عرب اسرائیل جنگ جب پاک فضائیہ کے شاہین یہودی ریاست پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑے، 65کی جنگ ستمبر کے ہیرو پائلٹ اعظم نے اسرائیلی صدر کی رہائشگاہ کو راکٹوں سے اڑا دیا، اسرائیلی آج بھی وہ وقت یاد کر کے کیوں کانپ اٹھتے ہیں؟

  جمعرات‬‮ 6 ستمبر‬‮ 2018  |  13:38
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاک فضائیہ کی تاریخ جنگی کارناموں سے بھری پڑی ہے یہی وجہ ہے کہ تابناک ماضی رکھنے والی پاک فضائیہ پاکستان دشمنوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ پاک فضائیہ کی مہارت اور قابلیت کے گواہ ایوب خان کی ڈائری کے وہ اوراق ہیں جو پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بہادری کی گواہی آج بھی دے رہے ہیں۔یہ عرب اسرائیل جنگ کے دن تھے ،پاک فضائیہ کےپائلٹوں کو عربوں کی مدد کیلئے بھیجا جا چکا تھا، جنگ زوروں پر تھی، جنگ کی خبریں موصول ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ ایوب خان کی 1967میں لکھی گئی ڈائری میں دس جون کی ایک تحریر میں درج ہے کہ ’’عمان سے خبر آئی ہے کہ اردنی فضائیہ کو فراہم کئے گئے ہمارے دو پائلٹ بخیریت ہیں۔ان میں سے ایک نے دشمن کا ایک طیارہ مارگرایا اور دوسرے کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرے پائلٹ نے شاہ حسین کے محل پر اسرائیلی بمباری کے بعد اسرائیلی صدر کی رہائش گاہ پر راکٹ فائر کیے۔ ہم نے اپنے متعدد پائلٹ اردن بھیجے ہیں لیکن وہ جدہ میں رکے ہوئے ہیں کیونکہ اردن جانے کی فضائی سہولت معطل ہے۔ اردن نے پیغام بھیجا ہے کہ انہیں اب پائلٹ نہیں چاہییں کیونکہ ان کی پوری فضائیہ ختم ہوگئی ہے۔ بارہ جون 1967کو ایوب خان ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ’’عمان سے آنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق ہمارے ایک پائلٹ اعظم نے تین اسرائیلی طیارے تباہ کیے اور ایک کو نقصان پہنچایا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ وہی پائلٹ ہے جس نے پینسٹھ کی لڑائی میں دو بھارتی طیارے تباہ کیے اور اسے ستارۂ جرات سے نوازا گیا ۔جنگ و جدل میں اللہ کی نصرت مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے اور انہیں تائید غیبی حاصل ہوجاتی ہے ۔قرآن و حدیث میں غزوات و اسلامی جہاد کے دوران ایسے واقعات کی صداقت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے فرشتے اہل ایمان کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہوئےاور یہ سلسلہ کبھی معطل نہیں ہوا ۔اسکا ایک بڑا ثبوت بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگوں کے دوران متعدد بار ملا ہے جب بھارت کی بھاری بھرکم فوج کے مقابلے میں پاک فوج کے ایمان صفت سرفروشوں کو تائید غیبی سے مدد ملتی رہی اور انہوں نے دشمن پر غلبہ پاکر نصرت حاصل کی ۔جنگ ستمبر 1965میں کئی ایسے روحانی واقعات رونما ہوئے جن کے راوی خود بھارتی فوجی و حکام بھی ہیںجبکہ ان واقعات کو متعدد کتب و جرائد میں حوالوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔جنگ ستمبر پر اس وقت کے مقبول ترین اخبار روزنامہ کوہستان ،روزنامہ جنگ اور روزنامہ امت میں ان واقعات پر باقاعدہ تحقیقاتی مضمون بھی شائع ہوئے ۔ ممتاز مفتی نے اپنی کتاب ”لبیک“ میں لکھاہے ” جب 1965ءکی جنگ شروع ہوئی تو مسجد نبویﷺ میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں نے رسول اللہ ﷺ کیزیارت فرمائی اور دیکھا کہ حضور ﷺ جنگی لباس میں اصحاب بدر کے ساتھ پاکستانی فوج کی مدد کیلئے تشریف لے جارہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ پاکستان پر حملہ ہوا ہے ہمیں اس کا دفاع کرنا ہے“۔ایک رپورٹ کے مطابق 1965 کی جنگ میں رونما ہونے والے روحانی واقعات میں پاک فوج کو غیبی مدد ملتی رہی ۔روزنامہ کوہستان نے دس ستمبر 1965 کے روز لکھا کہایک شخص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خواب میں دیکھا کہ وہ مجاہدین میں اسلحہ تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہفت روزہ قومی دلیر نے آٹھ ستمبر 1965 کی اشاعت میں لکھا کہ ایک دربار کے ایک مجاور نے کہا کہ جس دن رات کو پاکستان پرحملہ ہوا ہے گنبد کے اندر سے "حی علی الجہاد "کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ روزنامہ جنگ نے چوبیس ستمبر 1965 کی اشاعت میں بیان کیاکہ 2 فوجیوں کا بیان ہے کہ انہیں بزرگوں پر اعتقاد نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنی آنکھوں سے سیالکوٹ کے محاذ پر ایک بزرگ کو گھوڑے پر سوار ہو کر لڑتے دیکھا۔ ان کی سیف( یعنی تلوار) پر لکھا تھا۔شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ۔ اس قسم کے متعدد واقعات مشہور ہیں۔روزنامہ جنگ نے ہی 12 اکتوبر 1965ءمیں یہ واقعہ بیان کیا کہ پاکستان افواج نے اللہ اکبر ،یارسول اللہﷺ اور یا علیؓ کے نعر ے لگاتےہوئے بھارتی ٹڈی دل فوج کو بری طرح شکست دی ہے۔جبکہ اس معرکہ میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم (مع اولیاء کرام) اپنے مجاہدوں کے سروں پر موجود تھے۔جنگ ستمبر کے روحانی واقعات پر محقق ڈاکٹر تصور حسین نے اپنے کالم میں یہ لکھا تھا کہ جنگ کے دوران پاک فوج اور پاکستانیوں نے تو روحانی امداد کا نظارہ کیا ہی تھالیکن بھارتی فوجیوں نے خود اپنی نظروں سے اپنے حملوں کو ناکام ہوتے دیکھا تھا ،جنگ میں قید ہونے والے بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب ہم بارودی گولہ پاکستان کی حدود میں پھینکتے تو وہ گولہ کوئی سفید لباس میں ملبوس فورس ہاتھ میں پکڑ کر واپس ہماری طرف پھینک دیتی ،جب تک وہ گولہ اس سفید لباس والے جوانوں کے ہاتھ میں رہتا تو وہ نہ تو پھٹتااور نہ ہی کسی قسم کا نقصان کرتا،مگر جیسے ہی وہ فولادی جوان واپس ہماری طرف پھینکتے تو وہ فوراً پھٹ بھی جاتا اور ہمارا بہت بڑا نقصان بھی کر جاتا،ایسی مخلوق سے ہمارا جانی، اور فوجی سازوسامان کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا۔جس سے ہماری ہمت ٹوٹ گئی، ہمارے حوصلے پست ہوگئے، ہمارے جوانوں میں خوف ، ڈر اور دہشت بیٹھ گئی تھی “ پاک فوج کی پوری دنیا میں مہارتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اسکی ایک بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ جنگ ستمبر کے بعد عالمی مبصرین نے بھی ان کے اندرغزوہ بدر کے مجاہدوں کے جذبہ کو دیکھا تھا اور ایسی فوج سے جیتنا آسان نہیں۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاک فوج میں مومنانہ شجاعت اور ایمان بالیقین بدرجہ اتم موجود ہے ۔

موضوعات:

loading...