12خود کش حملہ آور گرفتار، ان 12حملہ آوروں میں سے 9کا تعلق کس اہم ملک سے ثابت ہوا؟ عمران خان کا حیرت انگیز انکشاف

  اتوار‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2018  |  20:02

کراچی (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں امن وامان کا قیام ہے۔ امن کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔ وفاقی، صوبائی اور سیکورٹی ادارے رابطوں کے نظام کو مزید بہتر بنائیں تاکہ ملک میں امن وامان کی صورت حال میں مزید بہتری آسکے۔ وفاقی حکومت امن وامان کے قیام میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔اتوارکو اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کراچی میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں عمران خان کو کراچی سمیت سندھ کی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں دہشت گردی، غیرقانونی ہتھیاروں کے خاتمے، اسٹریٹ کرائمز اور اور سیف سٹی پروجیکٹ سمیت دیگر اہم امور پرغورکیا گیا۔وزیرِ اعظم نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز اور بچوں کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا۔۔ اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں سعید، چیف سیکریٹری میجر ر(ر) اعظم سلیمان ،کمشنر کراچی صالح فاروقی، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید، آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام، سیکریٹری داخلہ عبدالقادر قاضی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری،سیکریٹری داخلہ،ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے وزیراعظم کو امن وامان سے متعلق صورت حال پر مکمل بریفنگ دی۔ ڈی جی رینجرز نے وزیراعظم کو کراچی آپریشن میں رینجرز کے کردار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ کراچی میں اسلحہ درآدم خیل سے آتا ہے اور بیشتر خودکش حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہے۔نو منتخب وزیراعظم نے اپنے پہلے دورہ کراچی میں انٹیلی جنس حکام سے دوران بریفنگ استفسار کیا کہ کراچی میں اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟انہوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟۔ذرائع کے مطابق اعلی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی حکام نے وزیراعظم کوبتایاکہ گرفتار 12 خود کش حملہ آوروں میں سے 9 کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔ دوران بریفنگ حکام نے بتایاکہ عدالتوں سے ملزمان کو سزائیں ملنے کا تناسب بہت کم ہے۔سیکیورٹی حکام کی جانب سے درہ آدم خیل کی اسلحہ مارکیٹ کو ریگولرائز کرنیکی بھی تجویزپیش کی گئی۔سندھ کے نئے آئی جی پولیس کلیم امام نے بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کو بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں اسٹریٹ کرائمز میں ملوث 18 گینگز کا خاتمہ کیا ہے اور32سے زائد کرمنلز کو گرفتار کیا گیا ہے۔آئی جی سندھ نے دعوی کیا کہ کراچی آپریشن سے جرائم میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کرمنلز کی گرفتاریاں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کی گئی ہیں۔وزیرِ اعظم نے اجلاس میں آئی جی سندھ کو امن و امان خراب کرنے والےعناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کے خلاف آزادانہ کارروائیوں کے لیے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس میں افسران میرٹ پر لائے جائیں۔ انھوں نے فورسز کی قربانیوں کی بھی تعریف کی۔عمران خان نے ماضی کی ٹارگٹڈ آپریشن کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن اور ٹارگٹڈ ترقی حکومت کا وژن ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیکیورٹی حکام کی قربانیوں،رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کی بدولت کراچی میں امن و امان کا قیام عمل میں آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور معاشی حب میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیام امن کے بغیر ملک میں معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں امن وامان کے مستقل قیام کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی ہرممکن مدد کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور سیکورٹی ادارے باہمی رابطوں کے نظام کو بہتر بنائیں۔ رابطوں کے نظام میں بہتری سے ملک میں امن وامان کی صورت حال میں مزید بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کراچی میں امن قائم کرنے میں رینجرز، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

موضوعات: