ‘ فرنیچر اور سٹیشنری کی خریداری پر 77 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کمپنیوں سے لاکھوں روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی بھی نہیں کی گئی جبکہ ساڑھے نو لاکھ جی ایس ٹی کاٹا گیا ہے۔ اس پوری کرپشن میں محکمہ پوسٹ کے شعبہ فنانس کے ڈائریکٹر اور ایڈمن شعبہ کے ڈائریکٹر لیول کے آفیسر شامل ہیں جنہوں نے محکمہ میں کرپشن کا نیا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وفاقی سیکرٹری محکمہ پوسٹ مسٹر جمالی نے آن لائن کو بتایا کہ کرپٹ مافیا کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج مستقبل قریب میں دیکھیں گے اور تمام خریداری کی از سر نو تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں